Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

دیسی جمہوریت اور ولایتی سیاست

دیسی جمہوریت اور ولایتی سیاست انسان جب ذہنی اور روحانی طور پر اطمینان اور چین کی کیفیت میں ہوتا ہے تو فطرت سے ہم آہنگ ہونے کی تمنا اُسے منا...

دیسی جمہوریت اور ولایتی سیاست

انسان جب ذہنی اور روحانی طور پر اطمینان اور چین کی کیفیت میں ہوتا ہے تو فطرت سے ہم آہنگ ہونے کی تمنا اُسے مناظر قدرت سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسے پہاڑوں، چشموں اور بدلتے موسموں کی دلکشی اچھی لگتی ہے اس کا شوق نظارہ اسے گھر سے نکلنے اور پھولوں اور گھنے درختوں سے مزین حسین وادیوں کی آغوش میں وقت گزاری پر مجبور کرتا ہے۔ میاں نواز شریف آج کل اسی کیفیت میں ہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ لانگ ڈرائیو پر گاڑی خود چلاتے ہوئے پہاڑی علاقوں اور تفریحی مقامات پر گھومنے نکلے ہوئے ہیں جس کی ویڈیو فوٹیج انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے قوم کے ساتھ شیئر کی ہے جسے خبر ناموں کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ ورنہ ہمیں تو وہ وقت بھی یاد ہے جب آپ کا پانامہ ٹرائل چل رہا تھا تو آپ ہر روز کسی نہ کسی ضلع کا دورہ فرماتے اور عوام سے خطاب کیا کرتے تھے جس پر ان کے مخالف عمران خان کہتے تھے کہ جب ہم کہتے ہیں آپ تلاشی دو تو وہ فیتے کاٹنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ میاں صاحب ان دنوں اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے ہر ضلع میں ترقیاتی فنڈز کا ڈھیر لگا دیتے تھے اور باقاعدہ ہر جگہ، ہر جلسے میں کہتے تھے کہ میں خالی ہاتھ نہیں آیا۔

میاں صاحب کی بے فکری اور ذہنی آسودگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے سیاسی حریف جو ابھی تھوڑا عرصہ پہلے ان کے سیاسی حلیف تھے وہ سخت خلفشار اور ہیجان کا شکار ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ پہلا الیکشن ہے جس سے پہلے ہی نئے وزیر اعظم کا نام لیک کیا جا چکا ہے۔ اس وجہ سے میاں صاحب کی چوتھی بار وزیر اعظم نامزدگی یا ان کی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے سفر کو غیر جانبدار ثابت کرنا ن لیگ کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جھنگ میں ن لیگی امیدوار انور بھروانہ کا وہ بیان بڑا معنی خیز ثابت ہو رہا ہے جس میں اس نے حلقے کے ناراض ووٹرز کو کہا کہ ہمیں آپ کے ووٹوں کی خاص ضرورت نہیں کیونکہ ”ساڈی گل ہو گئی اے“۔

آنے والے الیکشن کے رزلٹ کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ جہاں تک صوبائی حکومتوں کا تعلق ہے تو موجودہ سٹیٹس کو تقریباً برقرار رہے گا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہو گی جبکہ پنجاب میں ن لیگ کا راج ہو گا۔ خیبر پختونخوا شکوک و شبہات میں کیونکہ پی ٹی آئی کا زور ٹوٹ چکا ہے لیکن روایتی ووٹرز اب بھی ان کے ساتھ ہے پرویز خٹک گروپ پی ٹی آئی کو خاصا نقصان پہنچائے گاجس کا فائدہ اے این پی اٹھائے گی۔ بلوچستان کی صورتحال خاصی دلچسپ ہے وہاں ہر بار نئی صف بندی ہوتی ہے۔ وہاں کی باپ پارٹی اقتدار کی خاطر بیٹا بلکہ لے پالک بیٹا بننے میں عار محسوس نہیں کرتی۔ البتہ بلوچستان میں وہی پارٹی حکومت بنائے گی جو وفاق میں حکومت سنبھالنے کی پوزیشن میں ہو گی۔ یا ان میں سے کوئی گروپ وفاقی حکومت سے الائنس کرے گا۔ زیادہ چانسز باپ کے ہیں۔

