Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

اوئی اللہ عوامی پارٹی!

اوئی اللہ عوامی پارٹی! تمام تر خدشات کے باوجود آخرکار ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخاب کے لیے سیاسی گہما گہمی کا ماحول بننا شروع ہو...

اوئی اللہ عوامی پارٹی!

تمام تر خدشات کے باوجود آخرکار ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخاب کے لیے سیاسی گہما گہمی کا ماحول بننا شروع ہو گیا ہے۔ چوک چوراہوں میں رنگارنگ بینر، پینا فلیکس اور وال چاکنگ کے ساتھ گلی محلوں میں سیاسی بحث مباحثے، کارنر میٹنگوں، کھابوں شابوں اور امیدواروں کی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم سے ہر نئے دن کے ساتھ الیکشن کی رونقیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ گذشتہ دنوں شدید ٹھنڈ میں دوپہر ایک بجے کے قریب میرا سب سے چھوٹا بیٹا محمد ابراہیم اور میں اپنے بستر میں دبکے سپورٹس چینل پر پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے کہ دروازے کی بیل ہوئی۔ ابراہیم نے جا کے دیکھا تو بتایا ”پاپا دو آنٹیاں آپ سے ملنے آئی ہیں“۔ میں بیٹے سے انہیں ڈرائنگ میں بٹھانے کا کہہ کر اپنے ”بودے شودے“ سنوار کے جونہی ڈرائنگ روم میں پہنچا تو ایک دم میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی وہاں خواتین کے بھیس میں شدید قسم کے دو خواجہ سرا بیٹھے تھے۔ انہیں دیکھ کر ایک لمحے کے لیے مجھے غصہ تو آیا لیکن پھر گھر آئے مہمانوں کی تکریم کا سوچ کر میں نے بادل نخواستہ انہیں سلام کرنے کے بعد پوچھا ”جی فرمائیے آپ نے کیسے زحمت کی؟“۔ اُن دونوں میں سے ایک جو اپنے حلیے اور شکل سے کچھ زیادہ خواجہ سرا لگ رہا تھا۔ بڑی ادا سے کہنے لگا یا کہنے لگی ”رانا صاحب میرا نام رضیہ تتلی ہے لیکن علاقے کے لوگ مجھے عبدالرضیہ کے نام سے جانتے ہیں اور یہ میری چیلی شمع سرگودھے والی ہے“۔ میں نے کہا ”بتائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں“۔ میری بات سن کر عبدالرضیہ نے اپنے دوپٹے کو میرے سامنے جھولی کی طرح پھیلاتے ہوئے کہا ”رانا صاحب! میں بڑے مان سے آپ کے پاس ووٹ مانگنے آئی ہوں بس میری یہ خالی جھولی اپنے ووٹ سے بھر دیں، اللہ آپ کو بہت دے گا“۔ میں نے پوچھا ”آپ کس پارٹی کے لیے ووٹ مانگ رہی ہیں“۔ اس پر وہ منہ بنا کرکہنے لگی ”ہائے اللہ رانا صاحب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں ٹکے ٹکے کے لوگوں سے دوسروں کے لیے گلی گلی پھر کے ووٹ مانگتی پھروں“۔ مجھے اس کی ٹکے ٹکے کے لوگوں والی بات سن کر کچھ بُرا تو لگا لیکن میں نے اسے ظاہر کیے بغیر کہا ”تو پھر آپ کو ووٹ کس لیے چاہیے“۔ یہ سن کر عبدالرضیہ نے شرمانے کے انداز میں اپنے تئیں بڑی قاتل نظروںسے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ”رانا صاحب! میں آپ کے حلقے سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن کے لیے کھڑی ہوئی ہوں اور اس کے لیے آپ سے ووٹ مانگنے آئی ہوں“۔ میں نے اسے حیرانی سے دیکھا اور پوچھا ”مطلب! آپ بھی الیکشن لڑ رہی ہیں“۔ وہ میری حیرانی کو سمجھ کر کہنے لگی ”کیا کمی ہے مجھ میں نوجوان ہوں، حسین ہوں، اچھی ڈانسر ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ’ٹو اِن ون‘ ہوں۔ میرا دعویٰ ہے کہ میرے علاوہ اس وقت پورے ملک میں کوئی ایسا انتخابی امیدوار نہیں ہو گا جو خواتین کے ساتھ مردوں کی بھی برابر نمائندگی کرتا ہو“۔ میں نے کہا ”اچھی بات ہے لیکن یہ بتائیں آپ کس سیاسی پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑ رہی ہیں“۔ میرا یہ پوچھنا غالباً اسے پھر اچھا نہیں لگا اس پر اس نے مزید بُرا سا منہ بناتے ہوئے لاری اڈے کے ہاکروں جیسی آواز میں کہا ”ہائے ہائے رانا صاحب! میں بھلا کسی دوسری پارٹی کی طرف سے کیوں الیکشن لڑوں گی۔ دوسری پارٹیوں نے اب تک ہمیں سوائے جھوٹے وعدوں کے دیا ہی کیا ہے۔ مجھے تو ملک کی تمام بڑی پارٹیوں کی طرف سے ٹکٹ اور فنکشن دونوں کی آفر تھی لیکن میں نے سب کو کورا سا جواب دے کر ’اوئی اللہ عوامی پارٹی‘ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنا لی ہے“۔ میں نے کہا ”خیر سے اب تک کتنے لوگ ہیں آپ کی پارٹی میں“۔ اس پر وہ کہنے لگی ”ابھی تک تو صرف میں اور میری یہ چیلی ہی اس پارٹی میں ہیں لیکن مجھے پوری امید ہے جیسے جیسے الیکشن کی گہما گہمی بڑھے گی ہماری پارٹی میں کارکن بڑھتے جائیں گے“۔ میں نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا ”اچھا تو دو لوگوں کی سیاسی پارٹی ہے آپ کی“۔ میرے طنز کو سمجھ کر وہ کہنے لگی ”ہاں تو پھر کیا ہوا شیخ رشید کی پارٹی میں بھی تو چاچا بھتیجا دو لوگ ہی ہیں“۔ میں نے کہا ”اچھا یہ بتائیں کیا آپ کے کاغذات ’’نامردگی‘‘ میرا مطلب کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں“۔ کہنے لگی ”جہاں اتنے بڑے بڑے چوروں لیٹروں اور دو نمبر سیاستدانوں کے کاغذات منظور ہو سکتے ہیں تو میرے کاغذات کیوں منظور نہیں ہونگے“۔ میں نے کہا ”محترمہ ایسا نہیں ہوتا الیکشن کمیشن کسی بھی امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری پوری سکروٹنی کرنے کے بعد دیتا ہے لہٰذا کسی چور لٹیرے کے کاغذات نامزدگی کے منظور ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔ یہ سن کر وہ ناراض ہونے والے انداز میں کہنے لگی ”ہا ہائے رانا صاحب میں کونسا 9 مئی کو اداروں پر حملہ کرنے یا کسی چوری ڈکیتی میں اشتہاری مجرم ہوں کہ میرے کاغذ منظور نہیں ہونگے۔ آپ دیکھنا میرے کاغذات بھی منظور ہونگے اور آپ جیسے چاہنے والوں کی مدد سے ٹھمکا لگا کے میں الیکشن بھی جیتوں گی۔ آج سے میں نے اپنی الیکشن مہم بھی شروع کر دی ہے اور تو اور میں نے تو اپنی پارٹی کا نشان، انتخابی نعرہ اور منشور بھی سوچ لیا ہے“۔ میں نے پوچھا ”وہ کیا ہے“۔ کہنے لگی ”ہماری پارٹی کا نشان گھنگھرو اور ہمارا انتخابی نعرہ ’جو گھنگھرو سے ٹکرائے گا پاش پاش ہو جائے گا‘ ہے“۔ میں نے کہا ”یہ انتخابی نعرہ تو میں نے سوشل میڈیا پر پرویز خٹک کے لیے پشاور کی کسی دیوار پر لکھا دیکھا ہے“۔ کہنے لگی ”تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر پرویز خٹک سے ٹکرانے والا پاش پاش ہو سکتا ہے تو میرے ساتھ ٹکرانے والے کو پاش پاش ہونے میں کیا تکلیف ہے“۔ میں نے کہا ”چلیں یہ تو ٹھیک ہو گیا اب اپنا منشور بھی بتائیں وہ کیا ہے“۔ یہ سُن کر اس نے اپنے مخصوص انداز میں تالی مار کر ایک جھٹکے سے اپنے ماتھے پر آئی بالوں کی لٹ کو پرے ہٹاتے ہوئے کہا ”میرے ذہن میں عوام کی فلاح و بہبود کے بڑے زبردست منصوبے ہیں جن کی تفصیل میں جائے بغیر میں صرف اتنا کہوں گی کہ اگر عوام نے مجھے ملک کا وزیر اعظم بنا دیا تو میں دنوں میں اس ملک کی تقدیر بدل دونگی”۔ میں نے کہا ”لیکن ایک سیٹ جیت کر آپ ملک کی وزیر اعظم کیسے بنیں گی؟”۔ اس پر اس نے بڑے معنی خیز انداز میں کہا ”جیسے ایک سیٹ جیت کر کوئی سینیٹ کا چیئرمین بن سکتا ہے۔ میں بھی آزاد امیدواروں کی مدد سے حکومت بنائوں گی جس کی میں نے پوری پلاننگ کر لی ہے۔ آپ دیکھنا اگلی حکومت ”اوئی اللہ عوامی پارٹی“ کی ہو گی چاہے اس کے لیے مجھے گلی گلی ناچنا ہی کیوں نہ پڑے“۔

The post اوئی اللہ عوامی پارٹی! appeared first on Naibaat.