Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

آنسو نہ بہا،فریاد نہ کر۔۔۔۔۔۔

آنسو نہ بہا،فریاد نہ کر۔۔۔۔۔۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم  نے لاہور کو شرف ملاقات بخشا، یوں تو انوار الحق کاکڑ کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ...

آنسو نہ بہا،فریاد نہ کر۔۔۔۔۔۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم  نے لاہور کو شرف ملاقات بخشا، یوں تو انوار الحق کاکڑ کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ بات کرتے ہیں تو دل کی اور بڑے کھلے ذہن کے ساتھ کہ وزیراعظم کے عہدے کی ترجیحات کیا ہیں، اور بطور پالیسی میکر کے کبھی حکومت کی دفاعی اننگز کھیلتے ہوئے بہت سے مواقع پر سچ اور جھوٹ، تردید و تصدیق کے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ 2جنوری کو وہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وہ وزیراعظم کم تو اپوزیشن لیڈر زیادہ دکھائی دیئے۔ خاص کر انہوں نے قانون پر بڑے سوالیہ نشان اٹھا دیئے اور کہا کہ ہماری عدلیہ پر بڑے سنگین سوالات ہیں۔ اداروں کے حوالے سے انہوں نے بڑی دل لگی بات کی کہ اداروں سے مستفید ہونے والے انہیں اپنا ابا لیتے ہیں ورنہ سوتیلا باپ تصور کرتے ہیں۔ اگر قاسم کے ابا وزیراعظم ہوں تو انہیں حمید کی اماں کے مسائل نظر نہیں آتے۔ یہی وہ رو رہے ہیں جو قوم کو تباہ کر رہے ہیں لہٰذا ہمیں رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ آپ احتجاج ضرور کریں، یہ ہر شہری کا حق ہے مگر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ اگر قانون حرکت میں آتا ہے تو انسانی حقوق کے گروپ سامنے آ جاتے ہیں۔ اگر اقتدار میں ہوں تو سب ٹھیک اور جیسے ہی اقتدار سے باہر نکلیں تو تمام ادارے برے ہو جاتے ہیں۔ ایک اور تقریب میں ایک طالبہ نے بڑا فکر انگیز سوال کیا کہ جناب وزیراعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے خاتمے کی بات ہو یا قاسم کے ابا کی گرفتاری کا معاملہ تو رات گئے بھی عدالتیں کھل جاتی ہیں لیکن زینب مرزا کیس یا موٹروے گینگ ریپ ہو تو عدالتیں خاموش نظر آتی ہیں۔

ہماری قوم کی بیٹی نے وزیراعظم سے سوال کر کے ایک ایسے مسئلہ کو اجاگر کیا جو پورے نظام قانون کو آواز دے رہا ہے کہ بڑوں کے لئے قانون کی کتاب کے اوراق کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں اور زینب مرزا ہو یا روزانہ قتل ہونے والی اماں حوا کی بیٹیاں ان کے لئے بھی رات کو عدالت نہیں لگتی اور معاملہ پیشیوں سے ہوتے ہوتے سالوں پر محیط ہو جاتا ہے اور یہ کوئی نئی تاریخ نہیں کہ ہمارے نظام عدلیہ سے ایسا ایک دو بار ہوا ہو، کئی بار ”بڑے اور چھوٹے“ کے بارے میں ہمارے قانون بڑی واضح لکیر کھینچے ہوئے ہے اور یہ لکیر بجائے مٹانے کے اقدامات اٹھائے جاتے اب یہ اور گہری کر دی گئی ہے۔ اس وجہ سے آج ہمارے قانون پر بڑے واضح سوالات اٹھ رہے ہیں۔ گزشتہ رات پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو گھر سے رات کو آ کر عدالتیں کھولنی پڑی کہ انہوں نے زرتاج گل کو ضمانت دینا تھی۔ ایک طرف ایک عورت یا مرد دونوں کو قانون پکڑنا چاہتا ہے تو دوسری طرف جب میڈیا پر کوئی سیاسی لیڈر آنسو بہاتا ہے تو رات گئے عدالت اس کو راہداری ضمانت کا ریمانڈ دے کر اپنے ہی قانون کا مذاق بنا دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ صرف پاکستان میں ہی کیوں ہوتا ہے، یہ عدالتیں رات ہی کو کیوں لگائی جاتی ہیں؟ کیا اس سے معاشرے میں تفریق کا عمل نہیں جنم لیتا؟ بلکہ وہ قانون جس کے بارے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سب کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے۔ یہاں اس کے اپنے بیانیے کی نفی ہو جاتی ہے۔ یہی باتیں وزیراعظم کے بیان میں بھی نظر آتی ہیں کہ ایسے رویوں کو اب ختم کرنا ہوگا کہ قاسم کے ابا اور حمید کی ماں کب تک قانون پر سوالیہ نشان بنتے رہیں گے، کب تک ہم ایسے رویوں پر سے اچھے لوگوں کا راستہ روکتے رہیں گے، کب تک یہ رویے اپنائے جاتے رہیں گے؟

