Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

انڈس ہسپتال کا معجزہ

انڈس ہسپتال کا معجزہ پاکستان میں ایسا ادارہ جہاں لوگ انتہائی دیانتداری و ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہوں ، کوئی ایک دوسرے کی ٹانگ نہ ...

انڈس ہسپتال کا معجزہ

پاکستان میں ایسا ادارہ جہاں لوگ انتہائی دیانتداری و ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہوں ، کوئی ایک دوسرے کی ٹانگ نہ کھینچ رہا ہو ، جہاں منافقت و سیاست کا نام و نشان تک نہ ہو ، جہاں نیتوں کو بھاگ لگے ہوئے ہوں اور مقصد صرف خلق خدا کی خدمت ہو ، میں اْسے ادارہ نہیں ایک معجزہ سمجھتا ہوں ، انڈس ہسپتال (ہیلتھ نیٹ ورک) ایسا ہی ایک معجزہ ہے بلکہ پاکستان میں اس وقت ایسے دس’’معجزے‘‘ ہیں جو اللہ کے فضل سے ایک فرشتہ سیرت انسان ڈاکٹر عبدالباری خان کی سرپرستی میں قائم و دائم ہیں ، میری زندگی کا سب سے سوگوار دن تھا جب عبدالستار ایدھی کا انتقال ہوا ، میرا خیال تھا اس کے بعد پاکستان میں خیر کے جتنے دروازے ہیں سب بند ہو جائیں گے ، یوں محسوس ہو رہا تھا’’ایدھی ٹرسٹ‘‘بھی اب شاید نہیں چلے گا ، مگر قدرت کا ایک نظام ہے ، خیر پھیلانے والے چلے جاتے ہیں خیر نہیں رْکتی ، لوگ بس وسیلہ ہوتے ہیں ، ایک وسیلہ چلے جاتا ہے دوسرا پیدا ہو جاتا ہے ، ایدھی صاحب چلے گئے ، تو خیر کے ایک بڑے وسیلے کے طور پر ڈاکٹر ادیب رضوی آگئے ، ڈاکٹر امجد ثاقب اور ڈاکٹر عبدالباری خان آگئے ، خیر کا جو چراغ ایدھی صاحب نے جلایا تھا وہ بْجھا نہیں ، میں اکثر عمران خان کے بارے میں سوچتا ہوں وہ اگر سیاست کی گندگی میں نہ آتے ، اپنی توجہ صرف فلاحی کاموں پر رکھتے پاکستان میں شاید کوئی شخص آج بدحال نہ ہوتا ، اچھی تعلیم اور علاج سے شاید کوئی محروم نہ ہوتا ، مگر افسوس خان صاحب نے ایسا راستہ چْنا جہاں ایک غلیظ سسٹم تو وہ تبدیل نہ کر سکے البتہ غلیظ سسٹم نے اْنہیں ضرور تبدیل کر دیا ، پاکستان میں شرپسندوں کے لئے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں اور خیر پسندوں یا خیر تقسیم کرنے والوں کے لئے اتنی مشکلات ہیں جس میں سروائیول ناممکن ہے ، اس کے باوجود کچھ ہمت والے لوگ اپنا کام کرتے رہتے ہیں یہ اللہ کی اْن پر خاص رحمت ہے ، ابھی کل مجھے گْھرکی ہسپتال کے ڈائریکٹر فنانس نعیم گْھرکی بتا رہے تھے گْھرکی ہسپتال میں کینسر کے علاج کے لئے سائیبر نائف ( مشین ) کا ایک پْرزہ خراب ہو گیا جو باہر سے منگوایا گیا ہے ، اب کسٹمز والے اْسے روک کے بیٹھے ہوئے ہیں کہ اپنی فلاں پالیسی کے تحت وہ اسے ریلیز نہیں کر سکتے ، کسٹمز حکام کی اللہ جانے وہ کون سی انسان دشمن پالیسی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں مریض اذیت کا شکار ہیں ، پاکستان کی ساری پالیسیاں سارے قوانین سارے رولز اور ضابطے طاقتوروں کی جوتی بنے رہتے ہیں اور جہاں معاملہ محض انسانیت کی خدمت کا ہو وہاں چھوٹی چھوٹی پالیسیاں اور رولز رکاوٹ بن جاتے ہیں ، اْوپر میں نے انڈس ہسپتال کا ذکر کیا تھا پھر بات اور طرف نکل گئی ، ڈاکٹر عبدالباری خان ماہر امراض دل ہیں ، ہمارے اکثر ماہرین امراض دل ، دل کا علاج کرتے ہیں ، ڈاکٹر عبدالباری خان دل میں گھر کرتے ہیں ، وہ پاکستان میں خیر بانٹنے والے ایک’’معجزے‘‘ انڈس ہسپتال ( ہیلتھ نیٹ ورک ) کے بانی صدر ہیں ، 1984 میں کراچی کے بوری بازار میں ایک بہت بڑا بم دھماکہ ہوا جس میں کئی لوگ شہید اور بیشمار زخمی ہوگئے تھے ، ڈاکٹر عبدالبار خان اْس وقت کراچی کے سول ہسپتال میں کام کرتے تھے ، اس بم دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے لئے خون چاہئے تھا ، بہت سے لوگوں نے خون کے عطیات دئیے مگر خون پورا نہ ہوا ، ڈاکٹر باری اپنے چار دوستوں کے ساتھ کراچی کے بہت سے تعلیمی اداروں میں گئے اور اتنا خون اکٹھا کیا کہ خون کی کئی اضافی بوتلیں ہسپتالوں میں محفوظ کر لی گئیں ، تب اْنہیں پہلی بار یہ احساس ہوا مْلک پر کوئی آفت آجائے