Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

انتخابات کا سال 2024 اور معیشت

انتخابات کا سال 2024 اور معیشت عالمی سطح پر سال 2024 انتخابات کا سال ہے، 50 ممالک میں انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ، بھارت، پاکس...

انتخابات کا سال 2024 اور معیشت

عالمی سطح پر سال 2024 انتخابات کا سال ہے، 50 ممالک میں انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ، بھارت، پاکستان اور میکسیکو سال 2024 میں قومی انتخابات کرانے والے ممالک میں شامل ہیں، امریکی پالیسی انسٹی ٹیوٹ سنٹر فار امریکن پروگریس کے مطابق دنیا بھر میں 50 ممالک میں 2 بلین سے زیادہ ووٹرز انتخابات میں حصہ لیں گے

امریکہ میں 5 نومبر 2024 کو انتخابات ہوں گے۔ 160 ملین سے زیادہ امریکی ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ وہ 60 ویں امریکی صدر کا انتخاب کریں گے، جو جنوری 2025 سے چار سال تک وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دیں گے۔ موجودہ صدر جو بائیڈن کو امید ہے کہ وہ دوسری مدت کے لئے صدارت حاصل کر لیں گے، جبکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری، غیر لگاتار مدت کے حصول کی امید کر رہے ہیں۔ریاستہائے متحدہ میں 1996 سے 2022 تک رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 160 ملین سے زیادہ تھی۔ یوکے پالیسی انسٹی ٹیوٹ چیتھم ہاؤس کے مطابق، اپریل اور مئی 2024 کے درمیان ہندوستان کے انتخابات دنیا کے سب سے بڑے انتخابات ہوں گے۔ بھارت میں 1.4 بلین کی آبادی میں سے 900 ملین سے زیادہ لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی تیسری پانچ سالہ مدت کے لیے منتخب ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ چیتھم ہاؤس کا کہنا ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔

2 جون 2024 کو میکسیکو کے لوگ انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ملک میں تقریباً 100 ملین ووٹرز ہیں اور وہ چھ سال کی مدت کے لیے نئے صدر کا انتخاب کریں گے۔ میکسیکو کی تاریخ میں پہلی بار، دو سرکردہ صدارتی امیدوار خواتین ہیں۔ امیدواروں میں میکسیکو سٹی کی سابق میئر کلاڈیا شین بام پارڈو اور سابق سینیٹر زوچٹل گالویز شامل ہیں۔ پورے میکسیکو میں بیلٹ پیپرز میں 20,000 سے زیادہ عوامی عہدوں کے لیے ووٹ بھی شامل ہوں گے، جو ملک کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔ یورپی یونین میں، یورپی پارلیمنٹ کے لیے سال 2024 کے انتخابات 6 اور 9 جون 2024 کے درمیان ہوں گے۔ 400 ملین سے زیادہ ووٹرز 27 رکن ممالک میں یورپی پارلیمنٹ کے 720 ارکان کا انتخاب کریں گے۔ فرانسیسی نیوز چینل فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق، چونکہ یورپی یونین کے انتخابات بہت سی سرحدوں کو عبور کرتے ہیں، یہ دنیا کے سب سے بڑے بین الاقوامی انتخابات ہوں گے۔ جنوبی افریقہ کے انتخابات ملک کے لیے بہت اہم ہیں۔ افریقن نیشنل کانگریس (ANC) پارٹی نے سال 1994 سے ملک پر حکومت کی ہے، جب نسل پرستی کا خاتمہ ہوا اور نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، اب اس بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے کہ آیا اے این سی اپنی اکثریت برقرار رکھ سکتی ہے۔ پولنگ آرگنائزیشن Ipsos کا خیال ہے کہ جنوبی افریقہ میں مخلوط حکومت ممکن نظر آتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے انتخابی کمیشن کے مطابق، 26 ملین سے زیادہ جنوبی افریقی ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ سال 2024 میں انتخابات تائیوان، انڈونیشیا، روس، ایران اور پاکستان میں بھی ہوں گے۔ بلومبرگ نے مشورہ دیا کہ پالیسی، حکومتی ضابطے، شرح سود اور دیگر شعبوں میں تبدیلیاں 2024 کو ”ہنگامہ خیز سال“ بنا سکتی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق بڑی معیشتوں کے درمیان جغرافیائی سیاسی اور جیو اقتصادی تعلقات میں مسلسل اتار چڑھاؤ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں سب سے بڑی تشویش ہے۔ رپورٹ کے لیے سروے کے زیادہ تر جواب دہندگان ”عالمی سطح پر ہلچل“ کی توقع کر رہے ہیں۔ فورم کا کہنا ہے کہ ”یورپ میں جاری جنگ اور امریکہ اور چین کے معاشی تناؤ کے پیش نظر یہ حیرت کی بات نہیں ہے“۔ لیکن یہ بین الاقوامی اقتصادی تعلقات میں بڑھتے ہوئے ”مخالف“ رجحان کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت، تجارتی پابندیاں، مارکیٹ میں عدم استحکام اور ”پالیسیوں میں تیزی سے تبدیلی“ اس کی بنیاد رکھنے والے کچھ عوامل ہیں۔

اب بات کرتے ہیں انتخابات سال 2024 اور پاکستان کی کمزور معیشت کی، ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سال 2024 میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا رہے گا، ملکی معیشت انتخابات سے سنبھل سکتی ہے، الیکشن سے ملکی معیشت کو اعتماد ملے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی حالت کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن سے پاکستان کی معیشت سنبھل سکتی ہے، عام انتخابات سے پاکستان کی معیشت کو اعتماد ملے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پیشگوئی کی ہے کہ مالی سال 2024 میں پاکستان کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا رہے گا، اور روپیہ کی قدر میں کمی کے باعث مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے، جب کہ رواں مالی سال معیشت کی شرح نمو 1.9 فیصد رہنے کی توقع ہے، مستحکم گروتھ کیلئے اصلاحات ایجنڈے پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں مالی سال میں مہنگائی کی مجموعی شرح 25 فیصد تک رہے گی، مالی نظم ونسق، مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ، پاور سیکٹر اور حکومتی ملکیتی اداروں میں اصلاحات ضروری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان کی معیشت کو سیلاب، سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا، سیاسی عدم استحکام اور سیلاب کے باعث مہنگائی اور شرح نمو کم رہی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستحکم گروتھ کیلئے اے ڈی بی کی پاکستان اکانومی کیلئے شراکت داری جاری رہے گی۔

The post انتخابات کا سال 2024 اور معیشت appeared first on Naibaat.