Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

جنگ بندی و زبانی جمع خرچ

جنگ بندی و زبانی جمع خرچ دنیا میں سب سے بڑے شیطان کی حیثیت سے جانے جانا والا ملک امریکہ آج دنیا بھر میں پہلی مرتبہ ذلیل نہیں ہورہا، آج سے ق...

جنگ بندی و زبانی جمع خرچ

دنیا میں سب سے بڑے شیطان کی حیثیت سے جانے جانا والا ملک امریکہ آج دنیا بھر میں پہلی مرتبہ ذلیل نہیں ہورہا، آج سے قبل درجنوں مرتبہ دنیا کے کونے کونے سے اس پر تین حرف بھیجے جاتے رہے ہیں لیکن ڈھٹائی کی حد ہے وہ ہر مرتبہ ایک نئی ذلت سمیٹتا ہے لیکن بدمزہ نہیں ہوتا۔

جاری برس میں اسے یوکرین کے بعد اب فلسطین میں ایسی شکست کا سامنا ہے جس کا اس نے کبھی تصور نہ کیا ہوگا۔ فلسطین اسرائیل جنگ چیونٹی اور ہاتھی کا مقابلہ تھا، ہاتھی اور اسکے ساتھیوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے سے کئی ہزار گنا کم طاقت ور بے سرو ساماں فلسطینیوں کو کچل کے رکھ دیں گے لیکن فلسطینی مجاہدین نے انکا غرور خاک میں ملا دیا۔ چیونٹی کے کاٹے کو عرصہ دراز تک سہلانا پڑے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور ہو گئی ہے جس کی امریکہ اور اسکے حواریوں نے مخالفت کی، قرار داد کے حق میں 153 ووٹ آئے جبکہ 10 ملکوں نے اسکی مخالفت میں ووٹ دیا 23 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا مخالفت میں ووٹ دینے والوں میں امریکہ و اسرائیل کے علاوہ چیک ری پبلک آسٹریا، پیرا گوئے، پاپو انیوگنی، لائبیریا اور مائیکرونیشیا شامل ہیں بظاہر تو امریکہ نے اس قرار داد کی مخالفت کی لیکن اسرائیلی فوج کی درگت بننے کے بعد جب اسے یقین ہو گیا کہ جنگ جاری رہی تو اسرائیل کا مزید نقصان ہو گا تو اس خیال کے بعد وہ چاہتا تھا کہ جنگ بندی تو ہو جائے لیکن اسکی ناک اورساکھ بچ جائے امریکہ برطانیہ بھارت اور بعض یورپی ممالک کی زبردست حمایت و مدد کے باوجود امریکہ کی ناک بچ سکی نہ اسکی ساکھ۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس قرار داد پر عمل درآمد کب اور کس انداز میں کیا جاتا ہے۔7 اکتوبر کے بعد سے لیکر اب تک اسرائیل نے غزہ میں 25 ہزار ٹن بارود برسایاہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما اور ناگاساکی پر برسائے جانے والے ایٹم بم اور دوسرے بموں سے زیادہ ہے۔

جنگ میں اسرائیل نے غزہ میں رہائشی آبادیوں، سکولوں اور ہسپتالوں کو بے دریغ نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اٹھارہ ہزار سے زائد عورتیں اور بچے شہید ہوئے اسرائیل فلسطین اور فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی منصوبہ بندی کر کے آیا تھا لیکن اسے اس جنگ میں توقع کیخلاف بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جنگ بندی سے دو روز قبل اسرائیل نے ایک بھر پور حملہ کیا جس میں امریکی ساختہ ٹینک استعمال کیے گئے شہری علاقوں پر بمباری کی گئی، ایک خوفناک جھڑپ کے مقام پر اسرائیلی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اسکا ایک کرنل رینک کا افسر اور دس فوجی مارے گئے جنکا تعلق گولائی کے انفنٹری بریگیڈ سے تھا۔

فلسطینی مجاہدین کی جنگی حکمت عملی کے تحت ایک سے زائد مرتبہ کچھ سرنگوں کے بارے میں اطلاع لیک کرائی گئی اسرائیلی فوجی جب ان سرنگوں کو کیمیکل ہتھیار یعنی ”سپنچ بم“ سے بند کرنے کیلئے کارروائی کرنے وہاں پہنچے تو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پہلے سے نصب کردہ بارودی مواد کو اڑا دیا گیا جس کے ساتھ ہی درجنوں اسرائیلی فوجیوں کے جسم کے پر خچے اڑگئے۔ اس قسم کی متعدد کارروائیوں کے بعد اسرائیلی فوجی اچانک موت کے خوف سے ادھر پلٹ گئے جدھر سے آئے تھے۔ فلسطینی مجاہدین  نے بہت پہلے یہ سرنگیں اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت تیار کی تھیں جنکی اونچائی قریباً آٹھ فٹ اور چوڑائی چار فٹ تھی یہ سرنگیں ان گنت تھیں جن میں آکسیجن کی رسائی تھی، سورج کی روشنی کے علاوہ بجلی کے کنکشن دیئے گئے تھے۔ مختلف سرنگیں کچھ فاصلے پر بڑے بڑے کمروں میں کھلتی تھیں ان زمین دوز کمروں کو مختلف مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا تھا، اسرائیلی فوج ان سرنگوں کو موت کے غار سے تشبیہ دیتی تھی کیونکہ جو بھی ان سر نگوں کو تباہ کرنے گیا وہ زندہ واپس نہ آیا۔

