Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے

ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں، دل میں احساس اگر نہیں ہے خونی رشتے بھی بیکار ہیں، گزشتہ روز ایک انتہائی پڑھے ل...

ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے

رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں، دل میں احساس اگر نہیں ہے خونی رشتے بھی بیکار ہیں، گزشتہ روز ایک انتہائی پڑھے لکھے، مہذب اور نرم لب و لہجے کے مالک 29 سالہ نوجوان امیر بلاج ٹیپو کو موت کے گھاٹ اْتار دیا گیا، اس قتل پر بے شمار لوگ صرف پاکستان میں نہیں پاکستان سے باہر بھی کرب کا شکار ہیں، امریکہ کے شہر سیاٹل میں مقیم میرے محترم بھائی خالد نذیر نے مجھ سے کہا میں اس سانحے پر کالم لکھوں، میں نے عرض کیا میرا ہر کالم اب ایک سانحے پر ہی ہوتا ہے کہ پاکستان میں اب اس کے سوا رہ کیا گیا ہے ؟ جس روز یہ سانحہ ہوا میں نے اس پر لکھنے کی بہت کوشش کی ، دل و دماغ مگر اس قدر مغموم تھے نہیں لکھ سکا، اس نوجوان کے ساتھ میرا احساس کا رشتہ تھا جو میرے نزدیک سب سے بڑا رشتہ ہے، میں پچھلے تین دنوں سے صدمے سے نڈھال ہوں، میں اس کی تصویریں دیکھتا ہوں اس کی باتیں سنتا ہوں، اس کا ہمیشہ مسکراتا ہوا چہرہ میری آنکھوں سے اوجھل ہی نہیں ہوتا، کچھ عرصہ پہلے میرے عزیز فرخ شہباز وڑائچ کو اس نے ایک انٹرویو دیا تھا، وہ شرمیلا سا ایک نوجوان تھا، میڈیا سے گریز کرتا تھا، ایک گمنام سی زندگی بسر کرنا چاہتا تھا، فرخ شہباز وڑائچ نے اللہ جانے کیسے انٹرویو دینے کے لئے اسے راضی کر لیا، اس انٹرویو میں اس نے واضع طور پر کہا تھا وہ کسی سے دشمنی نہیں رکھنا چاہتا، اس کا دشمن اس کا قاتل مگر اس قدر گھٹیا ہے جب اسے اس نوجوان کو قتل کرنے کا کوئی اور جواز نہیں ملا اس نے اس کی اسی نرمی کو جواز بنا لیا تھا کہ وہ اب کسی سے دشمنی نہیں رکھنا چاہتا، 1994 میں اس کے دادا کا قتل ہوا، 2010 میں اس کے باپ کو موت کے گھاٹ شاید اس لئے اتار دیا گیا کہ اس کا باپ اپنے باپ کے قتل کا بدلہ نہیں لے سکا تھا، اب 2024 میں بلاج امیر ٹیپو کو بھی اس کے اسی قصور پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کہ وہ بھی اپنے باپ کے قتل کا بدلہ نہیں لے سکا تھا، دشمنی دو طرفہ ہوتی ہے، گھٹیا دشمن ”یک طرفہ دشمنی“ ہی نبھاتا جا رہا ہے، 2010 میں بلاج امیر ٹیپو کا جب باپ قتل ہوا وہ اس وقت بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہا تھا، اس کا خیال تھا اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے خاندان کا نام اب کسی اور طرح سے وہ روشن کرے گا، اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی، اپنے باپ کے قتل پر اسے پاکستان واپس آنا پڑگیا، وہ اپنی عدالتوں سے انصاف چاہتا تھا، اس کے کچھ دوستوں اور رشتہ داروں نے اْسے قانون ہاتھ میں لینے کے لئے بار بار اکسایا، مگر اس نے فیصلہ کر رکھا تھا وہ یہ نہیں کرے گا، وہ آخری وقت تک اس یقین میں مبتلا رہا اس کے دادا اور باپ کے قاتلوں کو سزا ضرور ملے گی، مگر افسوس عدالت کے ”تاریخ پہ تاریخ“ کے کلچر کا وہ بھی شکار ہوگیا، دشمنی کے کچھ اصول ہوتے ہیں، جیسے دوستی کے کچھ ہوتے ہیں، اس کا پالا مگر ایک انتہائی کمینے دشمن سے پڑا تھا، اچھے لوگ اپنے دشمنوں کی عورتوں اور بچوں سے بدلے نہیں لیتے، اور بہت ہی اچھے لوگ اپنے معاملات خدا پر چھوڑ دیتے ہیں، البتہ جنہیں مرنا یاد نہ ہو، جو خود کو ایک ”زمینی خدا“ سمجھتے ہوں ان کے نزدیک مذہبی و اخلاقی قدروں کی کوئی اہمیت بھلا کیسے ہو سکتی ہے ؟۔ مجھے یاد ہے ایک بار میں نے اپنے ابا جان سے کہا ”ابو جی میرے فلاں دوست نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے مجھ سے معافی مانگ لی ہے اور میں نے بھی اسے معاف کر دیا ہے“، وہ بولے”یہ کوئی تم نے بڑا کام تو نہیں کیا“، میں حیران ہوا وہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ کیا وہ یہ چاہتے ہیں میں اسے معاف نہ کرتا ؟