Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

یہ چمن مجھ کو آدھا گورا نہیں۔۔۔۔۔۔!

یہ چمن مجھ کو آدھا گورا نہیں۔۔۔۔۔۔! مشیر کاظمی مرحوم کی سقوطِ مشرقی پاکستان کے حوالے سے لکھی گئی نظم ”قبرِ اقبال سے آ رہی ہے صدا“ کا تذکرہ...

یہ چمن مجھ کو آدھا گورا نہیں۔۔۔۔۔۔!

مشیر کاظمی مرحوم کی سقوطِ مشرقی پاکستان کے حوالے سے لکھی گئی نظم ”قبرِ اقبال سے آ رہی ہے صدا“ کا تذکرہ پچھلے کالم میں ہونے سے رہ گیا تھا۔ مشیر کاظمی بلا شبہ ایک مشہور شاعر اور نامور نغمہ نگار تھے۔ پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے میں صدر ایوب خان کے دور میں اُن کی فی البدیہہ شاعری کا بڑا شہرہ تھا۔ اُنہوں نے بہت سارے فلمی گیت اور ملی نغمے لکھے۔ اللہ کریم نے اُنہیں بڑی خوبصورت ، پُر سوز اور گھن گرج والی آواز دے رکھی تھی۔ وہ لاہور میں کسی محفل یا تقریب میں خوبصورت ترنم کے ساتھ بلند آہنگ میں اپنا کلام سناتے تو ایسا سماں بندھ جاتا کہ سننے والے دم بخود رہ جاتے۔ دسمبر 1971ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا المیہ رو نما ہوا تو انہوں نے "قبر ِ اقبال سے آ رہی ہے صدا ” کے عنوان سے یہ نظم لکھی۔ یہ نظم کیا ہے اک نوحہ ہے جس میں خون کے آنسوئوں کو الفاظ کا روپ دیا گیا ہے۔ بلا شبہ آج بھی اس نظم کو پڑھتے ہوئے آنکھوں سے ہی آنسو جاری نہیں ہو جاتے بلکہ دل بھی درد کی ٹیسوں سے بھر جاتا ہے۔
نظم ملاحظہ کیجئے ؎
قبرِ اقبال سے آ رہی ہے صدا
پھول لے کر گیاآیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبرِ اقبال سے آ رہی تھی صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
شہر ماتم تھا اقبال کا مقبرہ
تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خون میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی
روح قائد بھی سر کوجھکائے ہوئے
کہہ رہے تھے سبھی کیا غضب ہو گیا
یہ تصور تو ہر گِز ہمارا نہیں
سر نگوں تھا قبر پہ مینارِ وطن
کہہ رہا تھا کہ اے تاجدارِ وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر
کیسے قائم ہوا یہ حصارِ وطن
جس کی خاطر کٹے قوم کے مرد و زَن
ان کی تصویر ہے یہ مینارہ نہیں
کچھ اسیرانِ گلشن تھے حاضر وہاں
کچھ سیاسی مہاشے بھی موجود تھے
چاند تارے کے پرچم میں لپٹے ہوئے
چاند تاروں کے لاشے بھی موجود تھے
میرا ہنسنا تو پہلے ہی جرم تھا
میرا رونا بھی اُن کو گوارا نہیں
کیا فسانہ کہوں ماضی و حال کا
شیر تھا میں بھی اک ارضِ بنگال کا
شرق سے غرب تک میری پرواز تھی
ایک شاہین تھا میں ذہنِ اقبالؔ کا
ایک بازو پہ اڑتا ہوں میں آج کل
دوسرا دشمنوں کو گوارا نہیں
یوں تو ہونے کو گھر ہے سلامت رہے
کھینچ دی گھر میں دیوار اغیار نے
ایک تھے جو کبھی آج دو ہو گئے
ٹکڑے کر ڈالا دشمن کی تلوار نے
دھڑ بھی دو ہو گئے در بھی دو ہو گئے
جیسے کوئی بھی رشتہ ہمارا نہیں
قبرِ اقبال سے آ رہی ہے صدا
یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں۔

The post یہ چمن مجھ کو آدھا گورا نہیں۔۔۔۔۔۔! appeared first on Naibaat.