Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

سنٹرل جیل راولپنڈی۔۔۔۔۔۔تزکرہ مزید

سنٹرل جیل راولپنڈی۔۔۔۔۔۔تزکرہ مزید سنٹرل جیل راولپنڈی المعروف بہ اڈیالہ جیل (راولپنڈی) کے باہر کے مناظر کا تذکرہ ہوا تو احباب کی طرف سے اسے...

سنٹرل جیل راولپنڈی۔۔۔۔۔۔تزکرہ مزید

سنٹرل جیل راولپنڈی المعروف بہ اڈیالہ جیل (راولپنڈی) کے باہر کے مناظر کا تذکرہ ہوا تو احباب کی طرف سے اسے دلچسپ اور معلومات افزا قرار دینے کے ساتھ اس کے کسی حد تک نا مکمل اور تشنہ ہونے کا تبصرہ بھی سامنے آیا۔ مجھے خود بھی احساس ہوا کہ جیل کے باہر کے مناظر کا ذکر اس بنا پر کچھ ادھورا رہا کہ یہ جیل کے5 نمبر گیٹ جس کے باہر سنٹرل جیل راولپنڈی کا بورڈ تازہ تازہ آویزاں ہوا ہے، اس کے اور اس کے ساتھ باہر سڑک کے مناظر کے تذکرے تک محدود رہاہے جبکہ جیل کے اس گیٹ کے علاوہ بھی چار گیٹ ہیں جہاں سے جیل میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آمدورفت کا یہ سلسلہ ایک یادگار روپ دھار لیتا ہے اور اس کا تذکرہ کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ یہ آج سے تقریباً کوئی ساڑھے تین سال قبل اتوار 28 جولائی 2019ء کا دن تھا جب جیل سے اسی طرح کی آمدورفت ہوئی کہ بہت سارے لوگ جن میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ وہ اتوار کا دن ہونے کے باوجود خلافِ معمول ایک شخصیت کے جیل سے ضمانت پر رہائی اُس شخصیت کے خیر مقدم کے لیے جیل کے گیٹ نمبر5 پر انتظار میں کھڑے رہے جبکہ جیل حکام نے اس شخصیت کو پروانہ رہائی تھما کر جیل کے دوسرے گیٹ سے باہر پہنچا دیا۔ یہ سب کیسے ہوا اور کیوں کر ہوا؟ اس کی محاکات دلچسپ بھی ہے اور سبق آموز بھی اور طاقت اور اقتدار کے نشے میں سر مست لوگوں کے منہ پر طمانچہ بھی۔ اس کی تفصیل بیان کرنے کے لیے مجھے کوئی ساڑھے تین سال پیچھے جانا ہو گا۔ جب ملک پر جناب عمران خان کی حکومت قائم تھی۔ آرمی چیف کے عہدے پر جنرل قمر جاوید باجوہ براجمان تھے تو آئی ایس آئی کے سرابرہ کے طور پر جنرل فیض حمید کا ڈنکا بجتا تھا اور اِن سب کا اور اِن کے کچھ ماتحت کرداروں کا اس واقعے سے کچھ نہ کچھ تعلق ضرور بنتا تھا۔

یہ 26 جولائی جمعہ کی رات کوئی 12 بجے کے لگ بھگ کا وقت تھا کہ اسلام آباد کے سیکٹر G-10/3 کے ایک گھر پر وردیوں اور سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس اورخفیہ ایجنسیوں کے درجنوں اہلکاروں نے دس بارہ بڑی گاڑیوں میں جنہیں عرفِ عام میں ”ڈالے“ کہا جاتاہے، دھاوا بولا اور گھر کے مکین کو ایک پرائیویٹ گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ گھر کے مکین کون تھے؟ وہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے موجودہ سینٹر عرفان صدیقی جو نامور قلم کار، خوبصورت شاعر، سینئر صحافی، ممتاز دانشور اور بزرگ استاد کی شہرت ہی نہیں رکھتے بلکہ مسلم لیگ (ن) سے سیاسی وابستگی رکھنے کے باوجود اپنی شائیستگی، مہذب اندازِ گفتگو، خوب صورت شخصیت اور وسیع علمی، تعلیمی اور تدریسی پس منظر اور پیش منظر رکھنے کی بنا پر تمام قومی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔

