Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

قلندرِ دوراں … واصف علی واصفؒ

قلندرِ دوراں … واصف علی واصفؒ قطبِ ارشاد حضرت واصف علی واصفؒ کا 32 واں سالانہ عرس کے تقریبات مع فقید المثال سالانہ سیمینار اختتام پذیر ہوئی...

قلندرِ دوراں … واصف علی واصفؒ

قطبِ ارشاد حضرت واصف علی واصفؒ کا 32 واں سالانہ عرس کے تقریبات مع فقید المثال سالانہ سیمینار اختتام پذیر ہوئیں۔ اسلامی کلینڈر کے مطابق ہر سال 22، 23 اور 24 رجب المرجب کو یہ سہ روزہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ سیمینار الحمرا ہال نمبر 1 میں تھا۔ یہ سیمینار کبھی الحمرا میں منعقد کروایا جاتا ہے اور کبھی ایوانِ اقبالؒ کا سیمینار ہال مستعار لیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ سیمینار بائی لینگیول تھا، یعنی اْردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ترتیب دیا گیا تھا۔ بین الاقوامی سامعین کے لیے انگریزی میں بھی پیغام جانا چاہیے۔ سیمینار میں ثقہ دانشوروںنے خطاب کیا۔ تعلیماتِ واصفؒ، جو درحقیقت بنیادی دینی اخلاقیات کی تعلیم ہی ہے، کے مختلف گوشوں پر محققانہ اور دلبرانہ دونوں انداز میں گفتگو ہوئی اور خوب ہوئی۔ اس سال سوال و جواب پر مشتمل کتابی سلسلہ ’’گفتگو‘‘ کی دو مزید جلدیں بھی منظر عام پر آئیں، یعنی "گفتگو 35” اور "گفتگو 36″۔ علاوہ از یں "درِ احساس پبلیکشنز” کی جانب سے مضامین واصفؒ کا مجموعہ "دل دریا سمندر” کی اشاعتِ نَو کا اہتمام بھی کیا گیا۔ دیدہ ذیب طباعت،معیاری کاغذ اور صحتِ متن کے ساتھ شائع ہونے والا یہ ایڈیشن باذوق قارئینِ واصفؒ کے لیے ایک تحفے سے کم نہیں۔ اس اشاعتی ادارے نے اپنے لیے منفرد نام "درِ احساس” حضرت واصف علی واصفؒ کے اس شعر سے لیا ہے:
وہ مطمئن کہ زیاں جو ہوا، ہوا واصفؒ
مجھے یہ فکر ،کہ ہو کیسے وا، دَرِ احساس
"درِ اِحساس پبلیکشنز” نے عین مزارِ واصف علی واصفؒ کے سامنے ” کتاب گاہ” کے نام سے کتابوں کا ایک شو روم بھی کھولا ہے۔ یہ شو روم نہ صرف یہ کہ کتابوں کی خریداری کی ایک جائے دل پذیر ہے بلکہ اس کے اندر طالب علموں کے لیے ایک فری لائیبریری بھی قائم کی گئی ہے۔ یہ لائبریری دانشوروں ، شعراء اور اْدباء کی ایک بیٹھک بھی ہے۔ "مجلسِ فکر واصفؒ "کے زیرِ اہتمام ماہانہ نعتیہ مشاعرہ آج کل یہیں منعقد ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہاں عربی ، فارسی اور خطاطی کی کلاسوں کا اہتمام بھی موجود ہے۔ یہاں تصانیفِ واصفؒ کے لیے ” واصفیات” کے نام سے الگ گوشہ مخصوص ہے جہاں حضرت واصف علی واصفؒ کی تمام تصانیف، جن کی تعداد چالیس سے زائد ہے، موجود ہیں۔ حضرت واصف علی واصفؒ پر تحقیق کرنے والے محققین و مؤ لفین کی تمام کتب کا ذخیرہ بھی یہاں دستیاب ہے۔ آپؒ کے فکر و فن پر ایک پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ ہو چکی ہے اور ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں سے درجنوں ایم فل کے
