Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

نفسیاتی محرکات اور ان کا حل

نفسیاتی محرکات اور ان کا حل نفسیات انسانوں اور غیر انسانوں کے عقل اور رویہ کا سائنسی مطالعہ ہے۔ نفسیات میں احساسات اور خیالات سمیت شعوری او...

نفسیاتی محرکات اور ان کا حل

نفسیات انسانوں اور غیر انسانوں کے عقل اور رویہ کا سائنسی مطالعہ ہے۔ نفسیات میں احساسات اور خیالات سمیت شعوری اور بے شعوری مظاہر کا مطالعہ کرنا شامل ہے۔ یہ ایک بہت وسعت والا تدریسی مضمون ہے جو قدرتی اور معاشرتی علوم کے حدوں کو پار کرتا ہے۔ ماہرین نفسیات، علم الاعصاب کو جوڑتے ہوئے، دماغوں کی ابھرتی ہوئی خاصیتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرتی سائنس دانوں کی طرح، ماہرین نفسیات فردوں اور گروہوں کے رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے ہیں۔ یونانی لفظ ‘Psyche’ کے پہلے حروف تہجی سے لفظ’Psychology’ اخذ ہوا ہے کو عام طور پر سائنس سے جوڑا جاتا ہے۔اردو ویکیپیڈیا پر soul سے مراد نفس کی لی گئی ہے اور یہ لفظ جیسا کہ روح (spirit) کے مضمون میں بھی ذکر آیا کہ بعض اوقات قرآن میں روح کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور علما کا ایک گروہ ان کو ایک ہی چیز کے دو متبادل نام تصور کرتا ہے جبکہ دوسرا گروہ انکو دو الگ چیزیں شمار کرتا ہے ۔ انکی مزید تفصیل کے لیے نفس اور روح کے صفحات مخصوص ہیں۔ یہاں صرف اتنا ذکر ہے کہ spirit سے مراد اس شے کی ہے جو اللہ کی جانب سے جاندار کی تخلیق کے وقت اس کے جسم میں پھونکی جاتی ہے (عام طور پر اس پھونکی جانے والی چیز کو روح کہا جاتا ہے، واضح رہے کہ انگریزی کتب
میں اس کے لیے soul کا لفظ بکثرت آتا ہے جبکہ spirit بھی کم مستعمل نہیں) اور اسی سے اس جاندار کی مکمل زندگی (جسمانی اور عقلی) کی ابتدا ہوتی ہے۔ دوسرا گروہ (کثیرالتعداد) یہ کہتا ہے کہ روح اور نفس ایک ہی شے ہے وہ بھی یہ مانتا ہے کہ ان کے استعمال میں سیاق و سباق کا فرق موجود ہے، اس گروہ کی اکثریت کے نزدیک نفس بطور خاص اس وقت لاگو ہوتا ہے کہ جب وہ جسم کے ساتھ ہو (یعنی بحالت زندگی اور دنیا داری) جبکہ اگر اس کا جسم سے تعلق ختم ہو جائے تو روح کا لفظ لاگو ہوتا ہے۔ نفسیاتی اور طبی لحاظ سے روح وہ بنیادی شے ہے کہ جس سے کسی جاندار کے جسم میں زندگی برقرار رہتی ہے جبکہ نفس اس روح (یا اس کی زندگی) کا جسمانی اور دنیاداری استعمال ہے۔ اس کے علاوہ یہ اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں بھی لفظ نفس کو شخصیت یا ذات کے معنوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔
اگر اوپر کی بنیادی تعریف کو بغور دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عقل (mind) (عقلی زندگی) سے متعلق ہونے کی وجہ سے اس کا دائرہ بے انتہا وسیع اور ہمہ گیر ہے اور اس میں عقلی عملیت (mental processes) کے تمام پہلو مثلا ؛ قیاس (perception)، ادراک (cognition)، جذبات (emotion)، شخصیت (personality)، بین الاشخاصی روابط اور ظاہر ہے کہ رویہ بھی داخل مطالعہ ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ نفسیات کو طبی اور معاشرہ سے متعلق دیگر شعبہ جات میں ایک کلیاتی علم (academia) کی حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفاذی علم کا درجہ بھی حاصل ہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو نفسیاتی طور پر صحت مند رکھنے کے لیے سیاسی، معاشی، سماجی، معاشرتی، مذہبی حالات اور سمتوں کا مضبوط اور درست ہونا بہت ضروری ہے۔ یہی سمتیں معاشرے اور سماج کے قاعدے، کلیے، آئین اور اخلاقیات مرتب کرتی ہیں۔ اگر یہ جہتیں اپنا رخ منفی سمتوں کی طرف کر لیں تو معاشرے اور افراد کج روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور معاشرتی اور افرادی توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ان عادات کا ختم ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔البتہ ایسی عادات کم کی جاسکتی ہیں۔ان عادات کو کم کرنے لیے مناسب ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ دور انتہائی شعور اور جدت کا دور ہے۔ اس دوڑ میں ہر شخص اپنے آپ کو کامیاب اور دوسرے سے آگے دیکھنا چاہتا ہے۔خواہ اس کے لیے اسے کوئی بھی راستہ اختیار کیوں نہ کرنا پڑے۔ کسی کو پیروں تلے روندنا پڑے یا کسی کا گلا کاٹنا پڑے، لوگ گریز نہیں کریں گے۔مادہ پرستی کے اس دور میں لوگوں میں ڈپریشن کے بڑھنے اور نفسیاتی بیماروں میں مبتلا ہونے کے چانس زیادہ ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ زندگی کو سادہ کیا جائے ضرورتوں کو کم کیا جائے بلا وجہ کی آسائشوں کو ختم کیا جائے قرآن اور سنت پر عمل کیا جائے۔ اسی میں ہماری فلاح ہے۔ اسی میں ہماری کامیابی ہے۔ اسی میں دنیا کی بھلائی اور آخرت کی کامیابی ہے۔

The post نفسیاتی محرکات اور ان کا حل appeared first on Naibaat.