محترم عرفان صدیقی کو جس بیہمانہ انداز میں گاڑی میں ڈال کر تھانے پہنچایا گیا۔ تھانے میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا کہ اُن کے دائیں ہاتھ جس میں انہوں نے قلم پکڑ رکھا تھا اس میں ہتھکڑی ڈال کر ڈیوٹی مجسٹریٹ اسسٹنٹ کمشنر مہرین بلوچ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے دفعہ 144 کے تحت ان کے خلاف جلدی میں قائم کیے گئے بوگس اور بے بنیاد مقدمے (جسے جرمِ بے گناہی کا نام دیا جا سکتا ہے) میں ان کا 14 روزہ عدالتی ریمانڈ دیا، انہیں اسلام آباد پولیس کے بخشی خانے لے جایا گیا اور وہاں سے اُسی دن (27 جولائی) کی شام کو قیدیوں کی مخصوص وین میں بند کر کے اڈیالہ جیل میں پہنچایا گیا، اڈیالہ جیل میں انہیں جیل کے سب سے خوفناک منطقے خطر ناک قیدیوں کے بلاک کی ایک کوٹھڑی یا قصوری چکی میں بند کیا گیا، رات انہوں نے کیسے گزاری اور اگلے دِن ان کے ساتھ کیا بیتی، یہا ں تک کہ دن ایک بجے کے لگ بھگ اُن کی قصوری چکی کے احاطے کا آ ہنی گیٹ کُھلا اور ایک پولیس آفیسر انہیں سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفتر میں لے گیا، سپرنٹنڈنٹ جیل نے انہیں مبارک باد دی کہ آپ کی ضمانت ہو گئی ہے۔ ان سب باتوں کی تفصیل محترم عرفان صدیقی نے اپنی رہائی کے بعد اُنہی دنوں روزنامہ جنگ میں ”قلم کو ہتھکڑی“ کے عنوان سے پے در پے چھپنے والے سات کالموں میں بیان کر رکھی ہے۔ یہاں ان کی تفصیل بیان کرنے کا محل نہیں تاہم یہاں عرفان صدیقی صاحب کی گرفتاری کے بیہمانہ اور شرمناک واقعے کے حوالے سے لکھی گئی احتجاجی تحریروں، کالموں، وی لاگز، ٹویٹس اور بیانات پر مشتمل حافظ شفیق کاشف کی مرتب کردہ کتاب ”قلم کو ہتھکڑی“ کا حوالہ دیا جا سکتا ہے کہ عرفان صاحب کی گرفتاری کے اس شرمناک واقعے کی قومی زندگی کے تمام حلقوں نے کتنے وسیع پیمانے پر مذمت کی اور اسے حکومتِ وقت کے منہ پر کالک سے تعبیر کیا۔ اسی کتاب کے فلیپ میں عرفان صاحب نے چالیس گھنٹوں کے دوران اپنے ساتھ جو کچھ بیتی اس پر کچھ ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”جمعہ کی شب، بارہ بجے سے اتوار کے دن دو بجے تک جاری رہنے والی قید ریاستِ مدینہ کے والیان ذی شان کے شکنجے میں آئے کسی بھی ملزم کا مختصر ترین عرصہ اسیری ہے۔ اس عہدِ بے ننگ ونام میں جب کئی کئی ہفتوں اور مہینوں کی نوع بہ نوع ریمانڈ برسات کی خود رو ہریالی کی طرح زمانوں پر محیط ہوتے چلے جائیں اور جہاں سزائیں ساون بھادوں کی برکھا کی طرح برس رہی ہوں اور جہاں وکیل، دلیل اور اپیل خس و خاشاکِ بازار ہو جائیں وہ کس قدر خوش بخت ہے۔ حوالاتی نمبر 4266 (عرفان صاحب کو جیل میں حوالاتی کے طور پر دیا گیا نمبر)، جسے ایک عالی مرتبت جج صاحبہ کے حضور ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا، جسے قصوری چکی میں قیام کا اعزازِ بلند ملا اور جسے ضمانت دینے کے لیے اتوار کی چھٹی والے دن عدالت لگی اور چند گھنٹوں کے وقفے کے بعد انہی جج صاحبہ نے بصد لطف و عنایت ضمانت مرحمت فرما دی“۔

