Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

ڈاکٹر امجد پرویز۔۔۔۔۔۔وہ چراغ آخر شب تھا جو بُجھ گیا

ڈاکٹر امجد پرویز۔۔۔۔۔۔وہ چراغ آخر شب تھا جو بُجھ گیا یہ صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے کہ نظام قدرت کے تحت لاکھوں جتنے انسان دنیا میں آتے، اتنے ہی ...

ڈاکٹر امجد پرویز۔۔۔۔۔۔وہ چراغ آخر شب تھا جو بُجھ گیا

یہ صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے کہ نظام قدرت کے تحت لاکھوں جتنے انسان دنیا میں آتے، اتنے ہی چلے جاتے ہیں کیونکہ یہ سلسلہ تاقیامت جاری و ساری رہے گا۔ کوئی بہت پہلے تو کوئی بہت بعد میں اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، بات عمروں کی نہیں وقت کی ہے، جو لکھا جا چکا ہے۔ انسان کے لکھے وقت کا لکھا لفظ اِدھر سے اُدھر ہو سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے وقت کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ کچھ لوگ دنیا میں آتے اور اپنا وقت پورا کر کے چلے جاتے ہیں۔ انہی لوگوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں کئے اپنے کاموں کی وجہ سے ایک بڑی شناخت رکھتے ہیں، بڑے کام، بڑا قد رکھنے والے یہ لوگ اس بات کا احساس دلا جاتے ہیں کہ دنیا ان کو مرنے کے بعد بھی نہیں بھولتی۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹر امجد پرویز انتقال کر گئے۔ میری نظر میں ڈاکٹر امجد کے انتقال اور ان کی ذات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا اور پڑھا جا رہا ہے لیکن دیکھا جائے تو ان کے جانے سے جہاں علم، جہاں کتاب اور جہاں موسیقی کی دنیا میں ایک بڑا خلاء پیدا ہوا جو کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔

میوزک کے حوالے سے ان کی شاندار خدمات اپنی جگہ، یہ زمانہ تھا پی ٹی وی کا جب بڑی خوبصورت آوازوں میں ڈاکٹر امجد پرویز کی آواز بھی موسیقی کی دھنوں میں اس طرح سنی جاتی تھی جیسے مہدی حسن بڑے ناموں کے ساتھ یہ نام بھی بہت اہمیت رکھتا تھا۔ انہوں نے اردو اور پنجابی میں نثر سے لے کر نظم اور نظم سے لے کر گیت تک کو جو سنگت دی اور جو سُر ملائے وہ آج بھی اپنی جگہ بہت بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز جہاں ایک بہت بڑا دکھ اور میوزک کی تاریخ کو بھی ایک ایسا لکھا باب دے گیا جو آئندہ آنے والی نسلوں تک پڑھا جائے گا۔ ڈاکٹر امجد پرویز کے چاہنے والے مداحوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے کہ وہ نسلی بندہ تھا اور آنے والی نسلوں کے ساتھ اپنے رشتے جوڑ گیا، وہ تو ہجوم کا آدمی تھا جو اندھیری قبر میں اتر گیا۔ گو امجد آج ہم میں نہیں اس کے گائے سُریلے گیت، میں یہ نہیں کہتا کہ امر ہیں لیکن جب آپ آج بھی ان کو سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ کل کی آواز ہے، یہ کل کا گیت ہے۔

یہ غالباً اکتوبر 2023ء کی بات ہے، پاکستان کے معروف بزنس مین سہیل لاشاری کے بیٹے کے ولیمے پر مجھے مدعو کیا گیا۔ مہمانوں کی صف میں جب میں نے ڈاکٹر امجد پرویز کو دیکھا تو ہم دونوں بے اختیار ایک دوسرے سے ملے۔ ایک دوسرے سے نہ ملنے کے گلے شکوے ہوئے۔ پھر یہ طے ہوا کہ اگلے ہفتے وہ مجھے فون کریں گے یا میں ان کو فون کروں گا۔ اپنے صحافتی مصروفیات کی وجہ سے نہ اِدھر سے فون گیا نہ اُدھر سے فون آیا اور کل ان کے مرنے کی خبر آ گئی۔ ولیمے پر ہونے والی مختصر ملاقات میں یہ بھی طے ہوا کہ وہ اپنی لکھی گئی کتاب ”میلوڈی میکرز“ کا دوسرا ایڈیشن مارکیٹ میں لانے والے ہیں اور اس کا ایک باب میں لکھوں گا یعنی اسد شہزاد لہٰذا بڑی خوشی ہوئی کہ انہوں نے مجھ جیسے ناچیز قلمکار کو یہ اعزاز بخشا کہ میں ان کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کا حصہ بنوں۔ آج میں اپنی مصروفیات کو کوس رہا ہوں، کاش میں ان سے کیا وعدہ نبھا پاتا، کاش میں ان سے مل لیتا مجھے کیا خبر تھی کہ میری یہ ان سے آخری ملاقات ہے، آخری بات ہے، آخری الفاظ ہیں، اور مجھے وہ اب کبھی نہیں مل سکیں گے اور میں ہمیشہ کیلئے ان سے محروم ہو جاؤں گا۔ آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی یادیں ان سے کی گئی ملاقاتیں، ان سے کئے گئے انٹرویوز، ان کے ساتھ میوزک کی محفلوں میں گپ شپ کے لمحات آج میرا اثاثہ بن گئے ہیں۔

