Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

سیاسی انتخاب۔۔۔۔۔۔جوش نہیں ہوش

سیاسی انتخاب۔۔۔۔۔۔جوش نہیں ہوش سیاست اب وہ سیاست نہیں رہی ہے،پہلے لوگ نہ صرف سیاست کو اتحاد، اتفاق اورخدمت خلق کاذریعہ سمجھتے تھے بلکہ علاق...

سیاسی انتخاب۔۔۔۔۔۔جوش نہیں ہوش

سیاست اب وہ سیاست نہیں رہی ہے،پہلے لوگ نہ صرف سیاست کو اتحاد، اتفاق اورخدمت خلق کاذریعہ سمجھتے تھے بلکہ علاقائی وقومی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لئے سیاست کو بروئے کار بھی لاتے تھے لیکن اب؟ اب معاملہ مکمل طورپرالٹ اورسیاست کے معنی و مفہوم یکسر بدل چکے ہیں۔کل تک جس سیاست کے ذریعے لوگوں کو متحد کر کے ترقی وخوشحالی کے منازل طے کئے جاتے تھے آج اسی سیاست کی وجہ سے لوگوں کو تقسیم کر کے ترقی و خوشحالی کے مینار گرائے جا رہے ہیں۔ چند سال پہلے تک جس سیاست کے ذریعے نہ صرف شہروں بلکہ دور دراز علاقوں، گائوں اور دیہات کے لوگ بھی ایک دسترخوان اور ایک چارپائی پر بیٹھ کر دکھ سکھ اور محبتیں بانٹا کرتے تھے آج اسی سیاست کی وجہ سے ایک ہی چھت تلے رہنے والے بھائی بھی بھائی کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ جن شہروں، علاقوں، گائوں اور دیہات میں لوگوں کا دکھ سکھ کبھی ایک ہوا کرتا تھا اس کمبخت سیاست کی برکت سے اب ان شہروں، علاقوں، گائوں اور دیہات میں بھی دکھ سکھ ایک نہیں رہا ہے۔ پہلے کچھ کچھ سیاستدان ”عوام کو لڑائو اور حکومت کرائو‘‘ کا فارمولہ اپناتے تھے لیکن اب گلی محلوں میں بنٹے کھیلنے والے سیاستدان بھی یہ فارمولہ جیبوں میں تیار رکھتے ہیں۔ سیاست اور سیاستدانوں کے معاملے میں عوام کی لاشعوری، لاعلمی اور کم فہمی کودیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔سیاست میں حمایت اور مخالفت یہ شروع سے ہے اور غالباً نہیں یقینا آخر تک رہے گا۔ حمایت اور مخالفت یہ کوئی بلا اور کوئی بری چیز بھی نہیں۔ اچھائی کا ساتھ اور برائی کی مخالفت یہ تو رب کا بھی حکم ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم، شعور اور درس دیتا ہے کہ اچھائی کاساتھ دو اور برائی کی مخالفت کرو۔ ہمارے بزرگ سیاست کے میدان میں بھی اچھے لوگوں کو دیکھ کران کاساتھ دیتے تھے یہی وجہ تھی کہ اس وقت پھرہمارے شہروں، گائوں اور دیہات میں کام بھی اچھے ہوتے تھے۔ ہمیں نہیں یاد پڑ رہا کہ ہمارے بزرگوں کے اس دنیا سے جانے کے بعد ہمارے اپنے گائوں جوز یاقریبی علاقوں میں کوئی خاص ترقیاتی کام ہوئے ہوں۔ بجلی ہمارے علاقے میں پچیس تیس سال پہلے آگئی تھی، علاقے میں سکول اور ہسپتال بھی وہی ہے جو بیس پچیس سال پہلے بنے تھے۔ روڈ کی جو حالت بزرگوں کے وقت تھی غالباً روڈ کا وہی حال آج بھی ہے۔ ہمارے بزرگ سیاستدانوں کا کام اور کردار دیکھ کران کا ساتھ دیتے تھے لیکن اب ہمارے ماڈرن دور کے لوگ اور جوان کام اور کردار کو چھوڑ کر سیاستدانوں کے چہرے دیکھ کر ان کی حمایت اور مخالفت کرتے ہیں۔ پہلے سیاست میں پورے گائوں، علاقے اور دیہات والوں کا کہیں ایک سیاسی بھگوان ہوا کرتا تھا لیکن اب ہر شخص نے اپنا ایک الگ سیاسی بھگوان پالا ہوا ہے۔ یہ جانتے، سمجھتے اور دیکھتے ہوئے بھی کہ ان سیاسیوں سے سوائے پانی کے ایک کالے پائپ یا بجلی کے دو کھمبوں کے اور کچھ حاصل نہیں ہو گا اس کے باوجود لوگ سالہاسال ان کی خاطر گائوں، علاقے اور گھروں میں دشمنیاں پالتے ہیں، عقل و شعور سے کورے اور بے خبر یہ لوگ اپنے بچوں اور رشتہ داروں کا اتنا خیال نہیں رکھتے جتنا یہ اپنے سیاسی بھگوانوں کا پاس رکھتے ہیں۔ ووٹ لیکر بھی کام کوئی نہیں کر رہا لیکن عوام پھر بھی ان کے گن گاتے ہیں۔ صحت، تعلیم، پانی، بجلی، گیس اور شاہراہوں کی خستہ حالی جیسے مسائل ہر جگہ موجود ہیں جہاں سڑکیں ہیں وہاں پانی اور بجلی نہیں جہاں پانی اور بجلی ہے وہاں گیس اور سڑکیں نہیں ،کئی کئی علاقے، شہر، گائوں اور دیہات ایسے ہیں جہاں سال نہیں سالہا سال سے کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر آپ وہاں کے لوگوں کو دیکھیں تو وہ آپ کو سیاسیوں کی محبت میں گرفتار دکھائی دیں گے۔ ہمارے درمیان اکثریت اب ان لوگوں کی ہو گئی ہے جنہیں اپنے شہروں، علاقوں، گائوں اور دیہات کی ترقی اور اپنوں کی خوشحالی کی تو کوئی فکر نہیں لیکن سیاسیوں کی سیاست پر وہ ہروقت مرے جا رہے ہیں۔ یہ رات کو جب سوتے ہیں تو خواب میں بھی یہ میرا خان، تیرا خان اور میرا لیڈر، تیرا قائدکے نعرے لگاتے پھرتے ہیں۔ ان کا تو کوئی لمحہ خان جی، نواب جی اور چوہدری جی کے ورد سے خالی نہیں ہوتا لیکن خان جی، چوہدری جی اور نواب جی کے پاس ان خواب دیکھنے والوں کے لئے لمحے کا بھی ٹائم نہیں ہوتا۔ یہ پانچ سال میں صرف ایک بار الیکشن کے دوران عوام کا دیدار کرتے ہیں۔ الیکشن کے بعد ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بھی کوئی ووٹر سپورٹر ہیں۔ ہم  نے ایسے کئی لوگ دیکھے ہیں جن کی ساری زندگیاں ان خانوں، نوابوں اور سیاسیوں کے لئے ووٹ و سپورٹ مانگتے گزری لیکن جب وہ اس دنیا سے گئے تو یہی خان، نواب اور سیاسی ان کے جنازوں تک میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ ان کے پاس ٹائم نہیں تھا۔ جن لوگوں کے پاس اپنے محسنوں کے آخری دیدار کے لئے بھی ٹائم نہیں ہوتا اب خود اندازہ لگائیں وہ کسی کے لئے کیا کام کریں گے؟۔ پہلے بھی پھر بھی کچھ گزارا تھا لیکن اب سیاست نے مکمل طور پر ایک کاروبار کا روپ دھار لیا ہے ۔ چھوٹے ہیں یا بڑے، گلی محلے کی سطح کے ہیں یا ہائی لیول کے۔ معذرت کے ساتھ ہمارے اکثر سیاستدان اب دکاندار بن چکے ہیں۔ پہلے لوگ سیاست کو عبادت سمجھ کر لوگوں کی خدمت کے لئے کیا کرتے تھے لیکن اب سیاست لوگ عبادت اور خدمت نہیں اپنی ذات اور مفاد کے لئے کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں نا کہ بلی اللہ کی رضا کے لئے کوئی چوہا نہیں مارتی۔ ہمارے سیاستدان بھی اللہ کی رضا کے لئے سیاست میں تھوڑے آتے ہیں۔ ان کا اگر بس چلے تو یہ پانچ سال بعد بھی عوام کو اپنی شکل نہ دکھائیں۔ یہ تو شکل صرف اس لئے دکھاتے ہیں کہ یہ ان کی مجبوری ہوتی ہے۔ یہ اگر عوام کے ووٹ اور سپورٹ کے بغیر ناظم، ایم این اے اور ایم پی اے بن سکتے تو آپ یقین کریں یہ آپ کو دور بین کیا ؟ خوردبین میں بھی کہیں نظر نہ آتے۔ اس لئے ہر مداری کو مسیحانہ سمجھیں بلکہ اصلی اور نقلی میں فرق کر کے سیاست سیاست کے گن اور گیت گائیں۔ پانچ سال تک ہاتھ ملنے اور مگرمچھ کے آنسو بہانے سے بہتر ہے کہ صرف ایک بار جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا جائے۔ ویسے بھی ہماری سیاست اب جس ڈگر پر چل نکلی ہے اس میں جوش دکھانے یا جوش سے کام لینے کی ضرورت ہی باقی نہیں بچی ہے۔ اس سیاست سے تو اب جو جتنادور رہے گا وہ اتنا پرسکون رہے گا۔

The post سیاسی انتخاب۔۔۔۔۔۔جوش نہیں ہوش appeared first on Naibaat.