Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

……یہ تیرے پراسرار بندے

……یہ تیرے پراسرار بندے   ڈھائی ماہ میں اہلِ غزہ نے پوری دنیا کو اپنے بے مثل کردار سے اسلام کی حقانیت کے اسباق پڑھاد یے۔ صرف اتنا نہیں کہ ض...

……یہ تیرے پراسرار بندے

 

ڈھائی ماہ میں اہلِ غزہ نے پوری دنیا کو اپنے بے مثل کردار سے اسلام کی حقانیت کے اسباق پڑھاد یے۔ صرف اتنا نہیں کہ ضمیر جھنجھوڑ دیے گئے، بلکہ اس پاکیزہ لہو نے دنیا کے چہرے پر کالک ملتے وہ سبھی کردار یکایک بحرِ مردار میں واپس دفن کردیے جن کی سڑاند نے جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ کہاں تو LGBTQپلس کے زمرے میں اضافے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ کہ یکایک طوفانِ اقصیٰ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اقبالؔ نے شاید اسی دن کے لیے تڑپ کر کہا تھا: خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں! اور پھر اقبالؔ کی ساری امیدیں امنگیں آرزوئیں جستجوئیں غزہ کو جا لگیں! ابابیلیں 7اکتوبر کو اصحابِ فیل پر قہر بن کر ٹوٹنے کو کیا اڑیں، پورا گلوب، اس کی پوری آبادی شرق تا غرب اس طوفان سے شدید متاثر ہوا۔ ہر بحر کی موجیں اضطراب میں آ گئیں! سوچنے کے سارے زاویے بدل گئے۔ اہلِ غزہ کا اللہ کی ذاتِ پاک پر غیرمتزلزل یقین،ہلا مارنے والے وقتوں میں شفاف جھرنوں کی طرح پاکیزہ زبانوں سے تلاوت، مجاہدینِ قسام کا تعلق بالقرآن، کریم استاد ؐ کی تربیت کی جھلک سے ایک غیرمحسوس لہر دنیا میں دوڑ گئی۔ نوجوان نسل جو کسی بھی انقلاب کا ہراول دستہ ہوا کرتی ہے، دنیائے کفر میں اس نے نہایت گہرے اثرات قبول کیے ہیں۔ غم وغصے، اضطراب، جذبات کی جو شدت، وارفتگی ان میں غزہ اور فلسطین پر دیکھنے میں آئی وہ انتہائی غیرمعمولی تھی بلکہ یہ بھی کہ وہ ایک وقتی عارضی لہر نہ تھی۔ نظریاتی تبدیلی، خالق کی تلاش، قرآن توجہات کا مرکز بن جانا۔ یہود اور امریکا سے شدید نفرت کا اظہار۔ میڈیا، شہرہ آفاق یونیورسٹیاں عالمی سیاست میں پورے تصورات کا تہہ وبالا ہو جانا۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں صرف طلباء نہیں، اساتذہ کا فلسطین بارے مؤقف پر ڈٹ جانا! کیریئر، ملازمتوں سے بے پرواہ! قبولیتِ اسلام کی طرف ہر سرزمین پر رجحان بڑھ جانا۔ یہاں تک کہ مغربی ماہرین یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ’یہ ایک بہت بڑی بغاوت ہے مغرب کے خلاف۔ اسلام کی طرف مایئل ہونے والے افراد سرمایہ دارانہ،سامراجی طور طریقوں کو رد کر رہے ہیں۔‘ بائیکاٹ کی عالمگیر مہم الگ حیرت کا سبب بنی۔ احساسات سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہے ہیں۔ ’میں ابھی مسلمان نہیں لیکن میں سر ڈھانپنا چاہ رہی ہوں۔