Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

سیاست میں سب چلتا ہے

سیاست میں سب چلتا ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہی یہ کام ہوا ہے کہ انتخابات کے چار دن بعد ہی سیاسی جماعتوں نے بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہو...

سیاست میں سب چلتا ہے

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہی یہ کام ہوا ہے کہ انتخابات کے چار دن بعد ہی سیاسی جماعتوں نے بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ حکومتی سیٹ اپ کے حوالے سے حتمی طریقہ کار طے کر لیا اور اس کا زیادہ کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو جاتا ہے کہ جنھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا کر مستقبل کے حکومتی سیٹ اپ کا خاکہ واضح کر دیا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے مسلم لیگ نواز کی حمایت کرے گی لیکن حکومت میں شامل نہیں ہو گی ۔ اس کے بدلے پاکستان پیپلز پارٹی کیا کچھ لینا چاہے گی ابھی اس نے اس حوالے سے کچھ کہا نہیں لیکن میڈیا میں یقینا قیاس آرائیاں ہیں کہ وہ صدارت، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئر مین سینٹ کے لئے کہہ سکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بلوچستان کی حکومت بھی مانگ سکتی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور خاص طور پر بلاول بھٹو پر یقیناً ایک زبردست اعتراض ہو گا کہ وہ اپنی پوری الیکشن مہم میں یہ بات کہتے رہے کہ وہ نواز لیگ کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے تو اب ایسا کیوں کیا تو اس پر کالم کے آخر میں بات ہو گی ابھی تو تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے جو الزامات لگ رہے ہیں اس پر کچھ عرض کرنا ہے۔

جولائی 2022 کو پنجاب میں 20 صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں اور بیس میں سے15نشستوں پر تحریک انصاف کامیاب قرار پائی۔ اس کے بعد اسی سال 16 اکتوبر 2022 کو 8 قومی اسمبلی کی نشستوں پرانتخابات ہوتے ہیں اور ان انتخابات سے قبل پہلے کی طرح عمران خان کی جانب سے چیف الیکشن کمیشن پر تبرے بھیجے جاتے ہیں اور دھاندلی کا شور مچایا جاتا ہے اور پھر انتخابات کے بعد جب نتائج آتے ہیں تو میں 8 میں سے چھ سیٹیں تحریک انصاف جیت جاتی ہے۔ منظر بدلتا ہے اور 2024 آ جاتا ہے ۔ انتخابات سے قبل جس حد تک تحریک انصاف کے ساتھ زیادتی ہو سکتی ہے کی جاتی ہے ۔ اس سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا جاتا ہے ۔ اس کے امید واروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے ایک طرح سے پل صراط سے گذرنا پڑتا ہے کئی ایک کو تو گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔ انتخابی مہم چلانا تو در کنار انھیں کہیں جلسہ تک کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

عین انتخابات سے پہلے عمران خان کو تین مقدمات توشہ خانہ، سائفر اور عدت کیس میں جبکہ ان کی اہلیہ کو عدت کیس میں سزائیں سنا کر پورا پورا بندوبست کیا جاتا ہے کہ عمران خان کی محبت میں جو ووٹ پڑنا ہے وہ تو پڑے گا لیکن عمران خان کے مخالفین سے نفرت کا جو ووٹ ہے وہ کہیں گھروں میں بیٹھا نہ رہ جائے بلکہ وہ بھی گھروں سے نکل کر ووٹ ضرور ڈالے۔ یہ پورا ماحول تھا جو بنایا گیا اور اس ماحول میں اس بار عمران خان تو جیل میں تھے لیکن ان کی جماعت کے لوگ الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمیشن پر دھونس دھمکی اور دھاندلی کے جو الزام لگا سکتے تھے وہ انھوں نے ضرب تقسیم دے کر لگائے اور پھر تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آتی ہے لیکن دھاندلی کے الزامات کو صداقت کی سند بخشنے کے لئے اس قدر اہتمام کیا گیا اور وہ بھی انتہائی بھونڈے طریقے سے کہ انسان عش عش کر اٹھتا ہے کہ جیسے ہی نتائج آنا شروع ہوئے تو اس کے کچھ ہی دیر بعد نتائج کو کئی گھنٹے کی تاخیر کے ساتھ اگلی صبح تک روک دیا جاتا ہے۔ کر لو جو کرنا ہے اس کے بعد کوئی بڑے سے بڑا طرم خان کوئی مائی کا لال ہے جو دھاندلی کے الزامات کو جھٹلا سکے اس لئے کہ جن پر دھاندلی کا الزام ہے انھوں نے خود اپنے طرز عمل سے دھاندلی کے ہر الزام کو رد کرنے کی دلیل کا راستہ بند کر دیا ہے ۔

انتخابات کے بعد اب ایک دوسرا منظر ۔ بلاول بھٹو زرداری اپنی پوری انتخابی مہم میں ایک بیانیہ بناتے ہیں جس میں وہ تحریک انصاف کے حق میں نظر آتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیںکہ اگر وہ اقتدار میں آ گئے تو ان کے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہو گا ۔ بلاول اگر سیاسی قیدی کی بات کر رہے ہیں تو اس وقت عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کے علاوہ ملک میں اور کون سیاسی قیدی ہے ۔ وہ عمران خان کو ملنے والی کسی سزا پر منفی رد عمل کا اظہار نہیں کرتے حتیٰ کہ عدت والے کیس میں ایک انٹرویو کے دوران انھیں اس پر تبصرہ کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ وہ گٹر میں نہیں گرنا چاہتے ۔ اب انتخابات ہو جاتے ہیں اور نتائج آ جاتے ہیں جس میں تحریک انصاف کے آزاد ارکان اکثریتی تعداد میں نشستیں جیت جاتے ہیں ۔ عوام تک ابھی نتائج نہیں پہنچے لیکن اشرافیہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ نتائج کیا آ رہے ہیں توآپ کو یاد ہے کہ ٹی وی سکرینوں پر ٹکر چلے کہ زرداری صاحب اچانک اسلام آباد چلے گئے ہیں ۔ اس کے بعد کچھ ٹی وی چینلز پر پھر ٹکر چلے کہ اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اس کے بعد بریکنگ نیوز آئی کہ اڈیالہ جیل کے راستوں پر وی وی آئی پی موومنٹ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ سب خبریں کس بات کا نشاندہی کرتی ہیں لیکن ایک عام فہم اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے حکومتی سیٹ اپ پر بات ہوئی ہو لیکن جب ہر طرح کی کوشش کے باوجود بھی ان کی جانب سے ہاں نہیں ہوئی اور یہ بات تو بعد میں تحریک انصاف کے رہنمائوں کی جانب سے بھی دو ٹوک انداز میں کہا گیا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ سے اتحاد نہیں کریں گے تو اس کے بعد ہمارا سوال ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ماسوائے نواز لیگ کی حمایت کے اور کیا راستہ رہ گیا تھا ہاں البتہ دوسرا راستہ یہی تھا کہ وہ کسی کی حمایت کا فیصلہ نہ کرتی اور ملک میں سیاسی عدم استحکام اور انتشار کی فضا بن جاتی ۔ اب نواز لیگ کے لئے ایک بڑا سنہری موقع ہے کہ وہ کام کریں اور اس پر سولہ ماہ کی حکومت کا جو بیگج ہے اسے ختم کر کے ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر ڈال دے۔

The post سیاست میں سب چلتا ہے appeared first on Naibaat.