Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

عام انتخابات اور عوام کی توقعات۔۔۔۔۔۔

عام انتخابات اور عوام کی توقعات۔۔۔۔۔۔  اللہ درجات بلند کرے قاضی حسین احمد کے ملک میں دھرنے انہی کے دور میں شروع ہوئے انہی کے دور میں پہلی ب...

عام انتخابات اور عوام کی توقعات۔۔۔۔۔۔ 

اللہ درجات بلند کرے قاضی حسین احمد کے ملک میں دھرنے انہی کے دور میں شروع ہوئے انہی کے دور میں پہلی بار کشمیریوں کیلئے یوم یکجہتی کشمیرپر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی ان میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جب کوئی حکومت پسند نہ ہوتی یا وہ اپنی ڈگر سے ہٹ جاتی تو کہتے تھے فوج اپنا کردار ادا کرے اور جب کبھی فوج سیاستدانوں کی غلطیوں کی وجہ سے ملک پر شب خون مارتی تو قاضی صاحب فرماتے فوج بیرکوں میں واپس جائے آج قاضی حسین احمد تو دنیا میں نہیں لیکن اکثر سیاستدانوں کی شکل میں اب بھی باقیات موجود ہے جو ہر دور میں الیکشن الیکشن کا ورد کرتی چلی آ رہی ہے، عمران خان کے دور میں اپوزیشن اوربعد میں پی ڈی ایم بننے والی حکومت نئے الیکشن کا مطالبہ کرتی تھی پی ڈی ایم کے دور میں عمران خان وہی گردان کرنے لگے پی ڈی ایم جانے کے بعد انہی کے کچھ ساتھی فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے تھے صدر عارف علوی صدر پاکستان سے زیادہ مکین اڈیالہ جیل کی پارٹی کے صدرکا کام انجام دیتے رہے اور الیکشن کی تاریخ دینے کیلئے اڑیاں پھڑیاں کرتے رہے دوسری طرف الیکشن کمیشن اپنی اکڑ میں تھا جبکہ نئے الیکشن نہ ہونے سے ملکی معیشت تباہ،ہر بندہ پریشان سرمایہ کاری ٹھپ، قرض اتارنے کیلئے بھی آئی ایم ایف سے قرض لینے کیلئے ترلے کیے جا رہے تھے ن لیگ کے علاوہ تمام پارٹیاں نئے الیکشن کرانے کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی تھیں جبکہ آج حسب معمول ایک دوسرے پر لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کے الزامات لگا رہی ہیں نواز شریف کو تو لاڈلا قراردیا جارہا ہے حالانکہ پاکستان میں اب تک جتنے بھی اتحاد وجود میں آئے جتنی بھی حکومتیں بنیں ان کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جن کے بغیر کوئی لاڈلا نہیں بن سکتا دوسری طرف سپریم کورٹ نے آٹھ فروری کوانتخابات کی تاریخ پر مہر لگا دی جس کے بعد ملک بھر میں جاری شکوک شبہات دم توڑ گئے ہیں اور تمام جماعتوں نے عدالت عظمیٰ کے اس اقدام کو سراہا ہے عدالت نے فیصلہ کے وقت کہا کہ میڈیا نے انتخابات سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کیے تو وہ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے یہ پہلا موقع نہیں کہ میڈیا کی زباں بندی کی کوشش کی گئی ہو اس سے پہلے بھی ہر دورمیں قلم کاروں کاقلم روکنے کی ناکام کوشش ہوئی چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ امید ہے کسی مخالف کو گالیاں دیے بغیر پر امن انتخابات ہوں گے، انتخابات کے اعلان کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ جو جماعت بھی اقتدار کی مسند سنبھالے گی اسے کن عوامی مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرنا ہو گا اور آئندہ حکومت چیلنجز سے کیسے نمٹے گی کیونکہ ملک میں مہنگائی بے روز گاری کرپشن لاقانونیت کا راج ہے پی آئی اے سمیت متعدد سرکاری ادارے ہچکولے لے رہے ہیں، وفاقی حکومت کو جو مسائل اور چیلنجز درپیش ہوں گے ان سے قطع نظر اگر صوبوں کی بات کی جائے تو ان میں بھی سب سے بڑا مسئلہ امن وامان کا رہا ہے، صحت، تعلیم، بنیادی انفراسٹرکچر، روزگار سمیت مختلف مسائل اپنی جگہ قائم ودائم ہیں، مسائل