‘ ’میں ابھی مسلمان نہیں لیکن میں نے نماز پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اور میں بس روتی رہی۔‘ کوئی کہتا ہے کہ اس نے اذان سنی اور بس روتا رہا۔ اہلِ غزہ نے پتھر پگھلا دیے۔ اب تو مغربی مرد وزن غزہ دیکھ کر گویا جل تھل ہوگئے۔ چشمے ابل پڑے۔ اتنی بہادر اور توانا، فولادی عقیدے، صبر وثبات بھری مظلومیت کسی نے کب دیکھی سوچی تھی۔ اور اتنی ہی بزدل، کم حوصلہ وحشت زدہ سفاک ظالم طاقت بھی مقابل تصور میں نہ آ سکتی تھی۔
ہم جب دن رات اپنا، بلکہ سبھی کا دل دماغ، ہوش حواس طوافِ غزہ میں دیکھتے ہیں تو دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: غزہ! تو نے دنیا متزلزل کر دی! توحید، رسالت، آخرت سبھی عقائد دنیا کو پڑھا دیے۔ قرآن ہر ہاتھ میں تھما دیا۔ تبلیغ بذریعہ جہاد وشہادت کر ڈالی! دورِ نبوت کے 23سال کی شباہت، جھلک 2023ء میں یوں مجسم ہوکر سامنے آ کھڑی ہوئی ڈھائی ماہ میں!
مکی دور کی صعوبتیں اور اس میں تپ کر کندن ہوئے بے مثال لعل وگہر! یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی! صحنِ کعبہ میں تشدد سہتے صحابہؓ، نبی کریمؐ پر ڈالی اوجھ، مبارک سر پر خاک، پٹتے عبداللہ بن مسعودؓ، سیدنا ابوبکرؓ صدیق، حضرات بلالؓ وخباب! شعبِ ابی طالب میں بلکتے بھوکے بچے، سفر طائف، سبھی کچھ تازہ کر دیا! مدنی دور کے غزوات وسرایا کی شباہت لیے مجاہدینِ فلسطین! بلکہ قرآن کے صفحات پر پھیلی انسانی تاریخ کے سبھی معرکہ ہائے حق وباطل یہاں موجود! کردار کا پری پیکر تاریخ ساز غزہ! اللہ نے ہمیں فتنہئ دجال میں ’الکہف‘ پڑھاکر غار والے پڑھائے تھے۔ (افغانستان کی جنگ پہلے روس کے خلاف، پھر عالمی کفریہ امریکی اتحاد کے خلاف! جنگوں کے دوران غاروں اور غار والوں کی کہانیاں سامنے آ گئیں۔ غاروں پر اہلِ ثروت عرب مجاہدین نے پناہ گاہیں بنانے کا کام کیا تھا۔) اللہ نے ہمیں گڑھوں والے (اصحاب الاخدود: سورۃ البروج) پڑھائے تھے۔ ہم نے 2001ء سے چھیڑے گئے صلیبی صہیونی معرکوں میں آگ اور بارود، سفید فاسفورس کی دجالی جہنم میں مومن ومسلم مجاہدین کو کودتے دیکھا، اپنی جوانیاں اسلام کی سربلندی اور کفر کے استیصال کے لیے قربان کرتے۔ افغانستان، عراق، شام میں میزائلوں والے عالمی اصحاب الاخدود، جنہوں نے نام بھی ’ہیل فائر‘ میزائل یعنی ’جہنم کی آگ‘ رکھے! شدید اذیت رساں کیمیائی ہتھیار بھی آزمائے۔ اب ہم امت کے اس نئے گروہ کو رب تعالیٰ کے سامنے فخر وانبساط سے پیش کر رہے ہیں۔ غزہ والوں کا صبر وثبات اور حماس کا جہاد! جنہوں نے زمین دوز ہوکر محیر العقول سرنگوں کے جال بچھائے۔ جہاد فی سبیل اللہ میں ایک نئی طرح ڈالی۔ زمین کھود کھودکر پُرمشقت، ننگے پیر، پھٹے کپڑے، بھوک پیاس، موسموں کے تغیر وتبدل سے بے پروا حزب الشیطان کو نیچا دکھانے کے لیے کیا کر دکھایا۔ غار والے، گڑھوں والے اور اب باذن اللہ کامیاب وکامران ’سرنگوں والے‘، نئی صدی کے نئے پروانے!
