Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

شیک ہینڈ، حکیم اجمل خان کے مطلب سے

شیک ہینڈ، حکیم اجمل خان کے مطلب سے آج سوچا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ، میاں صاحب کا دورہ بلوچستان، ایک صحافی کی عمران نیازی سے مقتدرہ سے ڈیل،...

شیک ہینڈ، حکیم اجمل خان کے مطلب سے

آج سوچا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ، میاں صاحب کا دورہ بلوچستان، ایک صحافی کی عمران نیازی سے مقتدرہ سے ڈیل، آصف زرداری کی مصلحت پسندی (جس کی بھینٹ پیپلز پارٹی چڑھ چکی) جماعت اسلامی کا پیپلز پارٹی کی طرز سیاست کی طرف یوٹرن، استحکام میں پاکستان کا نیا قیام پاکستان، ق، ن، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، تحریک ہائے اسلامی (اسلامی ٹچ) پایہ تکیمل کو پہنچ چکے اور کچھ جلد پہنچ جائیں گے۔ اپنے قارئین کو ایک بات پھر تاریخ کے پوسٹ مین کا کردار ادا کرتے ہوئے چند واقعات کی بدولت چند حکماء سے ملاقات کراتے ہیں آج کل تو ڈاکٹر 5000 روپے فیس لے کر پانچ منٹ بات نہیں کرتے۔ چلیے شعبہ طب میں زیادہ دور نہیں بس سو سال کے اندر اندر اپنے اسلاف کی طرف تو پہلے شیک ہینڈ کی بات کر لیں۔

یہ جو آج کل ہر بچہ ہر بڑے سے بڑھ بڑھ کر ہاتھ ملاتا ہے اور خود بچوں کے والدین یا بڑے بچوں سے کہتے ہیں ”انکل سے ہاتھ ملاؤ“ ”شیک ہینڈ“۔ یہ بات پہلے کبھی نہیں تھی۔ دستور یہ تھا کہ بچوں کو صرف یہ سکھایا جاتا تھا کہ بڑوں کو سلام کرو۔ چاہے وہ جواب دیں یا نہ دیں۔ ہاتھ بڑے بھی آپس میں کم ہی ملاتے تھے۔ اور لوگ بغل گیر ایک دوسرے سے صرف عید، بقر عید پر ہوتے تھے، یہ نہیں کہ ڈیفنس فیز 5 سے فیز 6 آئے تو آپ کو گلے ملنے کا حق حاصل ہو گیا۔ لوگ اس وقت گلے ملتے تھے جب حج کر کے آتے تھے۔ بچے کے سلام کا جواب با قاعدہ دینے والوں میں تب مولانا شوکت علی، خواجہ حسن نظامی اور مولانا حسرت موہانی تھے۔ بلکہ کبھی کبھی تو یہ بزرگ بچوں کو سلام کرنے میں سبقت سے کام لیتے تھے تاکہ بچوں کو یاد رہے کہ سلام کرنا کتنا ضروری ہے۔ ان بزرگوں کی دوسری حد مولانا ابوالکلام آزاد تھے جو کسی کے سلام کا جواب دیتے تھے نہ ہاتھ ملاتے تھے، سلام کرنے کی تو اُن سےکوئی توقع ہی نہیں کر سکتا تھا۔ یہی حال کم و بیش علامہ راشد الخیری کا تھا اور اس کی وجہ تکبر یا علمی تبحر ہرگز نہیں تھا بس یہ حضرات گُم سُم رہتے تھے، اپنے خیالات میں، ہر وقت کچھ سوچتے رہتے تھے۔ ایسے مراقبے میں کہ اُنہیں پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کون آیا اور کون گیا اور کسی نے انہیں سلام کیا یا نہیں۔ مولانا عبدالحلیم شرر لکھنوی کی طرح یہ سلام کے معاملے میں حساس نہیں تھے۔ یہی حال بلی ماران کے حکیموں کا تھا۔ اگر وہ ہر مریض کے باہر آنے جانے والے کے سلام کا جواب دیتے اور ہاتھ ملاتے تو علاج کیسے کرتے۔ شریف خانی حکیموں میں سے حکیم محمد احمد خان صاحب جو حکیم اجمل خاں صاحب والی ”شریف منزل“ ہی میں مطب کرتے تھے اور رہتے تھے۔ جب ڈیوڑھی میں ان مریضوں کو دیکھنے آتے جو مطب میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے۔ جیسے دھنیے، جُلاہے، بھنگی، چمار، سقے، بھٹیاریے اور اسی قبیل کے اور لوگ تو حکیم صاحب کو سلام کرتے کرتے دہرے ہو ہو جاتے لیکن حکیم محمد احمد خاں صاحب ان کی کورنش کو خاطر میں لائے بغیر نسخہ نویسوں سے اُن کے لیے بُھن سے کچھ کہتے اور نسخہ نویس نسخے لکھ لکھ کر انہیں دوائیں بتاتے جاتے۔ حکیم محمد احمد خان صاحب، حکیم محمد اجمل خان صاحب کے پوتے حکیم محمد نبی جمال سویدا کی طرح زیادہ تر امراض کا علاج مرکبات کے بجائے مفردات ہی سے کرتے۔ بس ایک دوا۔ زیادہ سے زیادہ ایک پیسے یا دو پیسے کی۔ اگر اس دوا کے ساتھ کسی قیمتی غذا کی ضرورت ہوتی۔ جیسے پھل یا مرغی کا شوربا وغیرہ جو ان غریبوں کی حیثیت سے زیادہ ہوتا تو دس دس پانچ پانچ روپے بھی ان مریضوں میں تقسیم کراتے۔
اب تھوڑی طب کی بات ہو جائے۔