مقالے بھی مکمل ہو چکے ہیں۔ آپؒ کی تعلیمات عام کرنے کی ایک سعی سہ ماہی "واصفؒ خیال” کی صورت میں گزشتہ بارہ برس سے جاری ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے 32 برس گزر گئے۔ یوں تو ہر برس ہی اس اللہ کے ولی کی یاد ایک عجب سماں باندھتی رہی ہے لیکن امسال رنگ کچھ عجب تھا۔ اِس لفظِ عجب کا تعلق "عجائب والغرایب” سے ہے۔ اس سال پر قلندرانہ رنگ واضح طور پر نمایاں رہا۔ ہرطرف علی علی کی صدا گونج رہی تھی۔غیر ارادی طور پرہر مقرر، نعت گو اور قوال ذکرِ علیؓ الاپتا نظر آیا۔ یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ اگر طے شدہ تھا، تو کہیں بہت پیچھے سے طے شدہ ہو گا… وہاں سے، جہاں ہمارے ارادے اور اختیار کی ایک نہیں چلتی۔ اس عرس کے تقاریب کے دوران میں راقم کے ذہن میں وہ حدیثِ رسولؐ کو ندا کرتی رہی : علی مع الحق و الحق مع علی” … ’’علیؓ حق کے ساتھ ہے اور حق علیؓ کے ساتھ ہے۔‘‘
اگرچہ آپؒ سلسلہ قادریہ اور چشتیہ میں بیعت و خلافت کی خلعت سے آراستہ تھے، لیکن تمام عمر آپؒ پر قلندرانہ رنگ غالب رہا۔ آپؒ نے کسی مخصوص مسلک یا سلسلے کی تعلیمات بیان نہ کیں، بلکہ آپؒ کا کام پوری اْمتِ مسلمہ کے لیے تھا۔ وحدتِ اْمتِ مسلمہ پیشں نظر تھی ۔ ایک سچا اور سْچا فقیر وحدت کا امین ہوتا ہے۔ اسے کسی فرقے میں پرویا نہیں جا سکتا۔ فرقہ فرق سے ہے اور فقیر کسی تفریق کا قائل نہیں ہوتا۔ وہ امیر غریب میں کوئی فرق کرتا ہے، نہ عقیدے اور عقیدت کے بنا کسی کو اپنی محفل سے خارج کرتا ہے۔ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے آپؒ کی محافلِ گفتگو میں ہر طبقہِ فکر کے آدمی کو بیٹھا ہوا پایا۔ یہاں لبرل طبقہ بھی پانی بھرتا ، اور کٹر مذہبی عبا قبا والے لوگ بھی فرش نشیں نظر آتے۔ آپؒ کے ہاں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ بیٹھتے … دیوبندی، وہابی ، بریلوی، شیعہ ، سنّی سب مکاتبِ فکر کے لوگ ایک ساتھ آپؒ کی گفتگو کے خوشہ چیں تھے۔ دیکھا یہی گیا کہ آپؒ کی محفل میں آنے والا فرقہ پرستی سے توبہ کر لیتا۔ وہ اپنے فرقے کے مبنی بر حق ہونے پر اصرار اور دوسرے کے موقف سے انکار کی روش ترک کر دیتا۔ یہاں اس باب میں ” دل دریا سمندر” میں آپؒ کا ایک مضمون قابلِ ذکر ہے، جس کا عنوان ہی ایک کامل کلیہ ہے: ” اسلام + فرقہ= صفر”۔اس کا عنوان بجائے خود ایک مضمون ہے۔ آپؒ کا ارشاد ہے: ’’ فرقہ پرست حق پرست نہیں ہو سکتا۔‘‘
اکثر قارئین حضرت واصف علی واصفؒ کی سوانح کی بابت دریافت کرتے رہتے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر اپنے قارئین کے ذوقِ طلب کے پیشِ نظر نہایت مختصر الفاظ میں ایک سوانحی خاکہ پیش کر دیا جائے:
"یہ طائرِ لاہوتی اس پیکرِ خاکی میں 1929ء سے 1993ء تک مقید رہا۔ جائے پیدائش خوشاب ہے، نسب اعوان اور قبیلہ کنڈان۔محققین کے مطابق اعوان قبیلے کے جدِّ امجد حضرت عباسؓ بن علیؓ بن ابی طالب ہیں۔ ابتدائی تعلیم خوشاب میں اور سیکنڈری تعلیم اپنے نانا کے زیرِ سایہ جھنگ میں حاصل کی۔ ازاں بعد، لاہور منتقل ہو گئے۔ مادرِ علمی میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ اور گورنمنٹ کالج لاہور بھی شامل ہیں۔ آپؒ نے 1958ء میں پرانی انارکلی (نابھہ روڈ) میں’’لاہور انگلش کالج‘‘ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا، جہاں بی اے اور ایم اے کے طلباء کو انگریزی کی تعلیم دی جاتی۔ اسی کالج میں روحانی مجالس رات گئے بپا رہتیں۔ یہ کالج ادیبوں، شاعروں اور درویشوں کے لیے ایک تزکیہ گاہ بھی تھا۔ نعتیہ مشاعرے کی روایت بھی یہاں تادیر قائم رہی۔
آپؒ ایک بے مثل درویش، حق آگاہ دانشور، مصلح شاعر اور صاحبِ اسلوب نثر نگار تھے۔ پہلا شعری مجموعہ’’شب چراغ‘‘ 1978ء میںطبع ہوا،نثرپاروں کی کتاب’’کرن کرن سورج‘‘ 1984ء میں شائع ہوئی۔ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں مئی1984ء سے ’’گفتگو‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو تاعمر جاری رہا۔نثری مضامین کی کتب ’’دل دریا سمندر‘‘،’’قطرہ قطرہ قلزم‘‘ اور ’’حرف حرف حقیقت‘‘ اِن ہی کالموں کا مجموعہ ہے۔ جملے کے کوزے میں ایک مضمون کا دریا بند کرنا آپؒ کی تحریر کاوصفِ امتیاز ہے۔
دانشور طبقے سے اصلاحی مکالمے کاآغاز اگرچہ ایک عرصے سے شروع تھا، لیکن 1979ء میں لاہور انگلش کالج کی تعلیمی سرگرمیاں موقوف کرنے کے بعد آپؒ نے نْورِ علم و معرفت کی محافلِ گفتگو کی طرف بھر پور توجہ مرکوز کر دی۔ ہفتے میں دو دن سوال و جواب کی محافل بپا ہوتیں جس میں ہر طبقہِ زندگی سے تعلق رکھنے والے متلاشیانِ حق والہانہ شرکت کرتے۔ ان ہی سوال و جواب کی محافل کی ٹرانسکرپشن پر مشتمل کتابوں کا سلسلہ تادمِ تحریر’’گفتگو‘‘ کے نام سے36 کتب تک پھیل چکا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
آپؒ کی تحریر اور گفتگو کے مرکزی موضوعات… حق آگہی، تزکیہ نفس، اخلاقیات، خدمتِ انسانیت، پاکستانیت، وحدتِ ملّت اور حْبِّ رسولؐ ہیں۔ محققینِ فکر و فن نے اپنے تحقیقی مقالوں میں آپؒ کو’’مصلحِ پاکستان‘‘ کا خطاب دیا ہے۔ اسلوب میں جدید اور تاثیر میں قدیم،تحریرِ واصفؒ روحِ اسلام سے آگہی کی کلید ہے۔عصرِ حاضر کے جملہ فکری اشکالات، فکرِ واصفؒ کی روشنی میں رفع ہو جاتے ہیں۔
واصفی فکر سے ہر سوچ سجی لگتی ہے
یہ صدی حضرت ِ واصفؒ کی صدی لگتی ہے

The post قلندرِ دوراں … واصف علی واصفؒ appeared first on Naibaat.

کوئی تبصرے نہیں