جنگ بندی کی قرار داد میں یرغمالیوں کی غیر مشروط ر سائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس قرار دار کے پاس ہونے سے قبل چند روزہ جنگ بندی میں معاہدے کے تحت فلسطینیوں نے متعدد اسرائیلی جنگی فوجیوں اور کچھ شہریوں کو رہا کیا تھا جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ ان خواتین نے رہائی کے بعد فلسطینی مجاہدین کے حسن سلوک کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ہمارے عزت و احترام میں کوئی کمی نہ چھوڑی، بہترین اور بروقت کھانا مہیا کیا گیا حالانکہ انکے پاس خوراک کی کمی تھی انہوں نے ہمیں حد درجہ آرام سے رکھا، جنگ بندی کی قرار داد پیش ہونے سے قبل اسرائیلی فوج نے پراپیگنڈے کے ذریعے فلسطینی مجاہدین کے حوصلے پست کرنے کیلئے اور دنیا کو اپنی جعلی کامیابی کے زیر اثر لانے کیلئے وہی حربے استعمال کئے جو امریکی حکمت عملی کے تحت یو کرین میں استعمال کیے گئے تھے۔

امریکی ٹی وی سی این این کی ٹیم اسرائیلی نکتہ نظر سے محاذ جنگ کی کوریج کر رہی تھی جہاں لائیو کوریج کرتے ہوئے ڈائریکٹر بھول گیا کہ مائیک کھلا رہ گیا ہے وہ اپنی رپورٹر کو کہہ رہا تھا کہ تاثر دو کہ تمہیں حماس کی طرف برسایا گیا راکٹ زخمی کر گیا ہے، یہ رپورٹر خاتون بھلی چنگی تھی اور زمین پر لیٹ کر تاثر دے رہی تھی کہ وہ اور اس کی ٹیم ممبران سخت خطرے میں ہیں پھر اس نے ڈائریکٹر کی ہدایات کے مطابق ایکٹنگ شروع کر دی لیکن ان کا رچایا گیا ڈرامہ دنیا بھر میں لائیو دیکھا اورسنا گیا اسی طرح ایک اور ویڈیو کلپ چلایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے پچاس کے قریب فلسطینی مجاہدین کو گرفتار کیا ہے اب انہیں برہنہ حالت میں ٹرکوں میں بٹھا کر لے جایا جا رہا ہے۔ اس کلپ کا پول بھی کھل گیا کہ وہ فلسطینی مجاہدین نہ تھے بلکہ اسرائیلی تھے جو اس سین کی ریکارڈنگ کے لئے منگوائے گئے تھے۔

اس جنگ میں سات سو اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنایا گیا جن میں میجر جنرل، بریگیڈیئر اور کرنل رینک کے افسروں کے علاوہ تین سو کے قریب سول حکام کو حراست میں لیا گیا جن میں بیشتر اعلیٰ عہدیدار تھے۔

تین سو کے قریب اسرائیلی ٹینک تباہ کردیئے گئے، موساد کے اٹھارہ ٹھکانے تباہ کئے گئے اور وہاں سے الیکٹرانک آلات، جاسوسوں کی تفصیلات حاصل کی گئیں، ہزاروں راکٹ داغے گئے جن سے اسرائیل کا بھاری جانی نقصان ہوا، چار اسرائیلی فوجی چھاؤنیوں پر کامیاب شب خون مار کراسلحے کے بڑے ذخائر پر قبضہ کر لیا گیا پھر یہی اسلحہ اسرائیلی فوج کے خلاف استعمال کیا گیا۔

یہ تمام کامیابیاں ایک طرف اور ان سب پر بھاری کامیابی یہ تھی کہ اسرائیلی حفاظتی نیٹ ورک کو جام کر کے اسے توڑ کر جو یلغار کی گئی اس سے سنبھلنے میں اسرائیلی فوج کو کافی وقت لگا۔ اس کا ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم خاک میں مل گیا، چوبیس گھنٹے تک وہ یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ ان پر حملہ کہاں سے ہوا ہے، مجاہدین کے راکٹ تل ابیب تک پہنچ گئے جس کے بعد اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کے فوجی ماہرین بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے، مگر صد افسوس عالم اسلام کا کردار کھل کر سامنے آیا، زبانی جمع خرچ اپنے عروج پر نظر آیا۔

The post جنگ بندی و زبانی جمع خرچ appeared first on Naibaat.