لوگ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ، اس کے بعد اْنہوں نے فیصلہ کیا وہ لوگوں کی مدد سے کوئی بڑا کام کریں گے ، نیت نیک ہو اللہ ہر کام میں برکت ڈال دیتا ہے ، 1984 میں دیکھے جانے والے خواب کی تعبیر اْنہیں 2007 میں کراچی میں پہلے انڈس ہسپتال کے قیام کی صورت میں ملی ، آج انڈس ہسپتال پاکستان کا سب سے بڑا ہیلتھ نیٹ ورک ہے ، اس کے زیراہتمام پاکستان کے مختلف شہروں میں دس بڑے ہسپتال کام کر رہے ہیں ، چار ہسپتال پنجاب میں چار سندھ میں اور دو بڑے ہسپتال بلوچستان میں ہیں ، پنجاب میں یہ سلسلہ 2014 میں رحیم یار خان سے شروع ہوا تھا ، پھر لاہور ، مظفرآباد ، اور ملتان میں بھی ہسپتال قائم کئے گئے ، جس نیک نیتی کے ساتھ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھنے جا رہا ہے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے ہماری حکومت مستحق لوگوں کے علاج معالجے کی ساری ذمہ داریوں سے خود کو مکمل طور پر الگ کر کے بیٹھ جائے گی کہ انڈس ہسپتال ہیلتھ نیٹ ورک کے ہوتے ہوئے اْنہیں کیا ضرورت پڑی ہے محروم طبقے کے علاج معالجے پر وہ کوئی توجہ دے ؟ آپ یہ سْن کر حیران ہوں گے انڈس ہسپتالوں میں کوئی ’’کیش کاؤنٹر‘‘ ہی نہیں ہے ، یہاں آنے والے تمام مریضوں کو پتہ ہوتا ہے اْن کا فری علاج ہونا ہے آپریشن فری ہونے ہیں تمام ٹیسٹ فری ہونے ہیں ، یہاں آنے والے مریضوں کی مالی حیثیت دیکھی جاتی ہے نہ یہ دیکھا جاتا ہے اْن کا تعلق کس رنگ و نسل سے ہے ، اگر کوئی صاحب حیثیت اپنے یا اپنے کسی عزیز کے کامیاب علاج یا آپریشن کے بعد ہسپتال کی کوئی خدمت کرنا چاہے اْسے اکاؤنٹ نمبر بتا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اْس میں رقم جمع کروا دے ، آپ کو یہ بات بہت عجیب لگے گی ،آپ یقیناسوچیں گے یہ کیسے ممکن ہے کسی ہسپتال میں کوئی کیش کاؤنٹر ہی نہ ہو ، یہ مگر ایک حقیقت ہے جو آپ موقع پر جا کر خود دیکھ سکتے ہیں ، میں نے انڈس ہسپتال کے بارے میں سْنا بہت تھا ، مگر میں یہ نہیں جانتا تھا یہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیلتھ نیٹ ورک ہے ، نہ ہی میں یہ جانتا تھا یہاں تمام مریضوں کا فری علاج ہوتا ہے ، میں اسے ’’گْھرکی ہسپتال‘‘ جیسا کوئی ادارہ سمجھتا تھا جہاں صرف مستحق مریضوں کا فری یا رعایتی علاج ہوتا ہے ، گزشتہ چند ماہ سے انڈس ہسپتال کے میڈیا ایڈوائزر محسن اقبال مسلسل اصرار کر رہے تھے میں وزٹ کروں ، میری اندروں مْلک خاص طور پر بیرون مْلک مصروفیات آڑے آ رہی تھیں ، میں اْن سے مسلسل معذرت کر رہا تھا ، اْن کا اصرار مگر جاری رہا ، میں نے سوچا یہ کوئی بہت ہی ’’ڈھیٹ انسان‘‘ ہے جو مجھے اپنے پاس بْلا کے دم لے گا ، میں گزشتہ ہفتے جوبلی ٹاؤن لاہور میں واقع انڈس ہسپتال چلے گیا ، اس ہسپتال کے سی ای او نارتھ ڈاکٹر تسمان ابن رسا اور سی او او ڈاکٹر شفیق احمد نے اس قدر خلوص اور محبت سے میرا استقبال کیا میں نے اْن سے کہا ’’میں نے وزٹ کیا کرنا ہے آپ مجھے اپنے اس ہسپتال کے بارے میں کچھ لکھ کر دے دیں میں وہ سب من و عن اپنے کالم میں لکھ دْوں گا‘‘ ، وہ فرمانے لگے ’’ہم نے صرف کالم لکھوانے کے لئے آپ کو یہاں مدعو نہیں کیا ،ہم یہ چاہتے ہیں آپ اس کے تمام شعبے دیکھیں ، مریضوں سے ملیں ، اْن سے اْن کے علاج معالجے کے بارے میں پوچھیں ، اس کے بعد اگر آپ محسوس کریں اس کارخیر میں کسی بھی حیثیت سے آپ ہماری راہنمائی کر سکتے ہیں یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہوگی’’، میں نے پورے ہسپتال کا وزٹ کیا ، میں اپنی جان چْھڑوانے کے لئے دس منٹ کے لئے یہاں آیا تھا میں پانچ گھنٹے یہاں رہا ، اس کے تمام شعبے دیکھے ، بے شمار مریضوں سے ملا ، اْس کے بعد میں نے ڈاکٹر تسمان ابن رسا اور ڈاکٹر شفیق احمد سے کہا اگر مجھے اس ہسپتال کا ’’خاکروب‘‘ بن کر کام کرنا پڑے یہ بھی میرے لئے اعزاز کی بات ہوگی ۔۔ (جاری ہے)

The post انڈس ہسپتال کا معجزہ appeared first on Naibaat.