Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

آزاد غلاموں کے دیس میں

آزاد غلاموں کے دیس میں بچپن میں جل پریوں کی افسانوی کہانیاں بڑی دلفریب لگتی تھیں جل پری ایک ایسی خیالی مخلوق تھی جس کا چہرہ تو خوبصورت حسین...

آزاد غلاموں کے دیس میں

بچپن میں جل پریوں کی افسانوی کہانیاں بڑی دلفریب لگتی تھیں جل پری ایک ایسی خیالی مخلوق تھی جس کا چہرہ تو خوبصورت حسین و جمیل دوشیزہ کا ہوتا تھا مگر اس کا دھڑ مچھلی کا ہوتا تھا جو آسمان سے اتر کر ندی میں نہایا کرتی تھی مگر جیسے ہی یہ دیو مالائی داستان اپنے کلائمیکس پر پہنچنے لگتی تو اس میں کہیں نہ کہیں سے خوفناک اور ڈراؤنے چہرے والا جن آ دھمکتا اور ساری رومانویت کا ستیاناس کر دیتا تھا۔ جب ہم بڑے ہوئے تو آہستہ آہستہ پاکستان کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ہر کہانی امریکہ پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ شعور کے ارتقا میں پاکستان سے باہر مشکل کر دیکھا تو یہ راز کھلا کے تاریخ اور جغرافیے کو جہاں سے بھی پڑھو اس کے کونے کونے میں حکومتیں بنانے اور گرانے کے عمل میں کہیں نہ کہیں ہر واردات کا کھرا امریکہ کی طرف جاتا ہے۔

آپ غلامی کو لے لیں جب یورپی قوموں نے امریکہ کے اصل باشندوں کو تہہ تیغ کر کے اسے اپنی کالونی بنایا تو لا محدود زمینوں کی آبادکاری کیلئے انہیں مین پاور کی ضرورت تھی جس کے لئے افریقہ سے سیاہ فاموں کو بحری جہازوں میں بھر بھر کر امریکہ لانے کا اہتمام ہوا۔ اس طرح غلامی ایک انڈسٹری بن گئی اور امریکہ میں غلاموں کی خرید و فروخت ہونے لگی۔ 4 جولائی 1776ء کو جب امریکا برطانوی تسلط سے آزاد ہو گیا تو آہستہ آہستہ غلامی ماند پڑنے لگی اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بنجر زمینیں آباد ہو چکی تھیں دوسرا سیاہ فاموں کی آبادی میں اضافہ ہو چکا تھا اورانسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی آوازوں کے شور میں انہیں اب زیادہ عرصے تک غلام رکھنا ممکن نہیں تھا۔ مساوی حقوق کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔

1861ء میں پہلے سیاہ فام امریکی صدر ابراہم لنکن جب صدر بننے کے بعد پہلی دفعہ سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کرنے آئے تو سیاہ فاموں سے گوروں کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ ایک سفید فام امریکی سینیٹر اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے لنکن کو مخاطب کر کے کہا کہ کبھی یہ مت بھولنا کہ تمہارا باپ ہمارے خاندان کے جوتے مرمت کرتا تھا بات درست تھی لنکن ایک موچی کا بیٹھا لیکن اس بات میں جو نفرت اور زہر چھپا تھا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا یہ شاید اسی کا ردعمل تھا کہ لنکن نے قانون سازی کے ذریعے امریکہ سے غلامی کا خاتمہ کر دیا۔

لیکن غلامی کے خاتمے سے پہلے امریکی نسل پرست اپنے سیاہ فام ہم وطنوں سے جان چھڑانے کی جو تدابیر کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ انہیں واپس افریقہ میں آباد کر دیا جائے یہ لنکن کے صدر بننے سے بہت پہلے کی بات ہے جب امریکا نیا نیا آزاد ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں Atlantic یا بحر اوقیانوس کے کنارے پر آئیوری کوسٹ اور سیری لیون کے درمیان لائبیریا کے نام سے ایک نیا ملک بنایا گیا جس کے بارے میں پاکستان میں بہت کم معلومات پائی جاتی ہیں۔ سیاہ فام امریکیوں کو یہاں آباد کرنے کا سلسلہ 1817ء میں شروع ہوا اور قیام پاکستان سے ٹھیک ایک سو سال پہلے یعنی 1847ء میں یہ ملک معرض وجود میں آیا۔ لائبیریا کو Step child of America یعنی امریکا کا سوتیلا بچہ بھی کہا جاتا ہے یا پھر ایسا بچہ جسے اس کی ماں نے جنم دے کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا ہو۔ لائبیریا کا قومی پرچم امریکی جھنڈے سے کافی مشابہت رکھتا ہے جس میں سرخ اور سفیدی دھاریاں ہیں اور کونے میں ایک سٹار ہے جو امریکی ریاست ہونے کی دلیل کے طور پر بنایا گیا مگر بوجوہ لائبیریا امریکی 51ویں ریاست نہ بن سکا۔

