Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

ماضی کے عام انتخابات۔۔۔۔۔۔!

ماضی کے عام انتخابات۔۔۔۔۔۔! ان کالموں میں ملک میں ماضی میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ آج کے کالم میں مئی 2013ء ا...

ماضی کے عام انتخابات۔۔۔۔۔۔!

ان کالموں میں ملک میں ماضی میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ آج کے کالم میں مئی 2013ء اور جولائی 2018ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کا جائزہ لے کر اس سلسلے کو تمام کیا جاتا ہے۔ مئی 2013ء کے عام انتخابات ہوں یا جولائی 2018ء کے عام انتخابات، ان کو منعقد ہوئے کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ اس طرح ان کے بارے میں تفصیلات کچھ زیادہ پرانی نہیں سمجھی جا سکتیں۔ 16 مئی 2013ء کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں بڑا مقابلہ وفاق میں پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اسی عرصہ کے دوران پنجاب میں بر سر اقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) کے درمیان تھا تو تحریکِ انصاف بھی مقتدر حلقوں کی در پردہ حمایت اور تائید کے ساتھ ایک مو ثر سیاسی قوت کے طور پر انتخابی میدان میں موجود تھی۔ انتخابی مہم شروع ہوئی تو پیپلز پارٹی اپنی ناقص حکومتی کارکردگی کی بنا پر ہی دبائو کا شکار نہیں تھی بلکہ اسے نا اہلی اور بد عنوانی جیسے الزامات کا بھی سامنا تھا۔اس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اگرچہ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں اپنی حاضری اور وہاں زور داربیانات دینے کے حوالے سے مثالی ریکارڈ کے حامل تھے اور ان کے زبانی کلامی دعوے اور نعرے بھی زور دار تھے لیکن ان کی حکومتی کارکردگی انتہائی ناقص رہی تھی۔ اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی مد مقابل بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں حکومتی کارکردگی کا ریکارڈ کئی درجے بہتر تھا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی فعالیت، بھاگ دوڑ، حکومتی معاملات پر گرفت اور صوبے میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا جیسے معاملات اس کا بڑا کریڈٹ تھے۔ ان حالات میں 16مئی کو عام انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں واضح بر تری ہی حاصل نہ ہوئی بلکہ پنجاب میں مسلم لیگ (ق) جو پچھلے عرصے میں وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومتی اتحادی رہی تھی کا بھی تقریباً خاتمہ ہو گیا۔ ان انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف قومی اسمبلی میں پچاس کے لگ بھگ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی تو خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی میں عددی اعتبار سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی اور وہاں حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

پیپلز پارٹی کے نزدیک مئی 2013ء کے انتخابی نتائج دھاندلی کا نتیجہ تھے جو آر اوز (ریٹرننگ آفیسرز) نے مسلم لیگ (ن) کو جتوانے کے لیے کی۔ تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ (ن) کی جیت کو پینتیس پنکچر کا شاخسانہ قرار دیا جو نجم سیٹھی کی پنجاب کی نگران حکومت نے تحریکِ انصاف کی جیت کو ہار میں تبدیل کرنے کے لیے پنجاب میں قومی اسمبلی کے اس کے امیدواروں کو ناکامی سے دو چار کرنے کے لیے لگائے۔ تاہم پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے انتخابی نتائج کے بارے میں یہ تحفظات جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں تھی کوئی زیادہ پذیرائی حاصل نہ کر سکے۔ مسلم لیگ (ن) بہر کیف قومی اسمبلی میں بڑی سیاسی جماعت تھی، اس طرح اسے اپنی حکومت بنانے کا موقع ملا اور میاں محمد نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔

میاں محمد نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کا تیسرا دور کن حالات و واقعات سے عبارت رہا اس کی تفصیل میں نہیں جاتے تاہم اتنا کہا جا سکتا ہے کہ شروع سے ہی انہیں مشکلات اور مسائل سے دو چار ہونا پڑا۔ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی لاؤلشکر سمیت اسلام آباد پر چڑھائی اور مقتدر حلقوں کی میاں نواز شریف سے دوری ایسے معاملات تھے جو جلد ہی سامنے آ گئے۔ اس دوران انہیں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے بھی دبائو کا سامنا رہا جو بطورِ آرمی چیف اپنی مدت ملازمت میں توسیع چاہتے تھے اور وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اس پر آمادہ نہیں تھے۔ ڈان لیکس کا معاملہ بھی اسی دبائو کے نتیجے میں سامنے آیا۔ پھر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں اعلیٰ عدلیہ بھی ان کے در پے ہو گئی یہاں تک کہ جولائی 2017ء میں جب ان کی حکومتی معیاد کا تقریباً ایک سال باقی تھا ، پا نامہ پیپرز کی آڑ میں انہیں نا اہل قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی ان کی جگہ وزیرِ اعظم بنے جو اگلے سال مئی 2018 میں قومی اسمبلی کی پانچ سالہ معیاد مکمل ہونے تک اس عہدے پر فائز رہے تاہم مسلم لیگ (ن) کے لیے آئندہ انتخابات میں کڑا وقت صاف نظر آنا شروع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی جناب عمران خان اور ان کی جماعت کے لیے مقتدر حلقوں کی طرف سے عنایات اور نوازشات کی بارش برسنے کے آثار بھی کھل کر سامنے آنے لگے۔

جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے لیے 25 جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی۔ ان انتخابات میں جناب عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے مقتدر حلقے انتخابت کے انعقاد سے قبل ہی پوری طرح سر گرم ہو چکے تھے۔ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بہت سارے الیکٹ ایبلز (انتخابات جیتنے کے اہل) کو ہانک کر تحریکِ انصاف میںشامل کرایا گیا۔ اس کے ساتھ میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کو ایوان فیلڈ ریفرنس میں سزائیں دلوا کر جیل بھیج دیا گیا۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کے بال و پر کاٹنے کی پوری کوشش ہوئی۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پولنگ ڈے تک ایک ایسی فضا بنا دی گئی کہ پولنگ ڈے پر تحریکِ انصاف کا پلڑا بھاری نظر آناشروع ہو گیا۔ پھر رہی سہی کسر 25 جولائی کی رات کو انتخابی نتائج آنے کے بعد آر ٹی ایس کو ناکارہ بنا کر کے پوری کی گئی۔ کئی انتخابی حلقوں کے نتائج تبدیل کیے گئے، مثال کے طور پر کراچی کورنگی کے حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی جیت یقینی تھی لیکن انہیں چند سو ووٹوں کے فرق سے ہرا دیا گیا۔ سیالکوٹ میں خواجہ آصف کے ساتھ اسی طرح کی واردات کرنے کے کوشش ہوئی لیکن اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مداخلت سے وہ بچ گئے۔ پنڈی میں چوہدری نثار علی خان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا کہ صوبائی اسمبلی کی نشست سے وہ جیت گئے جبکہ اس کے اوپر قومی اسمبلی کی نشست سے ہار ان کا مقدر بنی۔ غرضیکہ لاہور اور بعض دوسری جگہوں پر بھی کچھ ایسے ہی نتائج سامنے آئے۔ اس طرح تحریکِ انصاف کی کامیابی کی راہ ہموار ہوئی تاہم وہ قومی اسمبلی اور پنجاب صوبائی اسمبلی دونوں میں بڑی جماعت تو بن کر ضرور سامنے آ گئی لیکن اکثریتی جماعت کی حیثیت حاصل نہ کر سکی۔ اس کے لیے پھر ایک اورہانکے کا بندوبست کیا گیا جس کے لیے جہانگیر ترین جو اس وقت تحریکِ انصاف میں عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھی کی حیثیت سے ان کا دست و بازو شمار ہوتے تھے اپنے ہوائی جہاز اور دیگر وسائل سمیت میدانِ عمل میں آئے۔ انہوں نے آزادانہ حیثیت سے انتخابات جیت کر منتخب ہونے والے ممبرانِ قومی اسمبلی و پنجاب صوبائی اسمبلی جو ایک معقول تعداد میں تھے کو بنی گالہ اسلام آباد میں عمران خان کے سامنے لا کر انہیں تحریکِ انصاف میں شامل کرنے کا مشن پورا کیا ۔ اس میں انہیں مقتدر حلقوں کی بھر پور حمایت بھی حاصل تھی۔ اس طرح تحریکِ انصاف قومی اور پنجاب دونوں اسمبلیوں میں اپنی عددی اکثریت کے ساتھ وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومتیں بنانے میں کامیاب ہو سکی۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اسے پہلے ہی اکثریت حاصل تھی اور اسے حکومت بنانے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں تھا۔ ملک میں ماضی میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کا تذکرہ اسی پر تمام کرتے ہیں۔ آئندہ کالموں میں اٹھارہ انیس دن بعد 8 فروری 2024 کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بارے میں صورتِ حال کو سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔

The post ماضی کے عام انتخابات۔۔۔۔۔۔! appeared first on Naibaat.