سے کس طرح سے نمٹنا ہے آئندہ مرکز اور صوبوں کے لئے کسی چیلنج سے کم نہ ہو گا، رہ گئی بات تعلیم اور صحت کے شعبے سے متعلق مسائل کی تو ان شعبوں میں بجٹ کا ریکارڈ حصہ مختص کئے جانے کے باوجود کوئی خاطرخواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آسکی ہے ملک کے بیشتر سکولوں میں طالب علم آج بھی پینے کے پانی، چھت، بیت الخلا سمیت دیگر سہولیات سے محروم چلے آ رہے ہیں اب بھی تقریباً 2 کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، یہ تو وہ چیدہ چیدہ مسائل ہیں جو آئندہ حکومت کو درپیش ہوں گے اور جنہیں حل کرنا بہرحال حکومت کی اولین ذمہ داری ہوگی کیونکہ عوام عرصہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور مسائل کی چکی میں پستے چلے آ رہے ہیں عوام آنے والی حکومت سے اب بہت سی توقعات لگائے بیٹھے ہیں، بے روزگاری، مہنگائی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی، تعلیم، صحت اور بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کے حل کے لئے کیا کرتے ہیں یا محض دعوے اور نعرے لگا کر ہی عوام کو حسب معمول بے وقوف بناتے ہیں، فروری کے انتخابات میں بننے والی حکومت کے لئے اقتدار بہرحال پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہوگا نگران حکومت کی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی جو بات سامنے آئی ہے اور وہ خوش آئند بھی ہے کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں، کسی جماعت کو غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا اور کونسی لیول پلیئنگ فیلڈ ہے جو نگران حکومت کو یقینی بنانا ہے، ریلیوں کی تمام سیاسی جماعتوں کو اجازت ہوگی، انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ملکی معیشت بہتر ہوئی ہے سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔ روپے کی قدر میں بہتری آئی، اس سے گردشی قرضے اور معیشت پر مثبت اثرات پڑے، بیرونی قرضوں میں چار ہزار ارب روپے کی کمی ہوئی۔ اس سے افراط زر، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے یہ ملک اور قوم کیلئے نیک شگون ہے، کسی جماعت کو انتخابات سے باہر رکھ کر الیکشن نہیں لڑا جاسکتا ملکی ترقی کیلئے فروری میں نئی راہیں متعین ہونگی، الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد اب ماضی کو بھول کر آگے بڑھنا چاہئے، اب سیاسی استحکام بھی آتا نظر آرہا ہے، کئی مہینوں کے انتظار، قیاس آرائیوں اور شکوک و شبہات کے بعد بالآخر انتخابات کی تاریخ فائنل ہوگئی جس کے بعد ملک ترقی کی شاہراہ پر ایک بار پھر گامزن ہونے جا رہا ہے، 8 فروری کو الیکشن کرانے کے اعلان سے ملک میں غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹ گئے، ضروری ہے کہ تمام جماعتیں مل کر کام کریں حکومت، جو بھی بنے، کو چاہیے کہ اپوزیشن سے مل کر مسائل کا حل نکالے ورنہ سابق اور آنے والے دورمیں کوئی فرق نہیں رہے گا جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ اختلاف رائے ہونا چاہیے تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہیے آج اگر پیپلز پارٹی لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی کہتی ہے کہ ملک بھر میں کلین سویپ کریں گے تو پھر نواز شریف کو لاڈلا کس لئے کہہ رہے ہیں؟ یا یوں کہہ لیں کہ وہ قاضی حسین احمد کی یاد تازہ کر رہے ہیں کہ گل چنگی لگی تے واہ واہ نہ لگی تے تھو تھو اس بارے میں پی پی سمیت تمام سیاستدانوں کو سوچنا ہو گا؟۔

The post عام انتخابات اور عوام کی توقعات۔۔۔۔۔۔ appeared first on Naibaat.

November 08, 2023 at 07:47AM