Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

گجرات سرحدی ضلع سہی مگر بڑھتے قتل۔۔۔۔۔؟

گجرات سرحدی ضلع سہی مگر بڑھتے قتل۔۔۔۔۔؟ ضلع گجرات صوبہ پنجاب کا سرحدی ضلع ہے یہاں کی بڑی تعداد بسلسلہ روزگار بیرونِ ملک ہے صوبے کے دیگر شہر...

گجرات سرحدی ضلع سہی مگر بڑھتے قتل۔۔۔۔۔؟

ضلع گجرات صوبہ پنجاب کا سرحدی ضلع ہے یہاں کی بڑی تعداد بسلسلہ روزگار بیرونِ ملک ہے صوبے کے دیگر شہروں سے زیادہ یہاں خوشحالی و آسودگی ہے ضلع کے شہروں سے لیکر دیہات میں بھی بڑے بڑے محلات ہیں سڑکوں پر دوڑتی مہنگی گاڑیاں صاحبِ ثروت مالکان کی مالی آسودگی کی عکاس ہیں یونیورسٹی سے لیکر میڈیکل کالج ہے جہا ں سے فارغ التحصیل ملک اور بیرونِ ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں لیکن چند ماہ سے اِس ضلع کو کِسی کی ایسی نظر لگی ہے کہ امن و سکون کا گہوارہ یہ ضلع تاریخی بدامنی کا شکار ہے چوریاں، ڈاکے معمول ہیں قتل کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوگیاہے جس سے ڈاکٹر، وکلا، صنعتکار اورعام آدمی سبھی بے چین ہیں لیکن جب پولیس کے معمولات پر نظر ڈالتے ہیں تو اطمینان کے سواکچھ محسوس نہیں ہوتا۔

ڈی پی او گجرات اسد مظفر یہاں دوسری مرتبہ تعینات ہوئے ہیں اُن کی پہلی تعیناتی کے دوران بھی صورتحال مثالی تو کیا تسلی بخش بھی نہیں تھی اور بڑھتے جرائم پر ہی وہ یہاں سے تبدیل ہوئے تھے لیکن تمام تر ناکامیوں۔ نالائقیوں اور نااہلیوں کے باوجود کسی تگڑی سفارش پر دوبارہ ڈی پی اوگجرات جیسے اہم منصب پر براجمان ہیں اِس میں پنجاب حکومت کی کیا مجبوریاں ہیں؟ سمجھ سے بالاتر ہیں وگرنہ تیس لاکھ آبادی پرمشتمل خوشحال ضلع میں کوئی اہل، ذمہ دار اور باصلاحیت آفیسر بھی تعینات کیا جا سکتا تھا جو گجرات کو امن کا گہوارہ بناتا اور صوبائی حکومت کی نیک نامی کا باعث بنتا لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے جائیدادوں پر قبضوں کے واقعات میں دوبارہ تیزی آگئی ہے اور یہ قبضے پولیس سرپرستی میں ہوتے ہیں آتشیں اسلحہ کی نمائش عام اور فائرنگ روز کا معمول ہے ضلع کے طول و عرض میں چوروں و ڈکیتوں کاراج ہے مگر پولیس خاموش تماشائی، ضلع میں پچیس تھانے اور اٹھائیس چوکیاں ہیں جہاں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کی ہدایات عام دی جاتی ہیں لیکن سربراہ سے لیکر ماتحت اہلکاروں کی اصل فرائض کے حوالے سے کارکردگی صفر ہے البتہ امن کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔

امن و امان قائم رکھنے میں سنجیدہ اور جرائم پیشہ لوگوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے پُرعزم پولیس آفیسر ہمیشہ نیک نام اور شرفا سے مراسم رکھتے ہیں تاکہ بدنامی کے پہاڑ نہ بنیں مگر جب قتل جیسے واقعات میں ملوث لوگ خاص رفقا میں شمار ہوں اور جیلوں سے رہا ہونے والے مجرمانہ پس منظر کے حامل لوگوں سے ہدایات لی جائیں اور خواتین کے کاروبار سے وابستہ ہمرکاب، تو امن دشمن عناصر تقویت پاتے ہیں گجرات میں ایسا ہی ہو رہا ہے سیاسی لبادہ اُڑھے گُرگے پولیس سے مل کر جائیدادیں چھینتے ہیں تھانہ ککرالی میں دوالگ الگ مقدمات نمبری 414/23 اور 435/23 کے دوران پولیس کی ملی بھگت سے دن دیہاڑے قبضے ہوئے اور جب متاثرہ فریق شکایت لیکر تھانہ گئے تو داد رسی کے بجائے پولیس نے اُلٹا انھی پر مزید مقدمات بنا دیے تنگ آکر ایک مدعی نے ناجائز تعمیر دیوار گرادی تو پولیس نے موٹر سائیکل جلانے اور گاڑی توڑنے کا مقدمہ بنا دیا حالانکہ ایسا کوئی وقوعہ سرے سے ہو اہی نہیں اسی طرح ڈب ڈالیہ میں دن دیہاڑے ضیاللہ کے مکان پر قبضہ کرنے کے دوران گھر سے قیمتی اشیا چور الی گئیں جس کی بابت پولیس کو عرض گزاری گئی تومتعلقہ تھانہ ٹانڈہ نے وقوعہ درست قرار دیتے ہوئے ڈی پی او گجرات سے اندراج مقدمہ کی اجازت طلب کی مگر اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا وجہ قبضہ گروپ کا تعلق ایک بڑے سیاسی گھرانے سے ہونا ہے یہ تو محض تین واقعات کا ذکر ہے گجرات میں ایسے واقعات معمول ہیں لیکن کبھی کسی متاثرہ کی شنوائی ہوتی علم میں نہیں آئی۔

