Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

من مانیاں

من مانیاں اقتدار کی کرسی کی اتنی کشش ہوتی ہے جیسے ہی اُس کرسی پہ کوئی بیٹھتا ہے تو وہ اپنی ہی کی ہوئی باتیں بھول چکا ہوتا ہے کہ عوام کو کون...

من مانیاں

اقتدار کی کرسی کی اتنی کشش ہوتی ہے جیسے ہی اُس کرسی پہ کوئی بیٹھتا ہے تو وہ اپنی ہی کی ہوئی باتیں بھول چکا ہوتا ہے کہ عوام کو کونسے حسین خواب دکھا کر اس کرسی تک پہنچا ہوں۔ اور عوام اُنہی وعدوں کو پورا ہو جانے والے لمحوں کو 5سال تک ڈھونڈتے رہتے ہیں اور سیاستدان اپنی من مانیاں اور اپنے اہداف کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ ٹھیک اُسی طرح جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے وعدے وعید کیے اور وزیر اعظم کی کرسی پہ بیٹھتے ہی وہ بھول گئے اور عوام آج تک اُن وعدوں کو پورا ہونے کے وقت کو تلاش کر رہے ہیں۔

وعدہ تو وزیر اعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کا بھی کیا۔ عمران خان صاحب بات تو ریاست مدینہ کی کرتے ہیں مگر ریاست مدینہ کیسی ہوتی ہے یہ شاید اُن کو معلوم نہیں کہ ریاست مدینہ میں تو کوئی شخص بھوکا نہیں سونا چاہیے مگر روز بہ روز اس ہوشربا بڑھتی ہوئی مہنگائی نے تو عوام سے عزت کی روٹی بھی چھین لی ہے۔ میں ریاست مدینہ کی مزید بات کرنے سے پہلے اپنے قارئین کو تھوڑا ماضی میں لے جانا چاہوں گی۔

قیام پاکستان کے بعد یہاں بنیاد پرست جماعتیں مقبول تھیں اور نہ ہی یہ موثر طاقتیں تھیں۔ مگر جیسے جیسے پاکستان میں جمہوری ادارے کمزور ہوئے جمہوریت کے بجائے آمرانہ شخصی نظام حکومت مستحکم ہوا۔ تو ویسے ویسے سیاست میں عوام کی شرکت ختم ہو گئی چند طبقے حکومت اور ریاست کے تمام ذرائع پر قابض ہو کر ان سے فائدہ اُٹھانے لگے جبکہ عوام کے لیے جہالت، غربت اور بیماریوں کے نہ حل ہونے والے مسائل چھوڑ دئیے۔

1971کے انتخابات میں عوام نے ذوالفقار علی بھٹو کو روٹی، کپڑا اور مکان، کے نام پر ووٹ دیا مگر بھٹو سوشل ازم عوام کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنے اقتدار کی جڑیں مضبوط کرنے میں مصروف رہے۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے بھٹو نے بنیاد پرستی کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اس کی جڑوں کو مضبوط بھی کیا۔ ایک کام کا کریڈٹ جو بھٹو کو ملتا ہے وہ 1973 کے دستور میں اسلامی دفعات، احمدیوں کو جمہوری طریقے سے غیر مسلم قرار دینے اور معاشرے کو اسلامی بنانے کے لیے جمعہ کی چھٹی، تعلیمی اداروں میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو لازمی قرار دینا، امام کعبہ کو بلوا کر اس کے پیچھے لوگوں کو نماز پڑھوانا۔ اور قرآۃ کانفرنسوں کا انعقاد یہ سب اُس دور کی یادگاریں ہیں۔

اگر ہم اُس دور کو بنیاد پرستی سے جُدا کرکے دیکھیں تو ایک اسلامی معاشرے کی جھلک تو یقیناً دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہم موجودہ دور کو دیکھیں تو ہر چیز اُلٹ دکھائی دے رہی ہے۔ جس میں آج بچوں کے نصاب میں اسلامیات درست رہی اور نہ ہی مطالعہ پاکستان۔ آج ہمارے بچے تاریخ سے بالکل کٹ چُکے ہیں۔ کسی بھی قوم کو تباہ کرنا ہو تو پہلے اُنہیں کھوکھلا کیا جاتا ہے حقائق سے دور رکھ کر اور وہ ہدف ملک دشمن عناصر  نے پورا کر لیا ہے اور اُس کو پورا کرنے کے لیے ہمارے حکمرانوں نے کردار ادا کرکے آسان کر دیا۔

معاشرے کو اسلامی بنانے کا جو عمل بھٹو نے شروع کیا تھا اس کو ضیاء حکومت نے آگے بڑھایا۔حدود قصاص، دیت، زرعی اصلاحات کا خاتمہ اور شرعی عدالتوں کا قیام اس سلسے کی کڑیاں ہیں۔یہ تو میں بات کر رہی تھی ماضی کی۔ اب آتے ہیں موجودہ دور میں ریاستی مسائل پہ بات کریں تو یاد رہے کہ ریاست اداروں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ آج ہم کسی بھی ادارے کو کھول لیں تو کوئی بھی ادارہ آئینی یا قانونی لحاظ سے دیکھیں تو وہ اپنا کام صحیح سے سر انجام نہیں دے پا رہا۔ ہر دور بد سے بدتر ہوتا چلا جا رہا ہے کیونکہ سیاستدانوں کی من مانیوں اور اُن کے لالچ نے آج ریاست اور ریاستی اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے جتنے بھی وعدے کیے اگر ہم اُن کا موازنہ کریں تو اُن میں سے 10% بھی پورے نہ ہوئے۔ دو نہیں ایک پاکستان یکساں قانون کی بات کی وہ بھی سب گواہ ہیں کہ اس دور میں لاقانونیت نے اپنے سارے ریکارڈ توڑ دئیے۔

یکساں نصاب اور تعلیمی ریفارمز کی بات کرتے تھے نصاب کے ریفارمز تو ایک طرف پہلے سے بھی زیادہ حشر نشر ہو چکا ہے۔ قوم کو ہیلتھ کارڈ کا لالی پاپ اچھا دیا بجائے اس کے یہ ہیلتھ پہ اربوں خرچ کرتے قوم کو جو بار بار مہنگائی کا تحفہ دیتے ہیں بس اُسی کو کنٹرول کر لیتے۔ ان کا کوئی بھی قوم کا خطاب کھول کر دیکھیں یا اُن کے ساتھ ملکی مسائل کی یا مہنگائی کی بات کر لیں تو بس ایک کی بات کرتے تھے کہ نواز فیملی اور ن لیگ نے کرپشن کرکے ملک کا دیوالیہ کر دیا، اُن کو ہی چور، چور کے ابھی تک خطاب دے رہے تھے اور کچھ نہیں تو پھر اپنی تقاریر میں بلاول کی نقلیں اُتار لیتے جو کہ شاید اُن کے عہدے کے شایان شان نہیں ہے۔ اُن کو فکر کرنی چاہیے عوام کے مسائل جو ان کے آنے سے بڑھے ہیں خصوصاً جو مہنگائی کی ہے۔

یہ خود تو دوسروں کو چور کہہ رہے تھے اب ان کے لنگر خانوں اور پناہ گاہوں کی ناقابل یقین کرپشن سامنے آ رہی ہے تب دیکھتے ہیں کہ یہ کتنا لوٹا مال واپس کرتے ہیں۔

The post من مانیاں appeared first on Naibaat.