Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

محکمہ اینٹی کرپشن اور ٹریفک پولیس کے چکر

محکمہ اینٹی کرپشن اور ٹریفک پولیس کے چکر آج کچھ متفرق باتیں۔ کسی نے درست ہی کہا ہے کچھ گرہیں ایسی ہوتی ہیں کہ جنہیں لگانے والے کو اکثر و او...

محکمہ اینٹی کرپشن اور ٹریفک پولیس کے چکر

آج کچھ متفرق باتیں۔ کسی نے درست ہی کہا ہے کچھ گرہیں ایسی ہوتی ہیں کہ جنہیں لگانے والے کو اکثر و اوقات انہیں اپنے دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے ایسا کرنے میں دانت تو زخمی ہوتے ہی ہیں، ہونٹ بھی چھیلے جاتے ہیں۔ دیکھنے والے تو خیر تماشہ دیکھتے ہی ہیں۔ تاہم سب کچھ جھیل کر اور تمام تر کاوشوں کے باوجود بھی کچھ گرہیں کھلنے سے رہ جائیں تو وہی حال ہوتا ہے جو ان دنوں پاکستان میں پراجیکٹ عمران خان شروع کرنے والوں کا ہے۔ اچھی بھلی نواز شریف کی حکومت چل رہی تھی، معیشت ڈگر پر تھی۔ نہ جانے من میں کیا سمائی کہ سب کچھ اتھل پتھل کردیا۔ خیر، دیر آئد درست آئد کے مصداق، چیزوں کو درست کرنے کا خیال جلد ہی آگیا ورنہ اگر تھوڑی دیر ہو جاتی تو یقینا پھر پچھتانے سے بھی کچھ نہیں ہونا تھا۔ ایسے میں ججوں، جرنیلوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس پر مشتمل ملک کی طاقتور اشرافیہ کے ہاتھوں ستائی ستم رسیدہ پاکستانیوں کی اکثریت کی حالات زار بدستور کچھ یوں ہی ہے:
اُداس راہیں، شکستہ آہیں، میرا مقدر، میرا اثاثہ
طویل کاوش پس سفر ہے،بہت ہی مشکل میرا اثاثہ

خاور مانیکا کا حالیہ انٹرویو خاصا چشم کُشا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ریاست پاکستان کو ریاست مدینہ میں تبدیل کرنے کے دعویدار کس قماش کے لوگ تھے۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کیسے کیسے گل کھلائے۔خیر، پراجیکٹ عمران خان کے تیار کرنے والوں کی جلد جان خلاصہ ہوتی نظر نہیں آتی۔ نفرت کی بنیاد پر پاکستانی معاشرے میں تقسیم در تقسیم کا وہ عمل وقوع پذیر ہو چکا ہے جس کی پیدا کردہ دراڑیں بہت گہری ہیں۔ آنے والی کئی دہائیوں تک نہ تو یہ دراڑیں بھر سکیں سکیں گی اور نہ ہی دلوں میں پیدا ہونے والی نفرتیں کم ہو سکیں گی۔ ایسے میں الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں صاف اور شفاف انداز میں منعقد کروانے کے دعوؤں کی قلعی کھل چکی ہے۔ بچ جانے والی پاکستان تحریک انصاف کو مکمل طور پر دیوار کے ساتھ لگایا جا چکا ہے اور اسکے ممکنہ اُمیدواروں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات یہی ہیں کہ مقتدر حلقوں نے کل کی ناپسندیدہ اور آج کی من پسند سیاسی جماعت مسلم لیگ نواز کی براہ راست سرپرستی سے معذرت کر لی ہے۔ ایک خفیہ ادارے اور محکمہ انٹی کرپشن کے ’کرتا دھرتوں‘ کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی ہے کہ وہ انتخابات میں نواز لیگ کے اُمیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ انٹی کرپشن اور پنجاب پولیس سمیت متعدد سرکاری ادارے پراجیکٹ عمران خان کی ناکامی کے بعد پراجیکٹ نواز شریف کی کامیابی کے لیے پوری تندہی سے مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ اگر ان دنوں آپ کا محکمہ انٹی کرپشن کا چکر لگے تو آپ پر یہ حقیقت آشکار ہونے میں دیر نہیں لگے گی کہ اس محکمے کو ان دنوں خوب چکر چڑھے ہوئے ہیں۔ اس کے افسران کے سانس پھولے ہوئے ہیں اور یہ سب کام چھوڑ کر صرف ایک کام کر رہے ہیں کہ نواز لیگ کی کامیابی اور تحریک انصاف کے ممکنہ اُمیدواروں کو الیکشن لڑنے سے کیسے باز رکھا جا سکتا ہے۔ ان امیدواروں کو انکے خلاف کرپشن کی انکوائریاں اور مقدمات کے اندراج کے حوالے سے کھلم کھلا ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے۔اعلیٰ افسران پنجاب بھر میں موجود اپنے ماتحتوں کو یہ ہدایات دیتے نظر آتے ہیں تحریک انصاف کے کوورنگ کنڈیڈیٹ پر بھی نظر رکھیں۔ ایسے میں انٹی کرپشن کا اصل کام کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ سرکاری اہلکاروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات اور انکوائریاں التواء کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس محکمہ کے کئی افسران و اہلکار براہ راست کرپشن میں ملوث نظر آتے ہیں۔ ان کی یہاں تعیناتی کے بعد ان کے خویش و اقارب کے اثاثوں اور بینک بیلنس میں اضافہ اسکا واضح ثبوت ہے۔