مقامِ بندگی دیگر، مقامِ عاشقی دیگر۔ زنوری سجدہ می خواہی ز خاکی بیش ازاں خواہی……
فرشتے مقامِ بندگی پر ہیں سو ان کا سجدہ ہی کافی ہے! مومن مقامِ عاشقی پر ہے، سو اللہ بندہئ خاکی سے کچھ زیادہ چاہتا ہے! اگرچہ رب تعالیٰ خود بے نیاز ہے۔ لیکن پھر بھی چاہتا ہے کہ توحید کی گواہی ترے عاشق اپنے خون سے دیں!
اور میرے آقا! ایسی بلند آہنگ گواہی اپنے پاکیزہ جوان ابلتے امڈتے لہو سے مادیت کی خدائی کے سارے بت توڑکر کس نے دی ہوگی! ان سے اپنے سچے وعدے، اعلیٰ ترین درجے میں پورے فرما۔ (آمین) شرفِ قبولیت عطا فرما کہ بے شک تیری عظمت اسی کے لایئق ہے۔دنیا اس حقیقت کو دیکھ کر دم بخود ہے کہ نہ غزہ والوں نے حماس کے خلاف واویلا کیا۔ پوری آبادی آگ میں جھونک دینے پر بھی نہ اختلاف نہ اعتراض، نہ چیخ وپکار۔ (اسرائیل میں ہلکے راکٹوں کے اندیشے میں بجتے سائرن پر حواس باختگی، دیوانگی کے پڑتے دورے!) ایک بھی فلسطینی اللہ سے شکوہ کناں نہیں وہ ہستی جس کا اختیار ارض وسماء پر محیط ہے! شہداء پر شکرانے، سجدے! حالانکہ:
ہم پہ آلام وہ آئے ہیں کہ آہ، دن پہ پڑ جاتے تو دن ہوتے سیاہ!
توحید کی گواہی، آیتِ شہادت (اٰل عمران۔ 18) پڑھتے ہوئے ہم تو نوکِ زبان سے دیتے ہیں:وانا علی ذلک من الشاھدین۔ (ہاں! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں۔)، اور یہی گواہی سورۃ التین میں اللہ کے اس سوال پر دوہراتے ہیں: الیس اللہ باحکم الحٰکمین۔ اور ہم لپک کر اللہ کے سب حاکموں سے بڑا حاکم ہونے کی (زبانی کلامی) گواہی دیتے ہیں۔ (عمل کی دنیا میں سارے مسلمان حکمران، عرب وعجم کے،بائیڈن ونیتن یاہو کی قتل وغارت گری بھلائے اپنے اپنے الّو انہی کے ساتھ سیدھے کر رہے ہیں۔ کفر ونفاق کا اتنا مکمل گٹھ جوڑ ظلم وسفاکیت سے خون کی ہولی کھیلنے کا، چشم فلک نے کب دیکھا ہوگا! ادھر اللہ کے پروانے مقامِ عاشقی پر اپنے خون سے بے مثل تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہم صفحات پر کالی، نیلی سیاہی سے دل کا درد انڈیلتے ہیں۔ اور وہاں خون میں نہایا زخمی باپ، اپنی شہید بچی کو اللہ کو سونپتے ہوئے وللہ الحمد کہتا بہتے خون بھرے بوسے کے ساتھ حضورِ رب نذر کرتا ہے! اپنے سارے خواب، سارے ارمان سبھی محبتیں اس ایک ذات پر قربان جس کی کبریائی عین اسی عظیم قربانی کے شایاں ہے! یا رب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجھک وعظیم سلطانک۔ بات صرف اسماعیلؑ کے نام پر بکرے قربان کرکے عید منانے کی تو نہیں …… غزہ کے سارے ملبے، ساری شہادتیں انگیز کرکے، سارے مادیت کے بتوں کو چکناچور کرکے یہ کہنے کا معاملہ ہے: اللھم منک ولک…… اللہ یہ سب عطا تیری طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے…… ربنا تقبل منا!

The post ……یہ تیرے پراسرار بندے appeared first on Naibaat.