Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

سکولوں میں چھٹیاں اور پابندیاں سموگ کا حل ہیں؟

سکولوں میں چھٹیاں اور پابندیاں سموگ کا حل ہیں؟ چار چھٹیوں اور بچوں کو تعلیم سے دور رکھ کر ہم مثبت نتائج حاصل کر پائیں گے؟ جواب ہے، نہیں۔ حک...

سکولوں میں چھٹیاں اور پابندیاں سموگ کا حل ہیں؟

چار چھٹیوں اور بچوں کو تعلیم سے دور رکھ کر ہم مثبت نتائج حاصل کر پائیں گے؟ جواب ہے، نہیں۔ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے پابندیوں یا سکول کے بچوں کی چھٹیوں کا سہارا لیتی ہے یہ ایسے ہی جیسے ٹریفک پولیس کو اس کی اصل ذمہ داری، ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے، سے ہٹا کر صرف چالان کرنے پر لگا دیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ صرف لاہور میں تقریباً 300 حادثات کا معمول بن جانے کی صورت سامنے ہے۔ سموگ میں اضافہ بھی حکومت کی اپنی نااہلی سے ہو رہا ہے۔
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں بڑی تیزی سے رونما ہو رہی ہیں کل کے ٹھنڈے ٹھار ملک گرمی کی زد میں اور گرم ترین ممالک سردی کی شدید لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے سمندر اور منجمد خطوں کو اس دور میں جتنا نقصان ہو رہا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ سمندروں کی سطح بلند، برف پگھل رہی ہے اور انسانوں کی سرگرمیاں اور نقل و حرکت کے بڑھ جانے سے بہت سی جنگلی حیات اپنے مسکن تبدیل کرنے پر مجبور ہے۔ مستقل طور پر منجمد خطوں کے پگھلنے سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کا خطرہ ہے جس سے یہ عمل تیز تر ہوتا جائے گا۔ موہوم سی امید یہ بھی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تیزی سے کم کر دیا جائے تو ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس موضوع پر اقوام متحدہ کے ’انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج‘ کی طرف سے گذشتہ بارہ ماہ میں مرتب کردہ یہ تیسری رپورٹ ہے۔ سائنسدانوں نے
گذشتہ رپورٹوں میں اس بات کا جائزہ لیا تھا کہ دنیا کا درجہ حرارت ایک اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے تو اس کا کیا اثر پڑے گا اور دنیا اس سے کیسے نمٹ سکے گی۔ تازہ رپورٹ مایوس کن اور خطرناک ہے، کہا جاتا ہے کہ درختوں کی آبیاری پر توجہ دے کر ہم کسی حد تک موسمی تبدیلیوں کے غضب سے بچ سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات اور درختوں کی تعداد خطرناک حد تک کم اور باقی ماندہ جنگلات اور درخت تیزی سے صاف کیے جا رہے ہیں، جس پر فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔
ایک بڑا درخت 36 ننھے منے بچوں کو آکسیجن مہیا کرتا ہے جبکہ دس بڑے درخت ایک ٹن ایئر کنڈیشنر جتنی ٹھنڈک پیدا کرتے ہیں اور ساتھ ہی فضائی آلودگی اور شور کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گندے نالوں کے دونوں کناروں پر لگائے گئے درختوں کی جڑیں گندے مادوں کو جذب کر کے ناگوار بو کم کرتی ہیں۔ جبکہ اس کے پتے ماحول کو صاف ہوا مہیا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کا پچیس فیصد رقبہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہونا چاہیے اس تناسب سے دیکھیں تو پاکستان کے صرف4.8 فیصد رقبے پر جنگلات میں جبکہ صوبہ سرحد میں یہ تناست 17 فیصد ہے۔ اس میں بھی 2.5 فیصد کھیتوں میں اگنے والے درختوں پر مشتمل ہے۔ جنگلات کا یہ رقبہ نہ ہونے کے برابر اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورتوں کے لیے ناکافی ہے اور اس میں اضافے کی شدید ضرورت ہے تاکہ ہم تازہ ہوا میں سانس لینے کے قابل ہو سکیں۔
