Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

ہم کوئی غلام ہیں

ہم کوئی غلام ہیں ہر چند یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ انتخابات میں نئے ووٹرز نے بھر پور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے، جن کی غالب تعدا...

ہم کوئی غلام ہیں

ہر چند یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ انتخابات میں نئے ووٹرز نے بھر پور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے، جن کی غالب تعداد نوجوانان پر مشتمل تھی،ان پرہوش سے جوش کا غلبہ تھا، وجہ یہ بھی تھی کہ نسل نو میں سے جن کو پہلی دفعہ موقع مل رہا تھا، انکی بڑی تعداد نے یہ فریضہ ”سعادت“ سمجھ کر ادا کیا ہے۔ ٹرن آئوٹ باوجود اس کے سابقہ الیکشن کی نسبت کم ہی ر ہا ہے، نصف سے بھی کم رجسٹرڈ ووٹرز  نے پولنگ اسٹیشن کا رخ کیا ہے۔ وہ نسل نو کی طرح جذبات سے لبریز نہیں تھے، شائد وہ سمجھتے ہوں کہ الیکشن کے مابعد اثرات ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔

پہلے کی طرح الیکشن کی گہما گہمی کوچہ و بازار میں نہیں تھی بڑے جلسے جلوس تھے نہ ہی ہمہ گیر اور منظم عوامی رابطہ مہم، بل بورڈز، بینرز کی پابندی بھی آڑے آگئی، تاہم سوشل میڈیا نے الیکشن کمپین میں فعال اور سنہری کردار اد کیا ہے۔ ہر پارٹی کے افراد اس پر متحرک رہے۔ دیار غیر میں مقیم من چلوں نے اپنی اپنی پارٹی سے محبت رکھنے پر اپنا حصہ بھی ڈالا۔

نئے ووٹرز میں سے کتنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، کسی جماعت کے منشور سے وہ آگاہ تھے جس امیدوار یا جماعت کو وہ ووٹ ڈالنے جارہے ہیں، اس کا ماضی کتنا اُجلا ہے کیاو ہ باخبر تھے، وہ جماعت جس کے امیدوار کے سپرد یہ امانت کرنی ہے اس پارٹی کی ملک کے لئے کیا خدمات ہیں،اگر سابقہ عہد میں وہ برسر اقتدار رہی تو اس نے کونسے نئے پراجیکٹ لانچ کئے، اس کی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں کیسی تھیں، اس سے ملک کے عوام کس حد تک مستفید ہوئے، مہنگائی، بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے کیا اقدامات کئے گئے، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالا دستی میں انکے اراکین کا کیا کردار رہا، پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں پارٹی کے اراکین کی شرکت کی شرح کیا رہی، رول آف بزنس میں کس نے موثراور فعال کردار اد ا کیا، قانون سازی کے ذریعہ عوام کے لئے راحت کا کتنا ساماں کیا گیا، اوورسیز کی مشکلات کو کم کرنے میں کونسی پارٹی پیش پیش تھی۔ اوصاف حمیدہ کے اعتبار سے انکی پارٹی اور امیدوار کس مقام پر کھڑے ہیں؟

تھانہ کلچر کی پذیرائی، میرٹ کی پامالی،بدعنوانی کے خلاف کونسی جماعت کے اراکین سراپا احتجاج رہے، وہ اراکین پارلیمنٹ جو اپنی پوری آئینی مدت میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے وہ کس پارٹی سے تھے، غیر ضروری مالی مراعات لینے پر کس جماعت کے اراکین نے لب کشائی کی، معاشی اور سماجی ناا نصافی پر کس کس نے توجہ دلائو نوٹس دیئے، اپنے پارلیمانی عہد میں کس ممبر یا پارٹی نے سب سے زیادہ قرار دادیں پیش کی تھیں۔

ہمیں کامل یقین ہے ان تعلیم یافتہ ووٹرز میں سے کسی نے بھی ان نقاط پر غوروفکر نہیں کیا ہو گا، ریاست کے سنہری مستقبل اور ووٹ ڈالنے جیسے قومی فریضہ سے پہلے کیا اس پر سوچنا نہیں تھا ؟

ہمارا وہم ہے کہ ان کے نزدیک یہ ووٹ بس ایک پرچی تھی جس کو انھوں نے بغیر سوچے سمجھے بیلٹ بکس میں ڈال دیا۔ حالانکہ تعلیم یافتہ ہونے کے ناتے ان پر زیادہ ذمہ داری تھی۔