ڈیوٹی پرجاتے کھاریاں سی ایم ایچ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ذیشان انور کوگجرات کی مصروف ترین شاہراہ پردن دیہاڑے عین 1122 دفتر کے سامنے تھانہ سول لائن کی حدود میں قتل کرنے کے بعد دونوں قاتل بڑے آرام سے ایسے راستے سے فرار ہوئے جس میں چوکی جٹووکل، تھانہ اے ڈویژن، تھانہ لاری اڈا، تھانہ صدر گجرات اور چوکی غازی چک آتے ہیں چند منٹوں میں قتل کے وقوعہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ریکارڈنگ کو سارا شہر دیکھ لیتا ہے لیکن امن و امان قائم کرنے کی ذمہ دار پولیس لا علم رہتی ہے حالانکہ بروقت ناکہ بندی سے ملزمان کو باآسانی گرفتار کیا جا سکتا تھا مقتول ڈاکٹر ذیشان انور گھر کا واحد کفیل اورچار بچوں کا باپ تھا۔ قتل کے محرکات جاننے کے لیے بھی ضروری ہے کہ کہیں بھتہ نہ دینے کی پاداش میں تو نہیں ماردیاگیاَ ؟۔

بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ایک بے گناہ اور شفیق ڈاکٹر کی ہلاکت پر ڈاکٹر کمیونٹی سراپا احتجاج ہے ابتدامیں ڈی پی او نے گرفتاری کے لیے چوبیس گھنٹے کی مُہلت لی مگر آج بارہواں دن ہے تاحال دونوں قاتل آزاد ہیں حالانکہ قاتلوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے جس میں دونوں کے چہرے واضح ہیں اُن کے فنگر پرنٹ پولیس کے پاس ہیں تنگ آکر ڈاکٹر زاہد مقصود، ڈاکٹر سعود افضل کی قیادت میں گجرات کے سرکاری اور پرائیویٹ ڈاکٹرز دھرنا دے چکے ہیں۔ ڈی پی او کسی قسم کی تسلی دینے کے بجائے رُکھائی سے کہتے ہیں جاؤ دھرنا دے لو میں دھرنا ختم کرنے پر مجبور کر دوں گا۔ گجرات جیسے پُرامن سرحدی ضلع میں بڑھتے قتل اور وارداتوں کی بھرمار پولیس کی نااہلی اور نالائقی کا نتیجہ ہے پولیس سربراہ اِس حد تک جانبدار ہیں کہ ملتے ہوئے بھی خاص و عام میں تفریق کرتے ہیں یہ رویہ عام آدمی کی پولیس سے نفرت بڑھانے کا باعث ہے۔

چنددن قبل سرائے عالمگیر میں دو ریکارڈ یافتہ افراد پولیس نے پکڑ کر ایک جعلی مقابلے میں مار دیے ابتدا میں اِس مقابلے کو بھی ایسا رنگ دینے کی کوشش کی گئی جیسے ڈاکٹر ذیشان انور کے قاتل مارے گئے ہوں مگر جب ڈاکٹرز  نے کہا کہ ہم ڈی این اے کے ذریعے تصدیق کرائیں گے تو پولیس نے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے بجائے مرنے والوں پر کچھ اور کیس ڈال دیے مقتول ڈاکٹر کے قتل کا انصاف طلب کرنے پر ڈاکٹرز سے ڈی پی او کہتے ہیں آپ ہمیں ڈی ٹریک کر رہے ہیں۔

The post گجرات سرحدی ضلع سہی مگر بڑھتے قتل۔۔۔۔۔؟ appeared first on Naibaat.