Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

ایک اور تعلیمی ایمرجنسی ؟؟؟

ایک اور تعلیمی ایمرجنسی ؟؟؟ وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں چار برس کے لئے تعلیمی ایمر جنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اسلام آباد م...

ایک اور تعلیمی ایمرجنسی ؟؟؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں چار برس کے لئے تعلیمی ایمر جنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اسلام آباد میں برپا ایک تعلیمی کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔ تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد تعلیم کی صورتحال میں بہتری لانا اور خاص طور پر ان 2 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانا ہے جو اب تک اسکول میں داخلہ لینے سے محروم ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ اس سارے عمل کی خود نگرانی کریں گے۔ وہ اس سلسلے میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے بھی بات کریں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ اعلان خوش آئند سہی، تاہم نیا ہرگز نہیں ہے۔ماضی میں بھی مختلف حکومتوں کی جانب سے اس قسم کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ میری یاداشت کے مطابق تعلیمی ایمرجنسی کی اصطلاع بھی پہلے استعمال ہوچکی ہے۔ماضی میں بر سر اقتدار رہنے والے وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار تعلیمی صورتحال کے بارے میں گہری تشویش اور دردمندی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اصلاح احوال کی غرض سے یقینا کچھ نہ کچھ عملی کاوشیں بھی کی گئیں۔ تاہم کچھ ایسا نہیں ہوا، جس سے کوئی قابل ذکر تبدیلی دکھائی دیتی۔ بڑی تبدیلی آئی ہوتی تو آج اسکول میں داخلہ لینے کی عمر کے ہمارے دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے اسکول کی شکل تک دیکھنے سے محروم نہ ہوتے۔ تبدیلی آئی ہوتی تو ہمارے سرکاری اسکولوں میں ہزاروں اساتذہ کی آسامیاں طویل عرصے سے خالی نہ پڑی ہوتیں۔ تبدیلی آئی ہوتی تو امتحانات کے دوران پرچے دھڑا دھڑ لیک ہونے اور سر عام نقل کے واقعات معمول نہ بن گئے ہوتے۔ تبدیلی آئی ہوتی تو ہمارے سینکڑوں سرکاری اسکول چار دیواری، ٹائلٹوں، پینے کے صاف پانی وغیرہ سے محروم نہ ہوتے۔ تبدیلی آئی ہوتی تو سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم میں کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آچکی ہوتی۔ تبدیلی آئی ہوتی تو 70 برس گزرنے کے بعد بھی ہماری حکومتیں پرائمری تعلیم کا سو فیصد ہدف حاصل کرنے کیلئے کوشاں نہ ہوتیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ صورتحال اس وجہ سے ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کے شعبہ میں آج تک کوئی انقلاب، کوئی قابل ذکر تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔

یہاں درجنوں تعلیمی پروگرام بنتے اور چلتے رہے ہیں۔ ایک زمانے میں پڑھا لکھا پنجاب پروگرام شروع ہو ا تھا۔ پھر ہم نے دانش اسکولوں کا چرچا سنا۔ بچوں کو اسکولوں میں دودھ کی فراہمی کا ایک پروگرام چلا۔ کہیں انرولمنٹ مہم چلی۔ کہیں فیس معافی کے پروگرام۔ کہیں سی۔ایم، پی۔ ایم وظائف کے پروگرام۔ یہ اور ایسے کئی تعلیمی پروگرام تشکیل پائے اور نافذ ہوئے۔ گاہے بگاہے کوئی تعلیمی پالیسی بھی بنتی رہی۔ اس سب کے باوجود مثبت نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے۔ اب ایک مرتبہ پھر تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ ہونے جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس اعلان سے کیا فرق پڑے گا؟ کیا اس ضمن میں کوئی حکمت عملی وضع کی گئی ہے؟

ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم بے سمتی کا شکار ہیں۔ٹھک کر کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔دوسری مصیبت یہ ہے کہ ہر معاملے کو سیاست کی نگاہ سے دیکھنے کا چلن عام ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں کو ہدف بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی پالیسیوں اور منصوبوں کو بھی سیاسی انتقام کی نذر کر دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں حکومتیں جب کسی معاملے پر پالیسی سازی یا منصوبہ بندی کرتی ہیں تو اس معاملے کے تمام پہلووں پر غور و حوض کیا جاتا ہے۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد جب کوئی پالیسی بن جاتی ہے یا کوئی منصوبہ شروع ہو جاتا ہے تو آتی جاتی حکومتیں اس کے تسلسل پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ ہمارے ہاں معاملہ مختلف ہے۔ یہاں بہت سے اچھے اور مفاد عامہ کے منصوبے سیاسی مخالفت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایک حکومت اپنے سیاسی مخالف کی حکومت کے منصوبے کو پروان چڑھانے یا اسے آگے بڑھانے کے بجائے، ایک نئے منصوبے کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ تاکہ اپنے نام کی تختی (اور نمبر) ٹانک سکے۔ طویل المدت منصوبہ بندی اور سر پرستی سے محرومی کے باعث معاملات آگے نہیں بڑھتے۔ تعلیم کے معاملے میں بھی یہی ہوتا رہا ہے۔ اسکول ایجوکیشن سے متعلق کوئی ایک منصوبہ یا پالیسی بتائیے، جو گزشتہ دس پندرہ سال سے جاری ہو۔ کم از کم مجھے ایسے کسی منصوبے کا علم نہیں ہے۔