ہمارے خیال میں کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے میں ایسے ماحول نہیں اپنائے جاتے، ہم یہاں بری روایات اور برے قانون کی پاسداری کر رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں روزانہ کتنے قتل ہو رہے ہیں، کتنی مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کو سرعام لوٹا جاتا ہے۔ کتنی معصوم بیٹیوں کو بے گناہی میں ان کے سسرال والے مار دیتے ہیں۔ روزانہ کتنی سنگین وارداتیں ہوتی ہیں، روزانہ کتنوں کو جنونیت کے نشے میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ کتنی جانیں انا پرستی، ضد اور الزامات کی پاداش میں قبروں میں اتار دی جاتی ہیں۔ وہاں تو رات گئے بہت دور کی بات ہے، دن کو بھی کبھی ایسی عدالتیں لگتی نہیں دیکھی گئیں۔ یہ تو ایک بڑا سوال ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ اس لئے کہ یہاں دو قانون ہیں، اس لئے کہ یہاں قانون ہے مگر اس پر صحیح معنوں میں عملدرآمد نہیں ہوتا۔ یہاں ہر ایک نے اپنا الگ الگ قانون بنا رکھا ہے۔ بات پھر رویوں پر آ جاتی ہے کہ اب ان کو بدلنا ہوگا۔ حق اور سچ کو اب واضح نظر آنا چاہئے۔ تصور کے دونوں رخ دیکھ کر انصاف کرنا چاہئے۔ اگر آپ اسیر کو بچانے کے لئے رات کو عدالت لگا سکتے ہیں تو یہ عدالتیں ان لوگوں کے لئے بھی بگنی چاہئیں جو لاقانونیت کا شکار ہو رہے ہیں۔

المیہ ہے کیا… سوچ اور فکر کو کیوں دبایا جاتا ہے؟
دکھ درد، کرب کی تصویریں کہاں کہاں نہیں ملتی ہیں۔

صبح سے شام سے رات گئے تک ہر طرف چیخیں، ہر طرف رونے دھونے کے قصے آخر ہماری معصوم زندگی نے کیا جرم کیا ، سب خاموش ہیں، ہماری زندگی اب وبال جان اس لئے بنتی جا رہی ہے کہ ہمارے معاشرے کی گھٹن کی فضاء اب اداروں میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ انسانی رشتوں میں فاصلے کم تو دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہر طرف بے یقینی کی فضاء اور ہمارے رویوں میں اب خوشگواری کی جگہ تلخی نے جگہ لے لی ہے۔ کوئی کسی کی بات کو سننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ ہمارے ماحول میں انہی رویوں کی وجہ سے جس کا ذکر وزیراعظم  نے کیا ہے کہ کشیدگی کی حدت نے ہمارے ذہنوں اور غلط سوچوں نے زندگی گزارنے کے رخ بھی بدل دیئے ہیں۔

اس قوم کے اصل مجرم وہ ہیں جنہوں نے نوجوان نسل کی غلط ذہن سازی کی، مجرم وہ ہے جس نے ذاتی شہرت اور بھوک کے لئے نسلوں کے اندر زہر گھولا۔ جس نے اداروں کی کردارکشی کی، جس نے نفرتوں کے بیج بوئے، جس نے عورت کے تقدس کو سرعام نیلام کیا۔ جس نے سیاست کو گندہ بنایا، جس نے نوجوانوں کے رویئے بدلے، زبان کو گالی دی… بزرگوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالا… جس نے پاک فوج کے خلاف 9 مئی کو بغاوت کروائی۔ جس نے افواج پاکستان کی کردارکشی کی… اصل مجرم پی ٹی آئی کا چیئرمین ہے جس نے سیاست کو سرعام نچایا، ذلیل و خوار کیا کہ لوگوں کا سیاست اور سیاست دانوں سے اعتبار جاتا رہا … ہمارے نزدیک وزیراعظم کا یہ کہنا کہ اداروں کو تو بخش دیں۔ کاش سیاست چمکانے اور قوم کو گمراہ کرنے والے یہ بات سمجھ سکیں کہ ادارے قوم اور قوم اداروں کو مضبوط بناتی ہے۔

The post آنسو نہ بہا،فریاد نہ کر۔۔۔۔۔۔ appeared first on Naibaat.