، وہ میری حیرانی بھانپ گئے تھے، کہنے لگے ”بیٹا بڑا کام کسی کو معاف کرنا نہیں بڑا کام یہ ہے کسی کو بغیر معافی مانگے درگزر کر دیں، دل صاف کر لیں، معافی دینا صرف اللہ کی شان ہے،ہم کمزور لوگ دوسروں کی غلطیوں کو بس نظرانداز کر سکتے ہیں، درگزر کر سکتے ہیں“۔ اللہ جانے اتنا بڑا دل رکھنے والے لوگ اتنی جلدی مر کیوں جاتے ہیں ؟ بلاج امیر ٹیپو بھی بڑے دل کا مالک تھا، تب ہی وہ بار بار یہ کہتا تھا ”میں اپنے دشمنوں سے کوئی انتقام نہیں لینا چاہتا“ البتہ اسے اس بات کا افسوس تھا اپنے باپ اور دادا کے قتل کا کوئی انصاف اپنی عدالتوں سے اسے نہیں ملا، نہ اب یہ امید ہے اس کے لواحقین کو کوئی انصاف کسی عدالت سے مل سکے گا، میں یہ بات پہلے بھی کئی بار عرض کر چکا ہوں”پاکستان میں قتل کرنا نہیں قتل ہونا ایک ’جرم‘ ہے“، چنانچہ ہو سکتا ہے بلاج امیر ٹیپو کے قتل کا مقدمہ جب کسی عدالت میں چلے، بجائے قاتل کو کوئی سزا سنانے کے مقتول کو سنا دی جائے کہ اس نے چونکہ اپنی حفاظت کا معقول بندوبست نہیں کیا تھا لہٰذا اس”جرم“ میں اسے قبر سے نکال کر پھانسی دی جاتی ہے، اور اس کے تمام قاتلوں تمام دشمنوں کو باعزت بری کیا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی حفاظت کے معقول بندوبست کرتے رہے بلکہ عدالتوں سے ریلیف لینے کے روایتی طریقے بھی اپناتے رہے۔۔ ویسے اس حوالے سے مجھے امیر بلاج ٹیپو سے ہمیشہ شکوہ رہتا تھا اپنی سکیورٹی کے معاملے میں وہ کچھ کیئر لیس تھا، اوپر سے اپنی سوشلائزیشن بھی اس نے غیر ضروری طور پر بڑھائی ہوئی تھی، میں اْسے سمجھاتا وہ کہتا ”بھائی جان مجھے تو یہ بھی بہت برا لگتا ہے ہر وقت دس پندرہ گارڈز بندوقیں تانے میرے ارد گرد رہتے ہیں، مجھے اگر اپنے دشمن کے گھٹیا ہونے کا یقین نہ ہو میں یہ سارے گارڈز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خود سے پرے کر دوں“، پچھلے دنوں میرے ایک عزیز چھوٹے بھائی بلال مقصود کی شادی تھی، سکیورٹی ایشو کی وجہ سے میزبان نے اسے ایک الگ کمرے میں بیٹھایا ہوا تھا، میں پنڈال میں تھا، اسے جب پتہ چلا وہ بغیر کسی سکیورٹی گارڈ کے مجھ سے ملنے آگیا، یہ میری اس سے آخری ملاقات تھی، مجھے اگر پتہ ہوتا اس کے بعد اس نے مر جانا ہے میں دیر تک اپنے سینے سے اسے لگائے رکھتا، اْسے اپنے پاس بیٹھائے رکھتا، وہ کہنے لگا ”بھائی جان میں نے آپ کی دعوت کرنی ہے“، میں نے ازرہ مذاق عرض کہا ”دعوت کرنی ہے یا عداوت کرنی ہے ؟“، وہ مسکرا دیا کہنے لگا ”استغفراللہ بھائی جان میں یہ کیسے سوچ سکتا ہوں ؟“، کاش کسی سے عداوت نہ رکھنے کا جنون اس قدر اس کے سر پر سوار نہ ہوتا کہ اس جنون کے نتیجے میں وہ خود ایک گھٹیا عداوت کا شکار ہوگیا، جس شادی پر وہ قتل ہوا اس کے دوستوں نے بتایا وہ وہاں نہیں جانا چاہتا تھا، یہ ایک ریٹائرڈ ڈی ایس پی کے بیٹے کی شادی تھی کسی زمانے میں اس کے والد کا اس ڈی ایس پی سے تعلق رہا تھا، وہ اس تعلق کی لاج رکھنے چلا گیا، اْس کے ایک قریبی دوست عثمان رفیق اعوان نے اس سے کہا ”یہ شادی ایک ویران سی جگہ پر ہے تمہیں وہاں نہیں جانا چاہئے”، پہلے وہ مان گیا پھر بولا ”یار دوست ناراض ہو جائیں گے مجھے جانا چاہئے“، رشتوں کا وہ بہت مان رکھتا تھا، بس اسی مان میں وہ مارا گیا، اس شادی کے میزبان ریٹائرڈ ڈی ایس پی کی عقل پر شاید پردے پڑے ہوئے تھے کہ شہر کے تمام دشمن داروں کو اْس نے وہاں بلایا ہوا تھا، سو یہ سانحہ ہونا ہی تھا، اس کا اپنا بیٹا اس میں شدید زخمی ہے۔

بدمعاش پال حکمرانوں و پولیس افسروں سے میری التجا ہے لاہور کو قاتلوں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لئے اپنے ذاتی و مالی مفادات سے بالا تر ہو کر کوئی جدید حکمت عملی اب اگر اْنہوں نے نہ اپنائی لاہور کو خوشبوؤں اور پھولوں کا شہر کوئی نہیں کہہ سکے گا، یہ ایک”مقتل گاہ“ ہی کہلوائے گا ۔۔
غنیم شہر سے پالا پڑا ہے
بدن اپنا صلیبوں میں جڑا ہے
ہمارا شہر بہت چھوٹا ہے لیکن
ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے

The post ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے appeared first on Naibaat.