عرفان صاحب کی تحریر کا یہ اقتباس چشم کشا سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن اتوار 28 جولائی 2019 ء کے دن ایک، دو بجے کے جیل کے باہر کے مناظر کے تذکرے کے بغیرہماری بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ سچی بات ہے 27جولائی 2019 ء کو صبح عرفان صاحب کی گرفتاری کی خبر میرے لیے کسی انتہائی ذاتی صدمے سے کم نہیں تھی۔ میں نے ہفتے کے دن پوری کوشش کی کسی طرح تھانے میں یا بخشی خانے میں عرفان صاحب سے مِل سکوں لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔ اتوار کو حسبِ معمول اپنے بیٹے حارث ملک کے ہمراہ گاؤں جانے کے لیے روانہ ہوا۔ خیا ل تھا کہ اڈیالہ جیل کے سامنے سے گزرتے ہوئے عرفان صاحب کو غائبانہ سلام پیش کرتا جاؤں گا۔ اڈیالہ جیل کے سامنے پہنچا تو گیٹ پر بیٹھے پولیس کے اہلکاروں سے دعا سلام کی اور یہ جاننے کے باوجود کہ وہ میری کچھ بھی مدد نہیں کر سکتے ان سے جیل میں بند اپنے ہم دم دیرینہ اور عزیز ترین دوست (عرفان اللہ صدیقی) تک نیک خواہشات کا پیغام پہنچانے کی درخواست کی۔ پولیس اہلکاروں کا خندہ استہزاء میری درخواست کا جواب تھا تو میں اپنے بیٹے کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گاؤں کے لیے روانہ ہو گیا۔ کوئی پندرہ بیس کلومیٹر کا سفر طے کیا ہو گا کہ عزیزِ گرامی ڈاکٹر ندیم اکرام کی فون کال آئی کہ سر کدھر ہیں۔ عرفان صدیقی صاحب کی ضمانت ہو گئی ہے ۱ور میں محترم اسماعیل قریشی کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچ رہا ہوں۔ میں نے یہ سنتے ہی حارث بیٹے کو گاڑی واپس موڑنے کا کہا۔ اگلے پندرہ بیس منٹوں میں ہم واپس جیل کے گیٹ نمبر 5کے باہر پہنچ گئے۔ وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاروں کے ساتھ ٹی وی چینلز کی وینز اور کیمرہ مین وغیرہ بھی لائینیں بنائے کھڑے تھے۔ بہت سارے احباب بھی پہنچے ہوئے تھے۔ انتظارتھا کہ عرفان صاحب جیل سے باہر آئیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے۔ اسی دوران کسی نے اطلاع دی کہ یہاں انتظار کرنا بے سود ہے کہ عرفان صاحب کو جیل کے کسی اور گیٹ سے نکالا گیا ہے اور وہ اُدھر سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ اِس اطلاع سے لوگوں میں مایوسی پیدا ہوئی اور وہ اِدھر اُدھر بکھرنا شروع ہوئے تو وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کی اہم راہنما محترمہ مریم اورنگ زیب کی طرف سے بتایا گیا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، عرفان صاحب کو پیغام بھیجا ہے، وہ یہاں آ رہے ہیں اور میڈیا سے گفتگو کریں گے۔ کچھ ہی دیر میں عرفان صاحب کی گاڑی جیل کے گیٹ نمبر 5 کے سامنے پہنچ گئی، وہ گاڑی سے اترے تو ہجومِ عاشقاں اُن کی طرف لپکا۔ مجھے انہوں نے ذرا فاصلے سے دیکھا، ملک صاحب کہہ کر پکارا اور اپنے بازو پھیلا دئیے۔ میں نے آگے بڑھ کر اُن کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور انہیں گلے لگا لیا۔ اڈیال جیل کے باہر کا یہ منظر یقیناً مجھے زندگی کے آخری سانسوں تک بھولنے والا نہیں ہے۔

The post سنٹرل جیل راولپنڈی۔۔۔۔۔۔تزکرہ مزید appeared first on Naibaat.