ڈاکٹر امجد پرویز کے حوالے سے دو باتیں ایک ان کا ”میلوڈی میکرز“ کے نام سے کتاب لکھ کر میوزک کی دنیا میں نامور موسیقاروں کو ان کے کریکٹرز کو ان گلوکاروں کو ان کی شاعری کو اور ان کی دی گئی میوزک کے بارے میں یکجا کرکے 400 صفحات پر مشتمل ایسی تاریخ مرتب کر دی جو کوئی اور نہ کر سکا۔ یہ کتاب پاکستان میں میوزک کے حوالے سے شاید واحد کتاب ہے جس میں تقریباً 39 موسیقاروں کو کوزے میں بند کیا۔ ان میں کلیان جی آنند جی، خواجہ خورشید انور، لکشمی کانت پیارے لال، ماسٹر عبداللہ، ماسٹر عنایت حسین، محسن رضا، نثار بزمی، نذیر علی، نوشاد علی، رشید عطرے، آر ڈی برمن، خلیل احمد، شنکر جے کشن، استاد نذر حسین، استاد طافو خان، جی اے چشتی، بخشی وزیر۔ میں پریشان اس بات پہ ہوں کہ جب وہ یہ کتاب مرتب کر رہے تھے، جب وہ ان تمام نامور موسیقاروں کی زندگیوں کو ایک جگہ یکجا کر رہے تھے تو انہوں نے کس قدر ریسرچ کی ہوگی۔ کتاب کی اشاعت پر ایک کتاب مجھے بھی بھیجی گئی۔ یہ کتاب آج میری لائبریری میں محفوظ ہے بلکہ میرا یہ وہ اثاثہ ہے جس کی میں پہلے سے زیادہ حفاظت کروں گا۔

اور آخری بات……
وہ کہتے ہیں نہ کہ وہ چراغِ آخری شب تھا جو بُجھ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر امجد پرویز ایک ایسا چراغ تھا جس کی لَو سے موسیقی کی دنیا میں روشنی ہی روشنی تھی۔ وہ کیا بُھجا کہ سُر بھی بجھ گئے، وہ کیا گیا کہ اپنے ساتھ سُروں کو بھی لے گیا۔ آج کے دور میں کہاں ایسے نام دوبارہ پیدا ہوں گے جن کو میں ڈاکٹر امجد پرویز کہہ کر پکار سکوں گا۔

ریڈیو پاکستان سے اٹھنے والی آواز، پھر ٹیلیویژن کی سکرین سے خوبصورت چہرے کے ساتھ خوبصورت آواز کو سُنا گیا تو پھر دنیا سے بھی آوازیں آئیں کہ یہی تو ایک آواز ہے جس کے ردھم نے سُروں کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ اس کے بغیر ادھورے ہیں۔ ان کے گائے اردو اور پنجابی کے گیت آج بھی اس دھرتی کی پکار ہیں اور یہ دھرتی جب تک ہے ان کے یہ سُر ہمیشہ سنے جاتے رہیں گے، ان کی آواز اب زمانے کی آواز بن چکی ہے۔ وہ نا سہی ان کی آواز ہی سہی جسے میں اپنی مصروفیات کے باوجود کہیں نہ کہیں سننے کی کوشش کرتا رہوں گا۔ دوستی اپنی جگہ سہی وہ ایک عظیم گلوکار ہی نہیں ایک عظیم انسان بھی تھا۔ خدا اس کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے۔ (آمین)

The post ڈاکٹر امجد پرویز۔۔۔۔۔۔وہ چراغ آخر شب تھا جو بُجھ گیا appeared first on Naibaat.