جہاں تک قومی حکومت کی بات ہے تو یقیناً کوئی بھی پارٹی قومی اسمبلی کی 271 سیٹیں نہیں لے سکے گی جو حکومت بنانے کے لیے ضروری ہیں لہٰذا یہاں الائنس بھی ہوں گے سودے بازی بھی ہو گی ساز باز بھی ہو گی اور وہ سب کچھ ہو گا جو ہماری دیسی جمہوریت میں ہمیشہ ہوتا ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی کا ذکر ضروری ہے ساؤتھ پنجاب میں ان کا الائنس ن لیگ سے ہونا ہے اگر یہ ڈیل الیکشن سے پہلے ہوئی تو ساؤتھ پنجاب میں کلین سویپ کر لیں گے اگر ن لیگ اور آئی پی پی مقابل ہوئے تو بھی آئی پی پی سیٹیں لے گی۔ یہ پارٹی اپنے تئیں تو کچھ نہیں ہے مگر یہ جس کے ساتھ ملیں گے تو یہ وہ مٹی ہے جو سونے میں مل کر سونا بن جاتی ہے۔ ہمارے پنجاب میں ملاوٹ مافیا کیمیکل ملا دودھ جب تیار کر لیتا ہے تو انہیں اس کو سیل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ مقدار اصلی دودھ کی بھی ملانا پڑتی ہے گویا وہ دودھ میں پانی نہیں ملاتے بلکہ پانی میں دودھ ملاتے ہیں۔ آئی پی پی کی سیاست کم و بیش اس طرح کی ہے ان کے Electables کو جیتنے کے بعد کسی اصلی پارٹی کی ضرورت ہو گی۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو 20 دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے احکامات جاری کیے ہیں بصورت دیگر پارٹی کو بلے کا روایتی نشان الاٹ نہیں کیا جائے گا۔ یہاں پھر لیول پلیئنگ کی بات آجاتی ہے اگر اس طرح کے احکامات دیگر پارٹیوں کو نہیں دیے جاتے اور اس بنا پر پی ٹی آئی بلے کے نشان سے محروم ہو جاتی ہے تو یہ مقامی اور عالمی الیکشن مانیٹرنگ ایجنسیز کے لیے ایک معقول جواز ہو گا کہ وہ اس کو پری پول رگنگ کا نام دے سکیں۔ اور اگر عدالتیں اس سلسلے میں پی ٹی آئی کو ریلیف فراہم نہ کر پائیں تو پھر پی ٹی آئی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر سکتی ہے ایسی صورت میں ووٹرز ٹرن آؤٹ اگر 40 فیصد سے نیچے آجاتا ہے تو الیکشن کرانے والوں اور الیکشن جیتنے والوں کی سیاسی ساکھ کو بہت بڑا دھچکا لگے گا۔ اس صورت میں جو ووٹر ملک کے انتخابی عمل سے مایوسی کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالتے ان کا شمار بھی پی ٹی آئی میں ہو جائے گا۔

عین الیکشن کے موقع پر عمران خان کی اہلیہ بشریٰ مانیکا کے سابق شوہر خاور مانیکا پردہ سکرین پر اچانک نمودار ہو کر ایسی ایسی راز افشانی کر رہے ہیں جس کا مقصد عمران خان کو ٹارگٹ کرنا ہے۔ نجی اور گھریلو معاملات کو سیاست میں نہیں لایا جانا چاہیے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو میڈیا کو اْسے اتنی پذیرائی نہیں دینی چاہیے تھی۔ یہ اتنا ہی قابل مذمت ہے جتنی بے نظیر بھٹو کی نجی تصاویر کو جہازوں سے گرانا قابل مذمت ہوا کرتا تھا۔ اخلاقیات اور فیملی لائف کو سیاست سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ویڈیو فوٹیج جاری کرنا سیاست کا ایک اہم فیچر بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ خاور مانیکا پہلے 5 سال تک مسلسل کیوں خاموش رہے اور اگر انہوں نے خاموش رہنے کا انتخاب کیا تو پانچ سال بعد انہوں نے کس مصلحت کے تحت چپ کا روزہ توڑ دیا۔ یہ ناقابل فہم ہے۔

The post دیسی جمہوریت اور ولایتی سیاست appeared first on Naibaat.