Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

ووٹ کا فیصلہ

ووٹ کا فیصلہ پاکستان کو ہمیشہ سے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ ایک طرف الیکشن کی تیاریاں عروج پہ تو دوسری جانب معیشت کی مشکلات کا سامنا ہے،...

ووٹ کا فیصلہ

پاکستان کو ہمیشہ سے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ ایک طرف الیکشن کی تیاریاں عروج پہ تو دوسری جانب معیشت کی مشکلات کا سامنا ہے، آخر آج تک کوئی کیوں نہیں پاکستان کو ان مشکلات سے نکال نہ سکا جمہوریت کی دعویدار جماعتیں بھی ناکام کیوں رہی اگر ہم پس منظر کو دیکھتے ہوئے حقائق پہ روشنی ڈالیں تو ہمیں نہ صرف وجوہات بلکہ ان کا حل بھی ملے گا، مگر حل کی جانب جائے گا کون؟

کیونکہ سب کو تو اقتدار کے لالچ اور ہوس نے اندھا کر رکھا ہے عوام کس تکلیف سے گزر رہے ہیں اس بات سے تمام سیاستدان علم رکھتے ہوئے بھی لاعلم ہیں۔پاکستان کا بال بال قرض میں ڈوبتا چلا جا رہا ہے زندگی گزارنے کی بنیادی اشیاء عوام کی دسترس سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔اب بہت سے ممالک قرض لیتے ہیں مگر پھر جلد وہ اپنے ملک کو پیروں پہ کھڑا کرکے قرض سے نجات حاصل کرلیتے ہیں مگر پاکستان کی صورتحال جس ڈگر پہ چل رہی ہے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس واشنگٹن میں ہوا جس میں پاکستان کو قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کا فیصلہ ہوا۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کو سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت 1ارب 90 کروڑ ڈالر جاری ہو نے کی فوری منظوری دے دی مگر یاد رہے یہ سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت منظوری دی گئی ہے۔

پاکستان کے معاشی حالات کے تحت دو پروگرام بہت اہم ہیں ،سٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) اور ایکسٹینڈز فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) ہیں۔ اب سٹینڈ بائی ارینجمنٹ سے مراد قلیل مدتی فنانسنگ کے ذریعے کسی بھی ملک کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ایسے میں کم آمدنی والے ملک کی مدد کی جاتی ہے کہ وہ اُن مشکلات کو اس
فنڈنگ سے حل کر سکیں جو اُنھیں پیش آرہی ہیں۔

اس قسم کی فنانسنگ کی مدت 12 سے 24 ماہ تک ہو سکتی ہے جبکہ فناسنگ کی رقم 36 ماہ سے تجاوز نہیں کر سکتی یاد رہے ایسی صورت میں فنانسنگ کی رقم تین سے پانچ سال میں لوٹائی جاتی ہے، یہ منصوبہ تین سال کا ہوتا ہے لیکن ایک برس کی توسیع مل سکتی ہے پھر رقم کی واپسی چار سے چھ سال کے عرصے میں کی جاتی ہے۔

یہاں ایک چیز نہایت قابل غور ہے، ایس بی اے کی مدت بھی کم ہوتی ہے اس میں شرائط بھی کم ہوتی ہیں اس وقت آئی ایم ایف دیتا ہے جب آپ اصلاحاتی پروگرام پر چل رہے ہوتے ہیںلیکن اس کو پورا کرنے کے لیے جن مشکلات کا سامنا ہے اُنہیں حل کرنے کے لیے مدد لی جاتی ہیں ،اب پاکستان کونسے اصلاحاتی پروگرام کر رہا ہے ؟

اس کا جوابدہ کون؟ کیا آنے والی گورنمنٹ نے اس کا کوئی معاشی ڈھانچہ پیش کیا کہ وہ کیسے ان مشکلات سے ملک و قوم کو نکالے گی؟یا پھر پہلے ہی کی طرح کبھی عمرانی حکومت، کبھی کئیر ٹیکر اور کبھی ماضی کے سر تھوپتے ہوئے خود کو سبکدوش کر لیں گے۔ موجودہ صورتحال میں سٹاک ایکسچینج میں تیزی اور روپے کی قدر میں بہتری کی شکل میں خوش آئند امکانات اُبھرتے نظر آتے ہیں تاہم قرضوں کا ناقابل برداشت ہوتا بوجھ اور اس پہ بھاری سود کی ادائیگی کا چیلنج بہر حال مشکلات کی دلدل سے نجات پانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

وقتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید قرضوں کے حصول اور دوست ممالک سے مالی معاونت بہت ضروری ہے اس کے سوا پاکستان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ اس وقت پاکستان سعودی عرب امارات سے دو ارب ڈالر رول اوور کرانے کے علاوہ تیل کی فراہمی ایک سال تک مزید بڑھانے پہ بات چیت جاری ہے۔

اب اس موجودہ صورتحال سے بیشمار سوالات اُٹھتے ہیں۔ کیا اس صورتحال کا اور اس نئے قرض کا بوجھ ایک بار پھر سے عوام کی کمر پہ لاد دیا جائے گا؟آنے والے وقت میں صورتحال کیسی ہوگی؟

اس قرض کو ادا کرنے کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے لیوی ٹیکس بہت بڑھایا جائے گا ،بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا، تو مہنگائی کا بوجھ عوام پہ ہی آجائے گا۔ہمارے عوام جب تک اپنے حلقے میں موجود امیدوار سے جواب طلب نہیں کریں گے ان کو سڑکوں پہ نہیں گھسیٹیں گے، مہنگی چیزوں سے بائیکاٹ نہیں کریں گے تب تک یہ سیاستدان ایسے ہی فیصلے زبردستی عوام پہ لاگو کرتے رہیں گے، سیاستدانوں کی عیاشیاں عوامی پیسے پہ جب تک ختم نہیں ہوں گی صورتحال نہیں بدلے گی۔ سیکڑوں کرپشن کی داستانیں منظر عام پہ آئیں اور اُن کا نتیجہ بالکل ایسا ہی نکلا جیسے پانی سے مکھن نکالا جائے۔

پہلے پانچ سال، پانامہ، اقامہ کا ڈرامہ جو کب ختم ہوا قوم نہ جان سکی یونہی سائفر، اور توشہ خانہ کب ختم ہو جائے اس بات کا علم بھی قوم کو نہ ہو سکے گا۔ اس صورتحال سے اداروں پہ بھی سوالیہ نشان ہے؟

آج تک ادارے بھی ان سیاستدانوں سے وصولی کرکے حکومتی خزانے میں رقم جمع کرانے میں ناکام رہی۔یہ سب کرنے کے لئے ادارے چلانے والوں اور سیاستدانوں کی نیت کا خالص ہونا بے انتہا ضروری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کیوں ترقی کرتے ہیں کہ وہ اپنے آنے والے 10 سے 15 سالوں کا معاشی ڈھانچہ پلان کرتے ہیں تاکہ وہ اُس صورتحال کے مطابق اپنے ملک و قوم کی ترقی اور معاشی توازن کو برقرار رکھ سکیں۔

مگر یہاں قرض پہ قرض لیا جا رہا ہے، آئندہ اقتدار میں آنے کیلئے کوشاں سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے ناقابل عمل بلند و بانگ دعووں کے بجائے قوم کے سامنے معقول و قابل فہم پروگرام پیش کرنا چاہئے اور عوام کو اسی بنیاد پر ووٹ کا فیصلہ کرنا چاہئے۔

The post ووٹ کا فیصلہ appeared first on Naibaat.