ایک دفعہ ایک بھنگی نے ڈیوڑھی میں حکیم محمد احمد خان صاحب کے پیر پکڑ لیے اور کہا حکیم صاحب پیٹ میں آگ لگ رہی ہے۔ بھوک ہے نہ پیاس۔ حکیم محمد احمد خاں صاحب نے کہا کتے کا گوشت کھاؤ۔ سب کو حیرت ہوئی کہ یہ کیا علاج ہوا۔ لیکن چونکہ حکیم صاحب کا حکم تھا۔ اس لیے کتے کا گوشت اس بھنگی کو کھلایا گیا۔ یہ گوشت کھاتے ہی اُسے قے ہوئی اور قے میں گوشت کے ساتھ چمٹی ہوئی چچڑیاں نکلیں جو شاید وہ پانی کے ساتھ پی گیا تھا۔ وہ چچڑیاں پیٹ میں جا کر اس کی انتڑیوں میں چمٹ گئی تھیں اور جیسے ہی کتے کا گوشت اس بھنگی کے معدے میں پہنچا وہ اس مریض کی انتڑیوں کو چھوڑ کر اپنی محبوب غذا کتے کے گوشت پر لپکیں۔

ایک دفعہ ایک جُلاہا پیٹ کے درد کی شکایت لے کر آیا تو حکیم محمد احمد خاں صاحب نے کہا کہ چنے کھاؤ چنے۔ اور جیسے ہی اس مریض نے چنے کھائے، پیٹ کا درد جاتا رہا۔ مصاحبوں نے پوچھا، پیٹ کے درد میں چنے؟ حکیم صاحب نے کہا یہ جُلاہا تھا۔ ان لوگوں میں شادی بیاہ میں شکرانہ ہوتا ہے۔ شکرانہ، چاولوں کا خشکا ہوتا ہے جس پر لوٹے کی ٹونٹی سے گھی ڈالا جاتا ہے اور پھر بھر بھر کر پیالے شکر۔ اور یہ گھی اور شکر ان اُبلے ہوئے چاولوں پر اس وقت تک ڈالی جاتی ہے جب تک مہان دونوں ہاتھوں سے بس بس نہ کرنے لگے۔ چنانچہ حکیم صاحب نے بتایا کہ یہ جُلایا زیادہ گھی کا شکرانہ کھا کر آیا تھا۔ یہ گھی اس کی آنتوں میں بیٹھ گیا تھا۔ چنوں نے جا کر وہ گھی جذب کر لیا اور پیٹ کا درد جاتا رہا۔ یہ سارے بلی ماروں کے حکیم، طبیب سے زیادہ قیافہ شناس تھے۔ مریض کی نبض ہی نہیں دیکھتے تھے، اس کی حیثیت اور شخصیت بھی دیکھتے تھے۔

ایک دفعہ کام کاج سے بھاگا ہوا ایک چمار آیا اور کہا: حکیم صاحب! میرے سر میں درد ہے حکیم محمد احمد خاں صاحب نے فرمایا ”جوتے لگاؤ اس کے سر پر۔ دردِ سر شرفا کی بیماری ہے۔ تیرے بغل گند ہوتی، کوئی گندہ ناسور ہوتا۔ گاگن ہوتی تو میں علاج کر دیتا۔ سر کا درد اور چمار، کیا معنی۔ اس کے نطفے میں فرق معلوم ہوتا ہے۔ لے جاؤ باہر، اور لگاؤ اس کے سر پر جوتے“۔

گویا کام چوروں، ناہلوں اور نا موافق پیشوں میں گھس بیٹھیوں کا علاج بھی بتا دیا۔

The post شیک ہینڈ، حکیم اجمل خان کے مطلب سے appeared first on Naibaat.