Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

جمہوریت کے لیے اچھی خبر

جمہوریت کے لیے اچھی خبر یہ محض اتفاق ہی ہے یا کچھ اور کہ اس وقت ملک کی تقریباً تمام ہی سیاسی پارٹیاں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں،...

جمہوریت کے لیے اچھی خبر

یہ محض اتفاق ہی ہے یا کچھ اور کہ اس وقت ملک کی تقریباً تمام ہی سیاسی پارٹیاں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، کسی نہ کسی قسم کے بحران کا شکار ہیں ۔اور اسی بحرانی کیفیت کی وجہ سے ملک کی ترقی کے راستے بھی بند ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

محسوس یہ ہوتا ہے کہ ’وزیر اعظم نواز شریف‘ کے نعرہ پر الیکشن لڑنے والی پاکستان مسلم لیگ (نواز) اب مائنس نواز شریف پر راضی ہو گئی یا پھر قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن دیکھ کر خود نواز شریف نے ہی چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا خیال موخر کر دیا۔ حقیقت کیا ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن نواز لیگ حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی وفاقی کابینہ میں شامل افراد کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ موجودہ حکومت میں نواز لیگ کا حقیقی کرادار کس قدر ہے۔ یعنی اگر یہ کہا جائے تو زیادہ غلط نہ ہو گا کہ میاں نواز شریف اپنی تمام تر جمہوریت پسندانہ باتوں اور آمرانہ عادات کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور ان کی پارٹی نے ایک مفاہمانہ فارمولے کے تحت حکومت چلانے کا فیصلہ کیاہے۔
میرے ذاتی خیال میں تو اس وقت پیپلزپارٹی کی قسمت کا ستارہ اپنے عروج پر ہے۔ پہلے تو وہ وفاق اور پنجاب میں امید سے زیادہ نشستوں پر کامیاب قرار پائے پھر انہوں نے پوری سیاسی حکمت عملی کے تحت معاشی اور سیاسی اعتبار سے کمزور حکومت کا ساتھ دینے اور تقریباً تمام ہی بڑے آئینی عہدے لینے کا فیصلہ تو کر لیا لیکن کابینہ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ آصف زرداری صدر مملکت بننے کے بعد ایوان صدرکے مکین بن چکے ہیں اب یہ وہاں بیٹھ کر کیا کیا جادوگریاں دکھائیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف ، سنی اتحاد کونسل یا پھر اس پارٹی کو جو بھی نام دیا جائے اس کی تو بات ہی نرالی ہے۔ان کے طریقہ کار اور حکمت عملیوں پر کوئی معقول ضرب المثل تو فٹ نہیں بیٹھتی اس لیے یہ بات تو رہنے ہی دی جائے تو بہتر رہے گا۔ حالت یہ ہے کہ عمران خان کبھی اپنے اچھے بھلے منتخب اراکین اسمبلی کو مستعفی کروا دیتے ہیں اور پھر انہیں حلقوں میں ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے کھجل خوار ہوتے پھرتے ہیں، کبھی اپنی صوبائی حکومتوں کو تحلیل کروا کر بعد ازاں سر پیٹتے ہیںاور کبھی اپنے حمائت یافتہ اراکین اسمبلی کو کسی اور پارٹی میں شامل کروا کر وہ سہولیات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن کو لینے کے لیے مذکورہ پارٹی خود ہی انکار کر چکی ہے۔

بہت پرانی بات نہیں کہ جب کہ عمران خان ہر وقت اس بات کا ڈھنڈورا پیٹا کرتے تھے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور اب اگر حکومت ان کی جان کی حفاظت کے لیے اقدامات کرے تو اس پر نالاں ہو جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اب تو عمران خان کی پارٹی بیرسٹر گوہراور لطیف کھوسہ جیسے لوگوں اور اعتزاز احسن جیسے مشیروں کی وجہ سے آصف زرداری کے آگے گروی پڑ چکی ہے اورجلد یا بدیر اس سلسلہ میں واضع اثرات نمودار ہونا شروع ہوجائیں گے۔

مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علما اسلام اگرچہ زیادہ نشستیں جیتنے میں تو کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئی لیکن مولانا کے پیچھے کھڑی سڑیٹ پاور اور مولانا کے سیاسی تدبر اور ان کی سمجھ بوجھ سے کسی کو انکار نہیںہوسکتا۔ ہم نے دیکھا کہ عمران خان جیسا ان کا کٹر مخالف جو اپنے جلسوں میں کبھی ان کا نام تک تمیز سے نہیں لیتا تھا ان کی سیاسی حکمت عملی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نواز کی قیادت بھی حکومت میں مولانا کی شمولیت کے بغیرقرار نہیں پا رہی۔

جماعت اسلامی اور اے این پی کی پالسیوں سے لگتا ہے کہ انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ’سی‘ کیٹیگری تک ہی محدود رکھیں گے۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت اس وقت سامنے آیا جب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کو تقویت بخشنے کے لیے جماعت اسلامی کراچی کے ایک راہنما اپنی جیتی ہوئی سیٹ سے یہ کہتے ہوئے دستبردار ہو گئے کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق تو وہ یہ سیٹ جیتے ہی نہیں۔

ہاں البتہ ایم کیو ایم کا کردار پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ بڑا اہم رہا ہے۔ کسی کو فائدہ پہنچانا ہوا یا کسی کی گردن کا درد بننا ہو ایم کیو ایم میں تمام تر خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔چونکہ یہ ایک سیاسی پارٹی کم اور ایک پریشر گروپ زیادہ ہے شائد یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف مختلف اوقات میں مختلف قسم کے ایکشن بھی کئے گئے لیکن بے سود رہے۔ ریاستی سطح پر یا پارٹی کے اند ر سے بھی اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بری طرح ناکام ہو گیں۔ اس کی تازہ ترین مثال چند ہی ماہ قبل سامنے آئی جب ایم کیو ایم کے تقریبا ً تمام ہی دھڑے اور منحرف لوگ ایک مرتبہ پھر سے یکجا ہو گئے۔

یہ کسی ’قوت‘ کے زیر اثر ہے یا ہماری سیاسی قیادت کو عقل آنا شروع ہو گئی ہے کہ شہباز شریف کا میثاق جمہوریت فارمولا کارگر ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف عمران خان کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ سے متفق نظر آتے ہیں تو دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخواہ کے ’اتھرے‘ وزیر اعلیٰ، علی امین گنڈا پور،نے ناصرف وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے بلکہ ان کی خیبرپختونخواہ آمد کے موقع پر ان کا استقبال نہ کر سکنے پر معذرت بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر احسن اقبال کے ساتھ مشترکہ میڈیا ٹاک میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ سیاست اپنی اپنی لیکن مملکت سانجھی ہے لہٰذا قومی مفاد کے معاملات میں مل کر چلا جائے گا۔

شہباز شریف اور علی امین گنڈا پورکی ملاقات سے یقینی طور پر ملکی سیاست پر طاری جمود ٹوٹے گا اور میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت جیسے معاملات میں پیش رفت ہو گی جس سے عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا اور ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔

The post جمہوریت کے لیے اچھی خبر appeared first on Naibaat.