Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟

عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟ آج نو مئی کے روز جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاوسز اور شہدا کی یادگاروں پر افسوسناک اور شرمناک حملوں کے ایک برس...

عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟

آج نو مئی کے روز جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاوسز اور شہدا کی یادگاروں پر افسوسناک اور شرمناک حملوں کے ایک برس بیتنے کے بعدہمیں جس فکری مغالطے اور دانشورانہ گمراہی کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کا بانی سربراہ اینٹی اسٹیبلمشنٹ ہے اور یہ کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندگی اور اقتدار اعلیٰ کا سب سے بڑا مظہر بھی۔ دلیل یہ ہے کہ وہ ملک کی فوجی قیادت کے خلاف ہی بول نہیں رہے بلکہ ان کے جانثاروں نے ایک برس پہلے بہت ساری فوجی تنصیبات کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بھی کوشش کی تھی۔ اگر ہم ایک قومی سیاسی رہنما ہونے کے تقاضے نظرانداز کرتے ہوئے عمران خان کے اس کردار کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی دلیل مان لیں تو ایسی خواہش رکھنے والی بھارتی فوج کو بھی یہاں اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہا جا سکتا ہے، نہیں، وہ پاکستان کی دشمن کہلائے گی۔ یہاں جوابی دلیل یہ ہے کہ عمران خان کو پاکستان کے عوام اور ووٹروں کی نمایاں تعداد کی حمایت حاصل ہے مگر یہ دلیل بھی حقائق کے آئینے میں درست نہیں۔ کچھ وضاحت ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر اپنی پریس کانفرنس میں کرچکے اور کچھ یہ ہے کہ اگر مکہ کے سو فیصد لوگ بھی حق اور سچ کے خلاف تھے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا حق، حق اور سچ، سچ نہیں رہا تھا۔

ہمیں سب سے پہلے اس تعریف پر متفق ہوناپڑے گا کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کون ہوتا ہے۔ یہ پہچان صرف اس رہنما یا پارٹی کی ہو سکتی ہے جو سیاست سے فوج سمیت مقتدر حلقوں کے کردار کو کم کرنا چاہے۔ اب اگر کوئی فوج کا مخالف ہو مگر عملی طور پر وہ فوج کا کردار بڑھا رہا ہو تو اسے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہنا فکری اور نظریاتی دھوکے کے مترادف ہے۔ بات کو سمجھنے کے لئے جماعت اسلامی کے دوستوں سے معذرت کے ساتھ ایک لطیفہ نما بات دہرانے دیجئے، کسی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ایک سابق امیرامریکا کے ایجنٹ تھے، کسی دوسرے نے پوچھا مگر وہ تو امریکا کے خلاف سخت باتیں کرتے ہیں تو جواب ملا، ان کے پاس اسائنمنٹ ہی یہی تھی۔ میں موجود ہ قیادت کے حوالے سے یہ نہیں کہتا کہ عمران خان کے پاس کوئی اسائنمنٹ موجود ہے مگر وہ سیاست میں فوج کی مداخلت کو بڑھانے کے چیف ایجنٹ ضرور تھے اور اب بھی ہیں۔ دلچسپ امریہ ہے کہ پہلے وہ یہ کام بظاہر فوج کے حامی اور ساتھی ہو کے کر رہے تھے اور اب اس کے مخالف ہو کے۔ کام بظاہر ایک دوسرے مخالف ہیں مگر ہر دو صورت نتیجہ ایک ہی ہے۔