ہمارے ہاں معصوم عوام کی نگاہوں میں دھول جھونکنے کی غرض سے بھی بلند آہنگ وعدے اور دعوے کئے جاتے ہیں۔ عوام کی تسلی تشفی کے لئے رنگ برنگی پالیسیوں کا اعلان بھی ہوتا ہے۔ ماضی قریب کی مثال لے لیجئے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے یکساں نظام تعلیم کے نفاذ کا دعویٰ کیا تھا۔ پھر یہ اعلان یکساں نصاب تعلیم تک محدود ہو گیا۔ بھرپور طریقے سے اس پالیسی کی پبلسٹی مہم چلائی گئی۔ لیکن یکساں نصاب کا نفاذ نہیں ہو سکا۔ ہو بھی کیسے سکتا تھا۔ یہ نہایت مشکل کام تھا اور اب بھی ہے۔ ہمارے ہاں کئی طرح کے تعلیمی نظام موجود ہیں۔ ہر ایک کا اپنا الگ الگ نصاب ہے۔ ایک طرف سرکاری اسکول ہیں، جہاں غریب کا بچہ پڑھتا ہے۔ دوسری طرف اعلیٰ درجے کے انگریزی میڈیم پرائیویٹ اسکول، جو امیروں کے بچوں کے لئے مخصوص ہیں۔ اس کے علاوہ گلی محلے میں قائم درمیانے درجے کے انگریزی میڈیم سکول ہیں۔ پھر دینی مدارس ہیں۔ میری ناقص فہم کے مطابق دینی مدارس میں بھی مسلک کے حساب سے مختلف نصاب پڑھایا جاتا ہوگا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ یکساں نصاب تعلیم کے خوش کن اعلانات کے بارے میں اول روز سے بیشتر ماہرین تعلیم آگاہ تھے کہ یہ ناممکنات میں سے ہے۔ اس کے باوجود حکومتی بجٹ اور توانائی اس معاملے پر صرف کی گئی۔

اب شہباز شریف صاحب نے ایک ایمرجنسی یعنی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان کانوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ کرئے کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اس اعلان سے جڑے اہداف کا تعین کیسے ہو گا؟ اس ضمن میںکیا حکمت عملی وضع کی جائے گی؟ اس حکمت عملی کا نفاذ کون کرئے گا اور کیسے؟ وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے جس کے ذریعے چار سالوں میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچوں کو اسکولوں میں ہانک دیا جائے گا؟ وہ بچے جو اپنے گھر کا خرچہ چلانے کیلئے مزدوری کرتے ہیں، ان بچوں کا معاشی بوجھ کون اٹھائے گا؟ ان اڑھائی کروڑ بچوںکو اسکول بھجوانے کے لئے سینکڑوں، ہزاروں نہیں، شاید لاکھوں اسکول تعمیر کرنا پڑیں۔ ہمارے ہاں پہلے ہی ہزاروں اساتذہ کی کمی ہے، اڑھائی کروڑ بچوں کے لئے ہزاروں اساتذہ کی خدمات درکار ہوں گی۔ یعنی بڑی تعداد میں نئی بھرتیاں کرنا پڑیں گی۔ اس سارے عمل کے لئے بھاری بھرکم بجٹ درکار ہو گا۔ فی الحال ہماری حالت یہ ہے کہ پاکستان خطے میں سب سے کم تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ شرمندگی کا مقام ہے کہ بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی کم۔ اڑھائی کروڑ بچوں کو تعلیم دینے کیلئے بجٹ کہاں سے مہیا ہو گا؟

یقیناً تعلیمی ایمرجنسی کے اہداف صرف طالبعلموں کی تعداد تک محدود نہیں ہو ں گے۔ ان میں معیار تعلیم میں بہتری لانا بھی شامل ہوگا۔ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا۔سکولوں میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروانا۔ اساتذہ کی تربیت یا ٹریننگ وغیرہ بھی اس ایمرجنسی کا حصہ ہوگا۔ کیا اس سب کی منصوبہ بندی ہو چکی ہے؟۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کے سپرد ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے وہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات کر یں گے۔ سیاسی صورتحال یہ ہے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ کسی سے بات کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہے۔ اس نے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ اس صورتحال میں کیا کوئی متفقہ حکمت عملی وضع کی جا سکتی ہے؟

میں وزیر اعظم کی تقریر مکمل طور پر نہیںسن سکی۔ لہٰذا لاعلم ہوں کہ آیا تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان محض اسکول ایجوکیشن تک محدود ہے یا پھر اس میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ بھی شامل ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بھی تعلیمی ایمرجنسی کی اشد ضرورت ہے۔ ملک بھر کی درجنوں جامعات کئی مہینوں سے مستقل وائس چانسلروں سے محروم ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ جامعات کا معیار تعلیم رو بہ زوال ہے۔ ہمارے اساتذہ کی ناقص تحقیق کے قصے عالمی سطح پر شہرت حاصل کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی ایک غیر ملکی جریدے کی خبر میری نگاہ سے گزری کہ دنیا بھر میں جعلی سائنسی (اور تحقیقی) مضامین کی اشاعت میں پاکستانی محققین دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ صورتحال افسوسناک ہے اور شرمناک بھی ۔ بس اللہ پاک ہمارے شعبہ تعلیم پر رحم فرمائے۔آمین۔

The post ایک اور تعلیمی ایمرجنسی ؟؟؟ appeared first on Naibaat.