Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملیاں اور حماس کا حملہ

مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملیاں اور حماس کا حملہ نسل پرست یہودیوں کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر مچائی جانے والی ت...

مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملیاں اور حماس کا حملہ

نسل پرست یہودیوں کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر مچائی جانے والی تباہی و بربادی نے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ کہ حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو کیا گیا حملہ کس حد تک درست تھا۔ دو ملکوں، ریاستوں، یا پھر گروہوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کے دوران کچھ ایسے پہلو ہوتے ہیں جو شکست کو فتح اور فتح کو شکست میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اس کا انحصار کسی ایک فریق کی جنگی مہارت اور منصوبہ بندی کی دسترس پر ہوتا ہے۔جیسے رسد، کمیونیکیشن، پانی کے ذخائر، سویلین آبادی کا تحفظ سمیت کسی بھی ہنگامی صورت حال کے پیش نظر محفوظ واپسی کا راستہ۔ اس تحقیقی تجزیے کا مقصد نہ تو کسی پر تنقید، نہ کسی کی جدوجہد پر شک کا اظہار اور نہ ہی کسی کی دل آزاری کرنا مقصود ہے۔ بلکہ جذباتیت کو ایک طرف رکھ کر احتساب کے نقطہ نظر سے تحریر کیا ہے۔ تاکہ پیش آئندہ کسی بھی ایڈونچر سے قبل اس کے منفی و مثبت پہلوؤں کا جائزہ لے لیا جائے۔ مجاہد اعظم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملیوں کا مطالعہ کیا تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ حماس کے حملے کو درست کہو یا پھر؟۔ لہذا میں نے اس کا فیصلہ معزز قارئین پر چھوڑ دیا۔ شوال 5 ہجری کو مشرکین مکہ نے مدینۃ المنورۃ پر حملہ آورہونے کے لیے دس ہزار کا لشکر تیار کیا۔جب مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی۔ تو آپ ﷺنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ساتھ مشاورت و حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورہ پر شہر کے ارد گرد (شہر کے اندر نہیں) ایک خندق کھدوائی۔اس جنگ کا سب سے اہم پہلو جو جنگی حکمت عملی کے تحت آپ ﷺنے اپنائی تھی۔ عورتوں، بچوں، مویشیوں اور قیمتی سامان کو ایک قلعہ میں (محفوظ) کر دیا اور یہاں پر مستقل پہرہ بٹھا دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ
آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ تاکہ جنگ کے دوران دشمن اس پہلو پر حملہ کر کے آپ ﷺ کا رخ اس طرف مبذول کروا کر جنگ کی بساط نہ پلٹ دے۔ درحقیقت دوران جنگ دونوں فریقوں کا یہ حساس پہلو سمجھا جاتا ہے۔ لہذا سب سے پہلے جنگی حکمت عملی کے تحت حساس پہلو کی حفاظت کا بندوبست کیا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ جنگ کے دوران جب دشمن کو اندازہ ہوا کہ مسلمانوں سے مقابلہ آسان نہیں۔ تب دشمنوں کا ایک آدمی ا س طرف کو آیا جہاں خواتین، بچے و مال مویشی تھے، تاکہ جائزہ لے سکے کہ ان پر کیسے حملہ کیا جا سکتا ہے؟ تاکہ جنگ کے نتائج کو اپنے حق میں کیا جا سکے۔ اتفاق سے آپ ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا  نے دشمن کو دیکھ لیا اور ایک بڑا لکڑی کا لٹھ اٹھا کر اس کے سر پر اتنی زور سے مارا کہ اس کا سر تن سے جدا ہو گیا۔ آپ نے اس ملعون کا سر کاٹ کر قلعے کے نیچے پھینک دیا۔ جس سے ملعون یہودی خوف زدہ ہو گے۔ انہوں نے سوچا کہ شاید یہاں بھی کچھ مجاہدین ہوں گے۔ اس طرح وہ حملہ کرنے سے باز رہے۔

اسی طرح احد کا معرکہ شروع ہونے سے قبل مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی حکمت عملی کے تحت 50 تیر اندازوں کو تزویراتی اہمیت کی حامل جگہ جبل رماۃ پر تعینات کر دیا۔ اور حکماََ کہا کہ جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو آپ نے اس جگہ کو نہیں چھوڑنا۔ جب مجاہدین معرکے میں سرخرو ہوئے تو پہاڑی پر موجود تیراندازوں نے سوچا کہ جنگ تو جیت لی اور دشمن بھی شکست کھا کر بھاگ گیا۔ تب40 تیر انداز جبل رماۃ سے نیچے اتر آئے۔ دشمنوں نے دیکھا کہ مجاہدین نے strategic اہمیت کا پہلو خالی چھوڑ دیا ہے۔ تب بھاگتے ہوئے دشمن نے واپس پلٹ کر مجاہدین اسلام پر حملہ کر دیا۔ ایک غلطی کی اتنی بڑی قیمت ادا کرنا پڑی کہ جیتی ہوئی جنگ ہار گے اور کئی کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے شہادت پائی۔ حتیٰ کہ مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی زخمی ہوئے۔ دو ہجری ماہ رمضان میں حق وباطل کے فیصلہ کن معرکے میں مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شہر سے باہر 80 میل کے فاصلے مقام بدر میں پہنچ کر اصحاب سے مشاورت کے بعد جنگی حکمت عملی کے تحت کچھ اقداما ت کیئے۔ پانی کے چشموں کے قریب اونچی جگہ پر پڑاؤ کیا۔ کیونکہ انہی چشموں سے کفار کو پانی جاتا تھا۔ لڑائی کے دوران سورج کو اپنے پیچھے رکھا تاکہ دوران جنگ سورج کی روشنی کفار کی آنکھوں میں پڑے۔

مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی strategic سے معلوم ہوا کہ کسی بھی دشمن کے مقابلے پر اترنے سے قبل اپنے حساس پہلو، پشت اور جنگی اہمیت کی حامل جگہوں کو محفوظ بنا لیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ سات اکتوبر کو ہونے والے حملے سے قبل کیا حماس نے سویلین آبادی کے تحفظ کے لیے اقدامات کئے؟ بد قسمتی سے نہیں۔ جس کا خمیازہ آج اہل غزہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ زخمیوں کے لیے ادویات نہیں، ہسپتال و شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ پینے کا پانی نہیں، زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے ایندھن و بجلی نہیں۔ دشمن پر یہ کیسا حملہ تھا کہ محض 7ہفتوں کے دوران 6 ہزار معصوم کلیوں، 4 ہزار خواتین سمیت 14 ہزار سے زائد نہتے مسلمان قربان کر دیئے گئے۔ ساڑھے چار ہزار بچوں سمیت 7 ہزار سے زائد لاپتہ افراد ہزاروں ٹن ملبے تلے تڑپ تڑپ کر جان آفریں کے سپرد کر رہے ہیں 35 ہزار زخمیوں میں 70 فیصد بچے ہیں۔ تو کیا اس بھیانک صورت حال کے تناظر میں سات اکتوبر والا حملہ دانش مندی تھی یا پھر؟؟؟۔ جنگوں یا کمانڈو آپریشنز کی تاریخ میں کسی ایسے حملے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جاری ہے۔

The post مجاہد اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی حکمت عملیاں اور حماس کا حملہ appeared first on Naibaat.