ویسے تو کسی بھی ملک میں 25 فیصد جنگلات کا ہونا لازمی ہے مگر ہمارے ہاں جس طرح ووٹر کی نہیں ووٹ کی اہمیت ہے اسی طرح درخت کی نہیں بلکہ اس کی لکڑی کی اہمیت زیادہ ہے، اس لیے ہمارے ہاں جنگلات آہستہ آہستہ ناپید ہو رہے ہیں۔ کسی زمانے میں یہی جنگلات لاکھوں ایکڑ پر محیط تھے مگر اب صرف ہزاروں ایکڑ تک محدود ہو گئے ہیں۔ درختوں کی کٹائی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہی جنگلات کچھ سو ایکڑ تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔
جن ملکوں میں ٹھنڈا ماحول ہے وہاں جنگلوں کا تناسب ایک اندازے کے مطابق روس میں 48، برازیل میں 58، انڈونیشیا میں 47، سویڈن میں 74، سپین میں 54، جاپان میں 67، کینیڈا میں 31، امریکا میں 30، بھارت میں 23، بھوٹان میں 72 اور نیپال میں 39 فیصد جنگلات پائے جاتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں صرف 2.19 فیصد جنگلات ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم کتنے ماحول دوست ہیں۔ اس کے علاوہ مینگرووز کے جنگلات تقریباً 207000 ہیکٹرز پر ہیں۔ سندھ میں یہ 600000 ہیکٹرز پر مشتمل ہیں، جبکہ محکمہ جنگلات اس وقت 241198 ہیکٹرز تک کچے کی زمین پر اپنا کنٹرول رکھتا ہے۔ ہمارے محکمہ جنگلات کی کارکردگی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس کا کام درختوں کی کٹائی کو روکنا نہیں، بلکہ اس سلسلے کو جاری رکھنا ہے۔ لاہور اور دیگر شہروں میں پلوں، سڑکوں اور میٹرو ٹرین کے نام پر درختوں کا بے دریغ قتل عام ہو رہا ہے۔ درختوں کی اہمیت سے سب واقف ہیں اور یہ وقت کی بھی اہم ضرورت ہے کہ درخت گرانے والے شعبہ جات اور حکام کاٹے گئے درختوں سے 5-10 گنا زیادہ درخت کی کاشت بھی کریں۔ درختوں کا بے دریغ قتل ایک طرٖف ماحولیاتی آ لودگی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے تو دوسری جانب گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال درجہ حرات بڑھنے کی بنیادی وجہ درختوں کا دن بہ دن کم ہونا ہی ہے دوسری جانب کاسموپولیٹن شہروں کو کنکریٹ کا پہاڑ بنا کر رکھ دیا گیا ہے جس سے گرمی بڑھتی جا رہی ہے حکومت کے ذہن میں تو شہر وں کو پیرس بنانے کی دھن سوار ہے لیکن اس ”پیرس“ میں رہنے والے شہریوں پر کیا بیت رہی ہے اس کا احساس نہیں۔ حالانکہ اس طرح کے مسائل ہماری ترجیح ہونی چاہیے تھی۔
موسموں کی شدت کے غضب سے بچنا ہے تو ہمیں موجودہ جنگلات اور درختوں کو بچانا اور نئے جنگلات اور درختوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہو گا۔ کیمیائی کھادوں، زہروں اور دیگر کیمیائی مادوں کا استعمال کم سے کم کرنا ہو گا اور زراعت میں ماحول دوست اور استقامت انگیز (Sustainable) طریقے اپنانا ہوں گے۔ بائیو ڈائیورسٹی، ویٹ لینڈز اور جنگلی حیات کو محفوظ بنانا ہو گا۔ گلیشئرز کو جو کہ تیزی سے پگھل رہے ہیں اور آبی وسائل، دریاؤں، جھیلوں وغیرہ کو محفوظ بنانا ہو گا۔ اپنے قدرتی وسائل پر بوجھ کم سے کم کر کے ان کے استعمال کو استقامت انگیز بنانا ہو گا۔ حکومت کو کوئی اسی پالیسی ترتیب دینا یا بنانا ہو گی کہ ہر شہری اپنے گھر کے قریب ایک درخت ضرور لگائے اسی طرح تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے سکولوں میں پودے لگائیں اور کم سے کم سکولوں کو تو صاف ستھرا رکھیں۔

The post سکولوں میں چھٹیاں اور پابندیاں سموگ کا حل ہیں؟ appeared first on Naibaat.