عمران خان سیاست میں اس وقت معروف اور مقبول ہوئے جب جنرل شجاع پاشا، جنرل ظہیرالاسلام اور جنرل فیض حمید نے تسلسل کے ساتھ ان کی سرپرستی کی۔ اس سے پہلے ایک، ایک مارشل لا کی مار کھانے والی دونوں بڑی جماعتیں میثاق جمہوریت کرچکی تھیں۔ یہ میثاق جمہوریت اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے نکالنے کی سب سے بڑی کوشش تھی اور وہ دستاویز جمہوری حلقوں کے مطابق آئین کے بعد سب سے مقدس۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی آئین اور جمہوریت کے لئے کارکردگی بے عیب تھی کہ بیچ میں این آر آو بھی آیا تھا اور ایک اپوزیشن لیڈر، وزیراعظم کو نکلوانے کے لئے عدالت میں بھی گیا تھا مگر بہرحال وہ سم تھِنگ تھا جو نوتھِنگ سے بہت بہتر تھا۔ایسے میں عمران خان اِن ہوئے اور انہوں نے فوج کو ایک مرتبہ پھر سیاست میں آلودہ کر دیا۔ اس وقت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے سیاستدانوں اور عدالتوں کو پیغامات اورمداخلت کوئی ڈھکی چھپی شے نہیں تھی۔ پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد عمران خان کے ذریعے فوج مکمل طو ر سیاست میں داخل ہوچکی تھی۔ ان کے ساتھ مل کے مارچ اور دھرنے ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ سوشل میڈیا سیٹ اپ بھی بنتے تھے تاہم سماجی کے ساتھ ساتھ معاشی تباہی نے مقتدر حلقوں کی آنکھیں کھولیں۔ فوج نے بریگیڈئیر لیول پر مشاورت کرتے ہوئے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ اپنے آئینی کردار تک محدود رہے گی۔ سیاستدان اپنا کام خود کریں گے۔ جب عمران خان کے اوپر سے فوجی چھتری ختم ہوئی تونہ ان کا سیاسی ویژن تھا اور نہ ہی کوئی رواداری وغیرہ۔ ان کے اتحادی فوری طور پر ایسے بھاگے جیسے کوئی رسی ٹوٹنے پر بھاگتا ہے۔ عمران خان نے حکومت ہی نہیں کھوئی بلکہ ہوش و حواس بھی کھو بیٹھے۔ انہوں نے پارلیمانی کردارادا کرنے سے انکار کر دیا۔ اسلام آباد سے لاہور تک آگ لگائی گئی اور پھر نو مئی برپا کر دیا۔

اب دلیل یہ ہے کہ انہوں نے نو مئی برپا کیا سو وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نو مئی نے ایک مرتبہ پھر فوج کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے قومی کردار کے تحفظ کے لئے سامنے آئے۔ کوئی بھی فوج اپنے عوام اور اپنی زمین سے کٹ کر نہیں رہ سکتی۔ عمران خان فوج کا رشتہ اس کے عوام اور دھرتی سے توڑ رہے تھے۔ وہ بھارت میں جشن برپا کروا رہے تھے۔ وہ خود کو خمینی اور اردگان سمجھ رہے تھے ۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر آپریشنل کمانڈرز کی سطح پر ہونے والے فیصلے کے مطابق فوج غیر جانبدار نہ رہتی، ماضی کی طرح کا ردعمل دیتی تو عمران خان نے ملک میں ایک اور مارشل لا کی راہ ہموار کر دی تھی مگر خدا کا شکر ہے کہ فوج سو فیصد پروفیشنل اوروژنری قیادت کے پاس تھی سو اس نے ایک میچور رسپانس دیا اور آج ایک برس بعد بھی وہ خود پر حملہ کرنے والوں کو سزائیں دینے کے لئے دہائی دے رہی ہے ورنہ کیا افواج پر حملوں کا جواب آئینی اور قانونی ہوا کرتا ہے، کیا امریکہ سے برطانیہ اور فرانس تک فسادیوں اور شرپسندوں کو اسی طرح جواب دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ فوج کے غیر سیاسی ہونے کے فیصلے کے بعدوہ سیاسی امور میں ڈسکس ہونا بند ہوجاتی مگر نومئی کی ناکام بغاوت نے فوج کو مکمل طورپر دوبارہ ’اِن‘ کر دیا۔ میرے تھیسز کی تائید ان کی موجودہ حکمت عملی بھی کرے گی جس میں وہ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں سے بات کرنے کے آپشن کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ صرف آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی سے ہی مذاکرات کریں گے۔ اس سے ظاہر ہوجاتاہے کہ ان کا ایجنڈا فوج کو سیاست سے باہر رکھنے ہرگز، ہرگز نہیں ہے اور اسی بنیاد پر انہیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ وہ کب اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو محدود ، کم یا ختم کر رہے ہیں؟

المیہ یہ ہے کہ فکری مغالطے پیدا کئے جاتے ہیں اور دانشورانہ گمراہیوں سے قوم کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو امریکا کے خلاف نعرے لگاتے ہیں مگر پاکستان کی واحد سیاسی جماعت بنتے ہیں جو وہاں ریاست کے خلاف لابنگ فرمزہائر کرتی ہے۔ یہ گڈ گورننس کے نعرے بھی لگاتے ہیں مگر اختیار ملنے پر اقتدار بزداروں اور گنڈا پوروں کے حوالے کرتے ہیں۔ اخلاقیات اور مذہب کے تو حوالے ہی رہنے دیجیے۔ تضادات کا یہی معاملہ ان کے فوج کے مخالف ہونے میں ہے۔انہوں نے مقتدر حلقوں کا کم ہوتا کردار پھر بڑھا دیا ہے۔ عملی طور پر باقی پوری قوم کو ’پرو اسٹیبلشمنٹ‘ کر دیا ہے۔

The post عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟ appeared first on Naibaat.