اگر کوئی کام ہورہا ہے تو وہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران ہی مسلم لیگ نواز کے درجنوں رہنماؤں کو کرپشن کے مقدمات سے بری الذمہ قراردے دیا گیا ہے اور اس طرح کئی اہم اور بڑے سرکاری افسران کے خلاف انکوائریاں اور مقدمات ڈراپ کیے جاچکے ہیں۔

اب چلتے ہیں لاہور شہر کی طرف جہاں سموگ نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ الیکشن کے دوران ترقیاتی کاموں پر مکمل پابندی ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت اور ذاتی دلچسپی کی بدولت اربوں روپے کے نئے اور پرانے ترقیاتی منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ کچھ عرصہ قبل جنرل ہسپتال لاہور سمیت سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجینسیاں اور وارڈذ اکھاڑ پھینکے گئے ہیں اور ان پر دوبارہ سے تزئیں و آرائش کا کام جاری ہے۔ متعدد اہم بریج بھی بن رہے ہیں۔ اس سے منوں دھول لاہوریوں کے پھیپھڑوں اور روپے ارباب اختیار کے جیبوں میں جارہے ہیں۔ یعنی سب کا بھلا سب کی خیر۔ اس اکھاڑ بچھاڑ میں لاہور کی ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ بیشتر شاہراہوں پر گھنٹوں ٹریفک پھنسی رہتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق روزانہ 300کے لگ بھگ حادثات ہوتے ہیں جس میں سینکڑوں افراد ہر ماہ یا تو لقمہ اجل بن جاتے ہیں یا پھر زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔لیکن ان تمام فکروں سے آزاد ٹریفک پولیس ہیلمٹ کے قانون کے نام پر اپنی کارکردگی دکھاتی نظر آتی ہے۔ ویسے سوچنے والی بات ہے کہ ٹریفک پولیس حالات کے مارے موٹرسائیکل سواروں کو دو ہزار روپے فی موٹر سائیکل جرمانہ کرکے اپنی جیب میں ڈالنے کی بجائے اگران پیسوں سے متعلقہ موٹر سائیکل سوار کو ہیلمٹ لیکر دے دیں تو شاید ان کے اس دعوے میں کچھ سچ نظر آئے کہ وہ عوام کے فلاح چاہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے یہی کہنا ہے کہ شہر میں ٹرانسپورٹ سسٹم نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈیڑھ کروڑ آبادی کے اس شہر میں طلباء کے پاس تعلیمی اداروں تک پہنچنے اور وہاں سے واپسی کے لیے موٹر سائیکل ہی سب سے اہم ذریعہ ہے۔ ایسے میں ہزارو ں کی تعداد میں ان طلباء کو گرفتار کرکے ان پر مقدمات کے اندراج کی بجائے شہر میں پہلے ٹرانسپورٹ سسٹم درست کریں۔ نہ جانے کیوں ہماری ریاست کے ارباب اختیار خود تو تمام حدود قیود سے مبرا ہیں۔ خزانے پر ہاتھ بھی خوب صاف کرتے ہیں۔تاہم عوام کو ہر وقت سزا دیکر ہی نظام کی بہتری ان کے پیش نظر کیوں ہے۔ فلاحی ریاستوں میں تو ایسا نہیں ہوتا۔

The post محکمہ اینٹی کرپشن اور ٹریفک پولیس کے چکر appeared first on Naibaat.