Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

انڈیا: کرپشن کے باوجود بلند ترین شرح نمو

انڈیا: کرپشن کے باوجود بلند ترین شرح نمو آپ زندگی میں جتنا مرضی پیسہ اکٹھا کر لیں جتنی چاہیں ترقی کر لیں شہرت کے جس مرضی مقام کو پا لیں یہ ...

انڈیا: کرپشن کے باوجود بلند ترین شرح نمو

آپ زندگی میں جتنا مرضی پیسہ اکٹھا کر لیں جتنی چاہیں ترقی کر لیں شہرت کے جس مرضی مقام کو پا لیں یہ نہ سمجھیں کہ آپ بلندی کی آخری حدوں کو چھو چکے ہیں کامیابی کی جس سیڑھی پر کھڑی ہو کر اس کو آخری سیڑھی سمجھ رہے ہیں ہو سکتا ہے کوئی ایسا بھی ہو جس کے لیے یہ آخری سیڑھی اس کی پہلی سیڑھی کے سب سے ادنیٰ زینے کے برابر ہو۔
مشہور بھارتی اداکار امیتابھ بچن نے انڈین فلم انڈسٹری بالی وڈ میں جو مقام حاصل کیا وہ شاید آج تک کسی اداکار کو نصیب نہیں ہوا۔ وہ اپنے زمانہئ عروج کے دور کا قصہ سناتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ایک دفعہ وہ جہاز میں سوار ہوئے تو بہت سے مسافروں نے انہیں پہچان لیا اور جہاز میں ایک خوشگوار ہنگامہ مچ گیا لوگ اس سے آٹو گراف مانگنے لگے پھر وہ اپنی سیٹ پر پہنچے تو ان کے ساتھ والی نشست پر کوئی مقرر نظر آنے والا مسافر سے بیٹھا تھا وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے بے خبر کچھ کا غذات دیکھ رہا تھا۔ امیتابھ بچن اس کے پہلو میں بیٹھ گئے اس نے ایک سر سری نظر امیتابھ پر ڈالی اور پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے کاغذات بند کیے اور بیگ سے ایک کتاب نکال کر پڑھنے لگا۔

امیتابھ بچن کا اس شخص کے بارے میں تجسس بڑھتا جا رہا تھا جس کی بے نیازی سمجھ سے باہر تھی امیتابھ نے دل ہی دل میں اس شخص سے مخاطب ہونے کا تہیہ کر لیا اسی دوران اس شخص نے کتاب سے نظر اٹھائی تو امیتابھ نے اس کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ کا اظہار کیا جواب میں اس نے بھی مسکرا کر امیتابھ کو ہیلو کہا۔ امیتابھ کو حیرت یہ تھی کہ یہ کیسا شخص ہے جو دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری کے سب سے مہنگے اداکار کو گھاس نہیں ڈال رہا۔ باتوں باتوں میں امیتابھ نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ فلمیں دیکھتے ہیں اس نے جواب دیا کہ چند سال پہلے اس نے ایک فلم دیکھی تھی۔ امیتابھ بہت دل برداشتہ ہو چکا تھا مگر اس شخص کے بارے میں تجسس ختم نہیں ہو رہا تھا۔ بالآخر امیتابھ نے کہا کہ میں بالی وڈ میں کام کرتا ہوں وہ شخص ٹس سے مس نہ ہوا اور امیتابھ سے پوچھنے لگا کہ آپ بالی وڈ میں کیا کرتے ہیں اس سوال نے تو امیتابھ کا کام تمام کر دیا اور وہ اس شخص سے نا امید ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد جہاز منزل پر پہنچ گیا دونوں جہاز سے اترنے کے لیے کھڑے ہوئے امیتابھ نے آخری وار کرتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ میرا نام امیتابھ بچن ہے اس نے امیتابھ کے ہاتھ کو رسمی جھٹکا دیتے ہوئے کہا کہ I am J.R.D Tata آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ یہ ٹاٹا گروپ کا چیئرمین اور اس وقت انڈیا کا امیر ترین شخص تھا جو باوجود امیتابھ کی سر توڑ کوشش کے اسے لفٹ کرانے کے لیے یا اس سے متاثر ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔

یہ سٹوری امیتابھ نے اپنے ایک ٹی وی شو میں آپ بیتی کے طو رپر سنائی تھی اور اس نے کہا کہ میں نے زندگی بھر کے تجربے سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عاجزی اختیار کریں۔ آپ کو نہیں پتہ کہ جس بندے سے آپ مخاطب ہیں وہ مرتبے میں آپ سے کتنا بڑا ہے۔ آپ کا علم اور معلومات آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے مگر آپ کا Humble ہونا آپ کو کبھی دھوکہ نہیں دے گا۔ آج کل پڑوسی ملک انڈیا میں ایک شادی کے بہت چرچے ہیں اور دنیا بھر میں اس شادی کی تیاریوں کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ اس وقت ہندوستان کے امیر ترین تاجر مکیش امبانی کے بیٹے آننت امبانی کی رادھیکا مرچنٹ کے ساتھ شادی ایک ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے جا رہی ہے۔ اس شادی کی رسومات پر 2000 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اس سے پہلے کرکٹر ویرات کوہلی کو شادی پر جب 100 کروڑ انڈین روپے خرچ کیے جانے کا ریکارڈ تھا امبانی فیملی اس ریکارڈ سے 1900 کروڑ روپے زیادہ کر خرچ کرنے جا رہی ہے۔
اس شادی میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، دنیا کے امیر ترین ارب پتی ایلن مسک کے علاوہ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ، مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس اور دیگر کھرب پتی بطور مہمان شرکت کریں گے۔ انڈین میڈیا نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ مکیش امبانی کی دولت پاکستان کی مجموعی GDP سے زیادہ ہے بہرحال کہا جا رہا ہے کہ دنیا بھر کے ارب اور کھرب پتی کاروباری شخصیات کو انڈیا بلانے کا مقصد دعوت ولیمہ نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد انڈیا کی مارکیٹ اکانومی کو دنیا بھر کے کاروباری طبقوں کے لیے پیش کرنا ہے تا کہ انڈیا کو اس سے فائدہ ہو سکے۔ اس وقت پاکستان کی معاشی شرح نمو جو کہ اس سال دو فیصد سے نیچے رہنے کا خطرہ ہے اس کا موازنہ آپ انڈیا سے کریں تو نریندر مودی کے عہد حکومت میں انڈیا کی سالانہ شرح نمو 8.6 فیصد کا حساب لگایا گیا ہے۔ ورلڈ بینک نے جہاں کئی ممالک میں غربت میں کمی کی نشاندہی کی ہے وہاں پاکستان کا معاملہ دنیا سے مختلف ہے۔ سالہا سال کی غلط طرز حکمرانی کی وجہ سے اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ملک میں معاشی، آئینی، سکیورٹی، ماحولیاتی اور کئی دیگر بحران جنم لینے کے کنارے پر ہیں ان حالات میں یہاں نئی حکومت کے لیے ناقابل عبور دریا بہہ رہے ہیں ایسے دریا جن پر کوئی پل نہیں بنایا گیا یہ ایک دور حکومت یا ایک سیاسی پارٹی کی نہیں 75 سال کی کارکردگی کا حاصل ہے اور لاحاصل ہے۔

آئی ایم ایف نے حکومت کو کہا ہے کہ پٹرول پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگائیں جس سے پٹرول کی قیمت میں 50 روپے لٹر سے زیادہ کا ایک اور جمپ لگے گا۔ اسی طرح 1300 بلین روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا منصوبہ ٹیبل پر پڑا ہے جب تک یہ شروع نہیں ہو گا آئی ایم ایف سے مزید پیسہ نہیں ملے گا اور اگر نہیں ملے گا تو ہمارے پاس پٹرول خریدنے کے پیسے نہیں ہوں گے۔ انڈیا اور بنگلہ دیش دونوں ممالک کا کلچر پاکستان جیسا ہی ہے وہاں بھی کرپشن اور بے ایمانی ہے لیکن اس کے باوجود وہ دونوں معاشی ترقی کے میدان میں پاکستان سے بہت آگے جا چکے ہیں جبکہ ہماری حکمرانی کا سارا زور اس بات پر ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید ترقی دی جائے اور غریبوں کے حصے کی امداد کو چوری ہونے سے روکا جائے۔

مکیش امبانی کے بیٹے کی شادی پر فیس بک پر طنز یہ کہا جا رہا ہے کہ اتنا پیسہ شادی پر ضائع کرنے کے بجائے ہمیں دے دیں تو ہماری بھوک مٹ جائے گی۔ میں کہتا ہوں کہ مکیش امبانی کو چاہیے کہ جہاں دنیا بھر کے امراء کو انڈیا میں دعوت دی جا رہی ہے پاکستان کے سیاستدانوں کو بھی اپنے ہاں مدعو کریں اور انہیں بتائیں کہ انڈیا میں کرپشن کے باوجود ان کا ملک کیسے ترقی کر رہا ہے۔

The post انڈیا: کرپشن کے باوجود بلند ترین شرح نمو appeared first on Naibaat.