Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

شکست فاتحانہ

شکست فاتحانہ ملک میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو چکا، نتائج تقریباً آچکے اور ان پر منظور و نامنظور کی گردان بھی شر...

شکست فاتحانہ

ملک میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو چکا، نتائج تقریباً آچکے اور ان پر منظور و نامنظور کی گردان بھی شروع ہے۔ کہیں نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا واویلا اورکہیں دھرنے بازی کا شوق پورا کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ جہاں جیتے وہاں شفاف انتخاب اور جہاں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا وہاں دھاندلی کا شور ایک وتیرہ بن چکا ہے ۔ یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ نئے پاکستان سے یہ سلسلہ روایت کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اب تو پرانے کی واپسی کے بعد بھی ہنوز بہت سے اہل محبت کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ حالانکہ حقیت کا ادراک ہونے کے باوجود اس سے آنکھیں چرانا خاصا مشکل ہوتا ہے اور کامیابی و ناکامی کے اپنے اپنے الگ اثرات و نتائج ہوتے ہیں تاہم انتخابی میدان میں بہت سی چیزوں کا پہلے سے اندازہ ہوتا ہے۔ اندازے اور تخمینے کو الٹ پلٹ دینے والے نتائج دیکھ کر بہت سوں کی سیٹی گم ہوجاتی ہے اسی لئے متوقع اور غیر متوقع کی اصطلاح عام استعمال کی جاتی ہے جبکہ ممکنہ اور غیر ممکنہ کا فرق کچھ زیادہ ہوتا ہے جب کوئی انہونی ہو جائے تو پھر اسے جلد قبول کرنا تو بالکل ہی دل گردے والے کا کام ہوتا ہے، سنا تو یہی ہے کہ ایسی صورتحال میں بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے ۔ پاکستان میں انتخابات 2024 کی ایک ایسی ہی انہونی لاہور کے حلقہ این اے 122میں ہوئی جہاں سے مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں تحریک انصاف کے نامزد کردہ آزاد امیدوار سردار لطیف کھوسہ کامیاب ہوئے۔ 8 فروری یوم انتخاب تھا اور اگلے دن تک نتائج ابھی واضح نہیں ہوئے تھے کچھ حلقوں میں پانچ دس فیصد نتائج آنا شروع ہوئے تھے کہ غالباً سب سے پہلے ان نتائج کو خواجہ سعد رفیق نے قبول کیا ۔ یہی نہیں خواجہ سعد کی اس جلدی کو بہت ڈسکس کیا گیا کہ کچھ انتظار کرنا چاہئے تھا ، نتائج کی تبدیلی کی کوئی سبیل نکل سکتی تھی اور ایسی کئی ذو معنی اصطلاحات کا استعمال بھی ہوا ۔ واضح رہے خواجہ سعد رفیق کوئی عام سیاسی کارکن یا روایتی سیاستدان نہیں بلکہ وہ بلا مبالغہ ایک ایسے سیاسی گُرو ہیں جنہوں نے باپ کی تربیت اور ماں کی ممتا کیساتھ سیاسی اخلاقیات کی تربیت اپنے گھر سے ہی حاصل کی ۔ انکے والد محترم خواجہ رفیق شہید انہی کٹھن راہوں میں دادِ شجاعت اور درس حریت دیتے واصل بحق ہوئے اور انکی والدہ نے اپنے چھوٹی عمر کے بیٹوں کو بہت بچپن سے ہی بڑی راہ پر ڈال دیا اور یہ راہِ عزیمت و ہمت آج تک انکی استقامت کی گواہ ہے۔ اندرون لوہاری دروازہ سے لیکر لاہور کینٹ اور ڈیفنس جیسے پوش علاقوں میں خدمت کے ذریعے ذاتی تعلقات استوار کر نے اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبے اپنے کریڈٹ پر رکھنے والے خواجہ سعد رفیق نے حالیہ انتخابات میںنہ صرف اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کیا بلکہ انہوں نے اپنے مد مقابل لطیف کھوسہ کو تفصیلی تحریری مبارکباد بھی دے ڈالی۔ یہ مبارکباد سوشل میڈیا کے ذریعے دی گئی جو یقینا لطیف کھوسہ تک بھی پہنچی ہوگی لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ عقل و شعور اور فہم وفراست رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے خواجہ سعد رفیق کے اس مثبت طرز عمل کی اس قدر پذیرائی کی کہ چند گھنٹوں میں یہ پیغام 67 لاکھ لوگوں نے پڑھا اور آگے پھیلایا جو کہ ایک حوصلہ افزا رد عمل تھا ۔تھا تو یہ ایک مبارکبادی پیغام ہی مگر کس کا ؟ کس کیلئے ؟ اور کس وقت میں ؟ ان سب سوالات کے جوابات کو سامنے رکھا جائے تو یہ ایک ایسا جرأت مندانہ اور قابل تحسین عمل معلوم ہوتا ہے جس کے ذریعے ایک انتخابی حلقے کی محدود آبادی اور مخصوص ذہن و نظریہ رکھنے والے چند لوگوں کی مخالفت کے باعث انتخاب ہارنے والے شخص نے لاکھوں دل جیت لئے اور بلا شبہ یہ ایک شکست فاتحانہ ہے۔ ویسے بھی مذکورہ انتخابی عمل اور نتائج پر جتنے سوالات اب تک اٹھ چکے ہیں اس سارے بے ہنگم شوروغوغا میں ایک یہی بھلی بات معلوم ہوتی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا جائے ۔ ایک دوسرے کو گنجائش دینے اور باہمی احترام کی جو روایت ڈالی گئی ہے اس کے ہمارے موجودہ ملکی حالات اور معاشرتی صورتحال پر نہایت گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ اگرچہ بگاڑ بہت بڑھ چکا اور جب بھی سیاسی اخلاقیات کی بات ہوتی ہے تو ہمیں بات بات پہ نوے کی دہائی کی بازگشت سنائی دیتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ نوجوان نسل جو اصل رائے دہندگان ہیں انکو نوے کی دہائی کی بابت کچھ نہیں معلوم انہیں صرف بتایا اور سنایا جاتا ہے کہ آج سے بیس پچیس سال قبل کی سیاسی محاذ آرائی کس طرح سے ہوتی تھی، نعرے اور الزامات کس نوعیت کے ہوتے تھے اب تو ثابت ہو چکا کہ ہر مقابلہ، موازنہ اور مسابقہ سوشل میڈیا پر ہی ہے۔ گذشتہ ایک ماہ میں چلائی جانے والی انتخابی مہم اس کی واضح مثال ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے درجنوں جلسے اور بڑے بڑے عوامی اجتماعات و انتظامات کئے، خرچہ کیا، قومی سطح کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اشتہارات کی بھرمار کی جبکہ مدمقابل تحریک انصاف کی قیادت نے جلسے اور اجتماعات کرنا تو کجا ٹیلی ویژن و اخبارات کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا۔ انہوں نے اپنی ساری توانائیاں اور توجہات سوشل میڈیا پر مرکوز رکھ کر وہ نتائج حاصل کر لئے جن کا تصور شائد 8 فروری کی رات تک بھی کسی کو نہ تھا ۔ بہر حال سیاسی اطوار و روایات میں یکسر تبدیلی تو الگ موضوع ہے ہمیں جس چیز پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ ہمارے انفرادی و اجتماعی رویے ہیں جن کی بنیاد پر مجموعی ماحول سنورتا یا بگڑتا ہے۔ منہ سے آگ نکالنے اور مخالفین کے لتے لینے سے وقتی طور پر تو تشفی ہوتی ہے لیکن اصول کی بنیاد پر دلیل کیساتھ احسن انداز میں اختلاف کرنا اور پھر اس اختلاف رائے کو تسلیم کرنا ناپید ہوجاتا رہا ہے۔ دیہاتی علاقوں کی سیاست میں شائدابھی کچھ رکھ رکھائو باقی ہے بڑے شہروں کا سیاسی اختلاف تو نفرت و دشمنی کی آگ میں بدلتا جا رہا ہے۔ ایسے میں لاہور جسے ملکی سیاست کانیوکلیئس کہا جا سکتا ہے یہاں سب سے زیادہ اہم حلقہ میں اس قدر وسیع الظرفی کامظاہرہ واقعی خواجہ سعد رفیق کا کریڈٹ ہے جس کا فوری اثر یہ ہوا ہے کہ گالم گلوچ بریگیڈ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔

The post شکست فاتحانہ appeared first on Naibaat.