
قلعہ سوبھا سنگھ (احمد آباد): سکھ عہد کی فصیل، قلعہ اور تاریخی ریلوے جنکشن
اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔
پنجاب
سیالکوٹ
تاریخ
پنجابلڑکوں اور لڑکیوں کے خوبصورت نام
تھانہ، ہسپتال، ریسکیو 1122
سبزی، پھل، مرغی، گوشت و اجناس
کس کے نام پر کتنی پراپرٹی ہے اب گھر بیٹھے آئی ڈی کارڈ نمبر سے پتا لگایا جاسکتا۔
اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔
پنجاب میں گھر بیٹھے غلط ای چالان ریویو کرنے کی سہولت متعارف کروادی۔
"اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن کسی پر بغیر ثبوت کرپشن کے سنگین الزامات لگانا اظہارِ رائے کی آزادی نہیں۔ سالک حسین نے خود تسلیم کیا کہ ان کے پاس کرپشن کے الزامات کے ٹھوس شواہد موجود نہیں، لہٰذا اب انہیں...
خواتین کیلئے فری سکوٹی اور بائیک ٹریننگ۔
وزیراعظم یوتھ انٹرن شپ (PKR 40K)، او جی ڈی سی ایل (PKR 45K)، اسٹیٹ بینک سمیت فل برائٹ، شیوننگ اور کاؤسٹ کے مصدقہ مواقع
پسرور کے حسن میں ایک اور خوبصورت اضافہ!
پسرور کی خوبصورتی، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری! 🌱🌸
8 ستمبر سے 22 ستمبر 1965ء تک لڑی جانے والی تاریخ ساز جنگ، جس میں پسرور کے قصبے چونڈہ میں پاکستان کے 135 ٹینکوں نے بھارت کے 600 ٹینکوں کے غرور کو خاک میں ملا کر اسے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔
پاکپتن : دکانوں اور ہوٹلوں پر مردہ جانوروں کے گوشت کی سپلائی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 7 من مردہ گوشت برآمد کرلیا گیا۔
پرانی حلقہ بندیوں کی قانونی حیثیت کا تعین کیے بغیر الیکشن نہیں کرایا جا سکتا، درخواست گزار۔
اسلام آباد : نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ترجمان نے انتقال کر جانے والے شہری کے یوسی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر شناختی کارڈ منسوخ ہونے سے متعلق اہم وضاحت جاری کردی۔
اسلام آباد (4 نومبر 2026): آئی ٹی گریجویٹس اور پیشہ ور افراد کیلیے ’وزیر اعظم آئی ٹی سرٹیفیکیشن ری ایمبرسمنٹ پروگرام‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا، جس میں رجسٹریشن کا طریقہ کار انتہائی آسان۔
باوقار اشتہارات کے لیے رابطہ کریں: [email protected]
تزکِ بابری سے شہزادہ داراشکوہ، برطانوی گزٹیرز، معرکۂ چونڈہ 1965ء اور 1947ء کے بٹوارے تک — تحصیل پسرور و گردونواح کے مستند تاریخی مقالے

اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔

8 ستمبر سے 22 ستمبر 1965ء تک لڑی جانے والی تاریخ ساز جنگ، جس میں پسرور کے قصبے چونڈہ میں پاکستان کے 135 ٹینکوں نے بھارت کے 600 ٹینکوں کے غرور کو خاک میں ملا کر اسے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔

تحصیل پسرور کے اہم ترین تاریخی قصبے قلعہ سوبھا سنگھ کی بنیاد، بھنگی سردار کا تاریخی قلعہ، اناج منڈی اور احمد آباد نام رکھے جانے کے مکمل تاریخی حقائق۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کی تزکِ بابری سے لے کر آئینِ اکبری اور ڈسٹرکٹ گزیٹیئر آف سیالکوٹ تک، پسرور کے تاریخی قلعے، شاہی تالاب اور تجارتی راستوں کے ناقابلِ تردید شواہد۔

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزیٹیئر 1883ء، ایڈورڈ پرنسپ کی بندوبست رپورٹ 1865ء اور برطانوی سرکاری دستاویزات میں تحصیل پسرور کی انتظامی تشکیل، ریلوے، زراعت اور بلدیاتی تاریخ کے نایاب اور مستند حقائق۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں پسرور کے کمہاروں کے بنے ہوئے باریک مٹی کے برتن، صراحیاں اور دیئے جن کی نفاست برصغیر اور لاہور کے شاہی محلات میں سراہی جاتی تھی۔

مغل اور سکھ ادوار میں تعمیر شدہ قلعہ کالروالہ کی فصیلوں، تاریخی درباروں اور تزویراتی حیثیت کا مستند جائزہ جو شاہی لشکروں کا محفوظ مورچہ رہا۔

1850ء کی دہائی میں قائم ہونے والے کلاسوالہ کے تاریخی مشن ہائی اسکول کی داستان، جس نے برصغیر کے نامور جج، ادیب، سیاستدان اور دانشور پیدا کیے۔

مقبوضہ جموں کے پہاڑوں سے نکل کر پسرور کے درجنوں دیہات کو سیراب کرنے والے تاریخی نالہ ڈیک کی جغرافیائی اور زرعی تاریخ جس نے پسرور کو باسمتی چاول کا عالمی تاج بخشا۔

اٹھارویں صدی کے آخری عشرے میں سردار سوبھا سنگھ کنہیا کے تعمیر کردہ تاریخی قلعے اور 1915ء کے برطانوی ریلوے جنکشن کی مستند تاریخی داستان۔

8 ستمبر سے 22 ستمبر 1965ء تک لڑی جانے والی تاریخ ساز جنگ، جس میں پسرور کے قصبے چونڈہ میں پاکستان کے 135 ٹینکوں نے بھارت کے 600 ٹینکوں کے غرور کو خاک میں ملا کر اسے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔

تزکِ جہانگیری کے چودہویں سال کے احوال کے مطابق، مغل شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں نے کشمیر سفر کے دوران پسرور کے عظیم الشان پختہ تالاب پر پڑاؤ کیا اور اس کے فنِ تعمیر کو سراہا۔

تزکِ بابری کے مصدقہ اوراق کے مطابق شہنشاہ بابر نے دہلی فتح کرنے سے قبل پسرور اور سیالکوٹ کے زرخیز میدانوں میں شاہی پڑاؤ ڈالا اور یہاں کے قدرتی مناظر و شکارگاہوں کا تفصیلی احوال قلمبند کیا۔

تحصیل پسرور کے اہم ترین تاریخی قصبے قلعہ سوبھا سنگھ کی بنیاد، بھنگی سردار کا تاریخی قلعہ، اناج منڈی اور احمد آباد نام رکھے جانے کے مکمل تاریخی حقائق۔