اگر نسل نو اس نوع کی کسی مشق میںشریک ہوتی، قومی مذاکرہ میں اس طرح کے سوالات اٹھائے جاتے،سماجی سطح پر ووٹ کی اہمیت پر سمینار منعقد کرائے جاتے، سیاسی ماہرین اس پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے، جماعتوں کی سیاسی کارکردگی کا تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا، تو نوجوانان قوم بھی اس پر سوچنے کا تکلف کرتے۔ان کے نزدیک تو دانشمندی کا ایک ہی باب کھلا ہے جسے سوشل میڈیا کہتے ہیں۔

اس پرجذباتی انداز میں طوفان بدتمیزی سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ مردو زن حقیقت پسندی سے کوسوں دور جذبات کے سمندر میں غوطہ زن، اچھے برے میں تمیز کرنے سے بھی قاصر تھے، اس مشق کا نتیجہ شخصیت پرستی اور اندھی تقلیدکی صورت میں برآمد ہو رہا تھا۔

بانی پاکستان نے فرمایا کہ سیاست میں جذبات کی حماقت کے لئے کوئی جگہ نہیں، جذبات کی ٹوٹی کھولنا آسان ہے اس کو بند کرنا انتہائی مشکل ہے،جذبات کے طوفان میں معقول سے معقول پالیسی بھی بہہ جاتی ہے۔

المیہ یہی ہے کہ ہم نے نسل نو کو قائد اعظم جیسی بااصول ہستی کو بطور سیاست دان متعارف نہیں کرایا، وہ زندگی کے کسی بھی معیار کے حوالہ سے اہم شخصیت تھے، مدبر سیاستدان، آئین پسند، ممتاز راہنما تھے،اس دور کی سپرپاور آپ کے استقلال، جرأت مندی کے اوصاف کے سبب اپنی ہٹ دھرمی، ضد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی تھی۔ ان کا کردار کھلی کتاب کی مانندہے۔جو ہمیشہ سے مشعل راہ ہے۔

آج کے بونے سیاست دانوں کی طرح پیرو کاروں کوشخصیت پرستی کے مرض میں مبتلا نہیں ہونے دیا،تحریک پاکستان میں طلبہ اور نوجوانان کی شرکت مثالی رہی مگر اپنے مخالفین کے خلاف کبھی استعمال نہیں کیا، ان میں انتہا پسندی کے قائل نہ تھے، انھیں توازن اور اعتدال کی راہ پر دیکھنے کے آرزو مند تھے، وہ سمجھتے انتہا پسندی ان کو شخصیت پرستی کی طرف لے جائے گی، یہ بت پرستی سے زیادہ خطرناک ہے، جو آگے چل کر اندھی تقلید میں بدل جاتی ہے۔

سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ اس مرض میں گرفتار افراد معاشرے میں نئے افکار کو جنم دینے کے قابل نہیں رہتے۔سماج میں تولید فکر کا باب بند ہو جاتا ہے،یہ روایتی اور جاہل معاشروں میں زیادہ پائی جاتی ہے، اور لوگ گروہوں میں بٹ جاتے ہیں، دوسرے لوگوں کے خیالات کے غلام ہوجاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ اگر انسان کی پوجا کی جائے تو وہ فرعون بن جاتا ہے کیونکہ بت کا کوئی دماغ نہیں ہوتا،مگر اندھی تقلید کے سبب لوگ صلاحیتوں کو اپنے پیشوا، سیاسی یا مذہبی قائد کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں ،پھر وہ ایسا سوچتے اور دیکھتے ہیں جیسا ان کا لیڈر سوچتا اور دیکھتا ہے،بظاہر وہ ِخود کو آزاد سمجھتے ہیں مگر عملاً وہ غلام ہوتے ہیں۔

سیاسی نظام کی ناکامی کی وجہ اندھی تقلید اور شخصیت پرستی ہے، ایسی قیادتیں راہنما اصولوں کی طاقت سے محروم ہوتی ہیں، اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے وہ لاقانونیت کا سہار ا لیتی ہیں یا دولت کے انبار سے پیچھے چھپ جاتی ہیں، اس ماحول میں نسل نو کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے سے قبل سیاسی قیادتوں میںدیانت داری، اصول پسندی، بالغ نظری، اعتدال جیسی خوبیاں تلاش کرنے کا دکھ اٹھائے۔

شعوری طور پر اگرووٹ کا استعمال کیا جاتا تو سماج وڈیرہ شاہی، جاگیرداری، سرمایہ داری اور گدی نشینی سے نجات پا جاتا، نسل نو نے مگرسماج کی اسی کلاس کو پھر ووٹ دے کر مالی مراعات کوان کے لئے اور سہل بنادیا ہے، ہم کوئی غلام ہیں جیسے نعرہ کا علمی ثبوت بھی دیا ہے۔

The post ہم کوئی غلام ہیں appeared first on Naibaat.