لائبیریا گویا کہ امریکہ کے آزاد غلاموں کا دیس ہے جو قدرتی ذرائع سے بے پناہ حد تک مالا مال تھا جہاں ربڑ کی صنعت دنیا کی بڑی صنعتوں میں سے ایک تھی زمین کی زرخیزی کا یہ حال ہے کہ لائبیریا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیروں کی خرید و فروخت آج بھی عروج پر ہے مگر اس ملک کو خانہ جنگی نے تباہ برباد کر کے رکھ دیا۔ 1970ء کے بعد خانہ جنگی اور قتل و غارت اتنی بڑھی کہ 1989ء میں وہاں کے صدر ایس کے ڈو کو باغیوں نے قتل کر دیا۔ افریقی ہمسایہ ممالک کے حالات بھی لائبیریا کا متاثر ہونا فطری عمل تھا۔ یہاں تک کہ 2003ء میں اقوام متحدہ نے اپنی بین الاقوامی امن فوج کے مشن میں ملک میں قیام امن کے لیے وہاں اپنا دفتر قائم کیا۔

یہ ایک تاریخ کا جبر ہے کہ امریکی گوروں کی نسل در نسل غلامی کرنے والی سیاہ فام باشندے جب لائبیریا کے ساحلوں پر اتارے گئے تو انہوں نے اپنے جھنڈے پر یہ فقرہ لکھا کہ Love of liberty brought us here یعنی آزادی کی محبت ہمیں یہاں کھینچ لائی ہے مگر ان کی دو رخی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے آپ کو وہاں پر پہلے سے موجود مقامی سیاہ فاموں سے برتر سمجھتے تھے جس سے معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو گیا اور امریکی کالوں نے اپنے ہی ہم رنگوں کے ساتھ امتیازی حکمرانی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے جس کا نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں سب کو بھگتنا پڑا۔

یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ 2004ء میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستانی فوج کو امن قائم کرنے کیلئے جو مشن سونپا گیا اس میں پنجاب پولیس کا ایک دستہ بھی شامل تھا اس پولیس دستے میں شامل ایک پولیس افسر آصف رفیق صاحب ایک منجھے ہوئے لکھاری ہیں انہوں نے لائبیریا میں اپنے قیام کے دوران حسب عادت دو سال تک اپنی ڈائری لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس روز نامچہ کو حال ہی میں انہوں نے ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا ہے۔ آصف رفیق کی لائبیریا پر لکھی جانے والی کتاب ”سفید غلاموں کے دیس میں“ ایک دستاویز ہے مصنف نے نہایت باریک بینی سے حالات کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ پیش کیا ہے جہاں حقائق اور واقعات کے ساتھ اپنے ذاتی تاثرات اور تجزیات بھی ساتھ ساتھ قلم بند کئے ہیں۔

ہمارے سرکاری لوگوں میں کتاب لکھنے کی روایت اور رجحان بہت کم ہے۔ مغربی افریقہ کے فلیش پوائنٹ لائبیریا میں ایک پاکستانی امن کار کے شب و روز کی یہ ساری تفصیلات اتفاقیہ طور پر مرتب ہوئی ہیں اتفاقیہ اس لئے کہ اگر آصف رفیق وہاں نہ بھیجے جاتے تو یہ ساری معلومات شاید اتنے گرافیکل انداز سے طشت از بام نہ ہو پاتیں۔ یہ ان کا کمال ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنی ڈائری ساتھ لے جاتے ہیں اس سے قبل آصف رفیق نے پولیس ٹریننگ پر مبنی اپنی کتاب سہالہ یاترا میں پولیس کی ٹریننگ کے متعلق اپنے چشم دید تجربات کو کتابی شکل دی ہے جو قارئین میں کافی مقبول ہے۔

The post آزاد غلاموں کے دیس میں appeared first on Naibaat.