Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

انتخابی دھمال، خفیہ منصوبے، سنسنی خیز خبریں

انتخابی دھمال، خفیہ منصوبے، سنسنی خیز خبریں صف دشمناں کو خبر کرو کہ انتخابات سر پر آ پہنچے، انتخابی گہما گہمی شروع ہوگئی۔ سانحہ 9 مئی کے بع...

انتخابی دھمال، خفیہ منصوبے، سنسنی خیز خبریں

صف دشمناں کو خبر کرو کہ انتخابات سر پر آ پہنچے، انتخابی گہما گہمی شروع ہوگئی۔ سانحہ 9 مئی کے بعد سے روپوش، چپیڑیں کھا کے بے مزہ نہ ہوئے اور چلہ کاٹنے والے امیدوار کونے کھدروں بلکہ بلوں سے نکل کر دھمال ڈالتے ہوئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے پہنچ گئے۔ تعداد اتنی بڑھی کہ الیکشن کمیشن کو 2 دن کی توسیع کرنا پڑی، اس دوران مار دھاڑ اور چھینا جھپٹی کے واقعات بھی ہوئے۔ شاہ محمود بے چارے جیل میں تھے۔ کوئی ان کے کاغذات لے کر بھاگ گیا۔ الیکشن ہوئے نہیں اچکے پہلے تیار، 13 جنوری کو امیدواروں کی فہرستیں آویزاں ہوں گی۔ اعتراضات اٹھائے جائیں گے۔ ٹریبونل سماعت کریں گے۔ فیصلے ہوں گے اور حتمی فہرستیں جاری کردی جائیں گی۔ وہی پرانے شکاری شکار کرنے نکلے ہیں۔ اعتراضات اب بھی ہو رہے ہیں۔ جن کے مفادات دائو پر لگے ہیں انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی آڑ میں الیکشن ملتوی کرانے کی احمقانہ سازش، جانتے ہیں اس مرحلہ پر چیف الیکشن کمشنر کی تبدیلی ممکن نہیں اس کے باوجود تحریک چلانے کی دھمکی، پی ٹی آئی کے ٹکٹوں کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بلے کا نشان واپس لے لیا۔ بڑا فیصلہ، بیلٹ پیپر پر بلے کا نشان نہیں ہوگا۔ پارٹی الیکشن کالعدم ہونے سے گوہر علی خان اور دیگر عہدیداران بھی کالعدم، چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات پی ٹی آئی اب عدالتوں میں سر پھوڑے گی۔ مستعار لیے ہوئے بیشتر وکلاء آزاد حیثیت میں پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے۔ کم و بیش 266 آزاد امیدوار اتنے ہی نشانات پر میدان میں ہوں گے۔ جیسی وکالت ویسی سیاست، استاذ الملائک کی جانب سے خوشی کا اظہار بے جا نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کے پرانے ارکان جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں تبدیل ہوتے دیکھیں گے۔ اللہ نہ کرے لیکن ایوان میں ’’مار مکا مار گھونسہ مار لات‘‘ کے مظاہرے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ افنان اللہ جیسے کسی رکن کو تھپڑ پڑے گا۔ جواب میں وہ مروت چھوڑ کر مخالف کو رگید دے گا۔ غیر یقینی صورتحال میں کاغذات نامزدگی جمع ہوگئے۔ سانحہ 9 مئی کو 8 ماہ گزر گئے کوئی مقدمہ چلا نہ سزا ہوئی ملزموں کے حوصلے بڑھ گے کہ آئندہ چند دنوں میں پانسہ پلٹ جائے گا۔ کہیں سے تو ریلیف ملے گا۔ انہوں نے بھی کاغذات جمع کرا دیے ہیں گزشتہ دنوں کی سختی کے بعد ریلیف ملنے لگا ہے۔ سائفر کیس سٹیٹ سیکرٹ پبلک کرنے کا انتہائی خطرناک کیس، عدالت عظمیٰ نے خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کرلی، کھلی آنکھوں سے دیکھیں تو کیس بڑا واضح تھا۔ الزام تھا کہ ’’تم نے یہ کیا غضب کیا سٹیٹ سیکرٹ فاش کردیا لیکن منصفوں نے فیصلہ دیا کہ ’’سائفر ڈی کوڈ ہوجائے تو سائفر نہیں رہتا‘‘ کپتان نے کھیل سمجھ کر کھیلا تب بھی معصوم قرار پائے۔ پہلے صادق اور امین تھے اب معصوم بھی ہیں۔ یا ایھا الناس کیا اب بھی ووٹ نہیں دو گے؟ رہے مقدمات تو پی ٹی آئی کے وکلا شاید اسی لیے 40 مقدمات میں سے کوئی ایک مقدمہ بھی میرٹ پر نہیں لڑ رہے بلکہ ٹیکنیکل بنیادوں پر موخر کرا رہے ہیں۔ اس دوران انہیں لاہور، اسلام آباد یا پشاور میں کسی جانب سے ٹھنڈی ہَوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔ اسی جانب بھاگم بھاگ درخواست دائر کرتے ہیں اور ریلیف حاصل کرلیتے ہیں، بلے کا نشان غائب ہونے سے تھوڑی سی پریشانی لیکن پی ٹی آئی کے سارے ’’عقل مندوں‘‘ نے مل کر خفیہ راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ خفیہ پلان، خفیہ ایپ، خفیہ امیدوار، خفیہ گروپ، کپتان حال مقیم اڈیالہ جیل (سائفر کیس میں ضمانت کے باوجود ہنوز دلی دوراست کئی مقدمات کا سامنا ہے، توشہ خانہ میں سزا اور نا اہلی بحالی ہوگئی اس کے باوجود اسلام آباد، لاہور اور میانوالی سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے) بیکار نہیں بیٹھے ان کی پوری ٹیم کام کر رہی ہے۔ سانحہ 9 مئی میں اسیر اور روپوش ارکان اور ان کے لواحقین کو کورنگ امیدوار کے طور پر ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سب آزاد حیثیت سے لڑیں گے۔ کاغذات منظور ہوئے تو اپنے آپ کو عوام میں پی ٹی آئی کا امیدوار ظاہر کردیں گے۔ خفیہ پلان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلیگرام نامی خفیہ ایپ انسٹال کریں اس میں موجود گروپس سے ہدایات لیں اور ان پر عملدرآمد کریں۔ ہر پولنگ سٹیشن پر نامعلوم افراد کے ذریعے ووٹرز کو لانے اور ووٹ ڈلوانے کے انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ گھروں میں امیدواروں کی جانب سے کپتان کی تصویروں والے کارڈ پھینکے جائیں گے۔ سانحہ 9 مئی کے بعد پارٹی چھوڑ جانے والے بھی واپس آرہے ہیں۔ کس منہ سے آرہے ہیں؟ فواد چوہدری اسی چہرے مہرے سے واپس پلٹے اہلیہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گی۔ عثمان ڈار سیاست چھوڑنے کا نعرہ لگا کر گئے تھے اپنی والدہ کو میدان میں لے آئے مگر خواجہ آصف پر گھنائونا الزام لگانے سے باز نہ آئے۔ سیاست اوڑھنا بچھونا، چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘ شنید ہے بابر اعوان راولپنڈی کے این اے 54 سے شیخ رشید کے مقابل ہوں گے۔ شیخ رشید پریشان، کہنے لگے قربانیوں کا یہ صلہ، ’’چلہ کاٹا تھپڑ کھائے پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں‘‘ لاہور کے ایک حلقے سے خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ خم ٹھونک کر سعد رفیق سے مقابلہ کے لیے نکلیں گے گھمسان کارن پڑے گا، حال ہی میں پی ٹی آئی کا طوق گلے میں ڈالنے والے لطیف کھوسہ سردار ایاز صادق کا مقابلہ کریں گے۔ سنسنی خیز مقابلہ میاں نواز شریف اور چپیڑ فیم وکیل شیر افضل مروت ایڈووکیٹ میں ہوگا جن کا کہنا ہے کہ خوشبو لگا کر نواز شریف کو ہرائوں گا۔ (پتا نہیں خوشبو لگانے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے، نسوار وغیرہ کا مسئلہ ہوگا) ایک حلقہ سے عمران خان اور دوسرے سے احمد اویس ایڈووکیٹ ن لیگی امیدواروں کا مقابلہ کریں گے۔ لیکن دلچسپ مقابلہ پی پی 150 میں مریم نواز اور سانحہ 9 مئی کی اسیر صنم جاوید میں دیکھنے کو ملے گا۔ اللہ اس ملک پر رحم کرے کیسے کیسے لوگ پارلیمنٹ میں لائے جا رہے ہیں۔ امیدوار سرگرم نہیں ہوئے، سروے کرنے والے لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں کود پڑے، کسی بھی حلقے میں پہنچ کر مخصوص افراد کی منڈلیوں سے سوال پوچھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ووٹ کس کو دو گے جواب ملتا ہے جس کا نام لیتے خوف آتا ہے۔ ’’یا پھر کورا جواب کسی کو بھی نہیں‘‘ ادھر محترم سہیل وڑائچ کے تبصرے ماحول بنانے میں ممد و معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے حالیہ تبصرے میں انکشاف کیا گیا کہ ریاستی اداروں کے مطابق پنجاب کی 141 میں سے 80 یا 90 نشستیں ن لیگ کو مل سکتی ہیں۔ لاہور کی 14 میں سے 8 ن لیگ، 6 پر پی ٹی آئی کو برتری حاصل ہوگی۔ تاہم ن لیگ کا ووٹ بڑھنے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کا ووٹرز خوف اور نا امیدی کی وجہ سے گھر سے نہیں نکلے گا۔ ووٹنگ کا ٹرن آئوٹ 40 سے 50 فیصد رہا تو ن لیگ جیت جائے گی تناسب 60 سے 70 فیصد ہوا تو شہری علاقوں میں خان فاتح قرار پائے گا۔ ریاستی اداروں کے ایک سابق سروے میں ن لیگ کی سیٹوں کی تعداد 110 بتائی گئی تھی تاہم بتایا گیا کہ اب تک رابطہ مہم شروع نہ کرنے کی وجہ سے 15نشستوں میں کمی ہوسکتی ہے، مقبولیت کا اندھاکارڈ، مقبولیت کیسے سامنے آئے گی۔ الیکشن سے پہلے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ خفیہ منصوبہ اور ورچوئل جلسہ کا پہلا رد عمل 25 سابق ارکان اسمبلی نے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے سے انکار کردیا۔ 18 کے شناختی کارڈ بلاک 266 میں سے 50 نکل گئے۔ ٹکٹوں سے انکار کرنے والوں میں بیشتر کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے۔ ایک اور سروے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے 478 میں سے 230 چھوڑ گئے۔ 65 تذبذب کا شکار، 183 ڈٹ کے کھڑے ہیں جو چھوڑ گئے ان کی وجہ سے ووٹوں پر اثر پڑے گا۔ جو ڈٹ گئے ان میں بیشتر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے بہت سے روپوش ہیں۔ مزید 63 کے وارنٹ جاری کردیے گئے۔ پی ٹی آئی کے لیے مشکلات ہوں گی۔ خان سمیت بیشتر ارکان کے لیے سکروٹنی میں کلیئر ہونا مشکل ہوگا۔ الیکشن کیسے لڑیں گے اپ سیٹ تو ہوگا کس کا ہوگا؟ خفیہ پلان بنانے والوں کو اس دن پتا چلے گا جب نتائج آئیں گے کہ منصوبہ ہوائی تھا یا سیاست فضائی، زمینی حقائق بہتوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیں گے۔ کپتان جیل میں بیٹھے چومکھی لڑ رہے ہیں۔ تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کی تیاری لیکن اپنے وکلا کو ہدایت کہ آئندہ چیف جسٹس کے آنے تک الیکشن رکوانے کی کوششیں کرتے رہو۔ بیرون ملک سے دبائو ڈالنے کی کوششیں بھی جاری، امریکا میں موجود قوم یوتھ کے سرگرم رکن کے مطابق جمائما خان کا خاندان 50 این جی اوز اور لندن کے 10 وکلا خان کو چھڑا کر لے جانے کے لیے پلاننگ کر رہے ہیں۔ کھیل شروع ہوگیا ہے۔ بساط بچھا دی گئی۔ لیکن سیاسی پنڈتوں کے مطابق ابھی تک فیصلہ نہیں ہو پایا کہ کون فاتح ہوگا کسے مات ہوگی۔ کہاں شادیانے بجیں گے کہاں ماتم ہوگا۔ دراصل روایتی اور غیر روایتی لیڈروں میں مقابلہ ہوگا۔ میاں نواز شریف نے انتہائی محتاط ہو کر مہرے سیٹ کیے ہیں۔ 18 پارلیمانی اجلاسوں کے بعد ٹکٹ جاری کیے گئے۔ آصف علی زرداری بڑی خاموشی اور رازداری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں ن لیگ کا راستہ روک دیا ہے لیکن پنجاب میں رسائی میں مشکلات درپیش ہیں جنوبی پنجاب کے 25 آزاد ارکان ان کی مشکل حل کرسکتے ہیں لیکن ان میں بیشتر کا میلان ن لیگ کی طرف ہے پی ٹی آئی کو ابھی تک پنجاب میں لیول کجا پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہا جس کی وجہ سے وہ ورچوئل جلسے کرنے پر مجبورہوئی ہے۔ روپوش لیڈروں کے کاغذات داخل کرنا مسئلہ نہیں اصل مسئلہ ان کے کاغذات کی منظوری اور میدان میں آکر مقابلہ کرنا ہے ایسے میں سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن سے ایک دو دن پہلے بھی ان لیڈروں کو سزا سنا دی گئی تو صرف ڈھول بجتے رہیں گے کھیر کسی کے حصہ میں نہیں آئے گی۔ سب قیاس آرائیاں، ہوائی تجزیے، سب کچھ ٹھیک نہیں ہے کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔ باغیانہ رویے سامنے آرہے ہیں کوئی نادیدہ ہاتھ متحرک ہے بازی کسی بھی وقت پلٹ سکتی ہے۔

The post انتخابی دھمال، خفیہ منصوبے، سنسنی خیز خبریں appeared first on Naibaat.