بدھ، 21 اکتوبر 2026ء10 جمادی الاول، 1448 ہجریھ5 کاتک 2083 بکرمی
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
Physics
13 اکتوبر 2021Unknown

کوانٹم سے آگے (24) ۔ متوازی کائناتیں

مطالعہ کا وقت: تقریباً 6 منٹ (1019 الفاظ)


ہیو ایورٹ نے 1957 میں اپنا پی ایچ ڈی تھیسس لکھا۔ یہ بہت مختصر تھا۔ ایورٹ نے اس کے بعد ڈیفنس کی صنعت میں ملازمت کر لی۔ ان کا یہ پیپر فزکس میں ان کی واحد شرکت تھی۔ برسوں بعد اس نے توجہ حاصل کی۔ اس کے اثرات بڑے تھے۔ ڈی بروئے کے کے بعد شاید ہی کسی کا پی ایچ ڈی تھیسس فزکس کے فاونڈیشن کے حوالے سے اس قدر اہمیت رکھتا ہو۔   
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے ہم رک کر یہ دیکھتے ہیں کہ کوانٹم فزکس کی تشریح کے لئے ہمارے پاس کیا راستے ہیں؟
پہلا راستہ اینٹی رئیلزم کا ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہ سائنس ہمیں رئیلیٹی سے آگاہ نہیں کرتی۔ موجودہ فزکس میں یہ غالب مکتبہ فکر ہے۔
دوسرا راستہ رئیلزم کا ہے جس کی کچھ جھلک ہم پچھلی اقساط میں دیکھ آئے ہیں لیکن نوٹ کرنے کی چیز یہ ہے کہ اس کے لئے ہمیں تھیوری میں کچھ تبدیل یا اضافہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت اچھا ہو کہ اگر مستقبل میں تجربات ان میں سے کسی کی تصدیق کر سکیں۔ لیکن فرض کیجئے کہ بہت سالوں یا صدیوں بعد ہمارے پاس کوئی ایسا مشاہدہ نہیں ہوتا اور کوئی تجربہ اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ کوانٹم مکینکس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ یعنی کہ ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کوانٹم مکینکس اپنی اصل شکل میں مکمل ہے تو اس کا مطلب کیا ہو گا؟
یا تو رئیلزم کو الوداع کہہ دینا ہو گا یا پھر اس کا جو مطلب رہ جائے گا، ایوریٹ نے اپنے پیپر میں اس کا بتایا تھا۔ اس کو کوانٹم مکینکس کی مینی ورلڈز تشریح کہا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان گنت متوازی حقیقتوں میں سے ایک کا تجربہ کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوانٹم مکینکس کا مسئلہ کوانٹم سسٹم کا دوسرے رول کے مطابق ارتقا ہے، جس کی ہمارے پاس کوئی وضاحت نہیں۔ ایوریٹ کے پیشکردہ خیال میں دی گئی مفید انسائیٹ یہ تھی کہ اگر “دوسرا رول” نہیں ہے، تو پھر ویو فنکشن کولیپس نہیں ہوتا۔
اور اگر ویو فنکشن کولیپس نہیں ہوتا تو امکانات میں سے ہم کس کا مشاہدہ کریں گے؟
یہاں پر ایوریٹ رئیلیٹی کا ایک مختلف تصور دیتے ہیں۔ شروڈنگر نے اپنے سوچ کے تجربے میں کوانٹم سوئچ کے ساتھ بندھی بلی کی قسمت پر سوال کیا تھا کہ کیا بلی زندہ ہو گی یا مردہ؟
ایوریٹ کہتے ہیں کہ “دونوں”۔ ہم حقیقت کی صرف ایک شاخ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جب ہم نئے تجربہ کیا تو کائنات متوازی کائناتوں میں تقسیم ہو گئی۔ ہر متوازی کائنات ممکنہ آوٹ پٹ کی ایک شاخ ہے۔ اور ہم خود بھی ان دونوں میں ہیں۔
ایورٹین کوانٹم مکینکس میں پارٹیکل نہیں۔ اس میں ایک شاخ کو دوسری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شاخ حقیقت ہے۔ تو پھر اگر ایوریٹ درست ہیں تو میں اس وقت کراچ میں بھی ہوں، لندن میں بھی ہوں، ٹورنٹو میں بھی اور دوسری تمام جگہ جہاں پر ہو سکتا تھا۔ میرا طیارہ کریش ہو کر بحرِ اوقیانوس کی تہہ میں بھی ہے۔
یہ شاخیں دنیائیں کہلاتی ہیں۔ اور اس وجہ سے اس کو کوانٹم مکینکس کی many world interpretation کہا جاتا ہے۔
اور اس کو کام کرنے کے لئے یہ لازم ہے کہ ایک شاخ کے آبزرور کا دوسری شاخ سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایوریٹ کا پیپر سادہ تھا اور اس میں مسائل تھے۔ اس کو بہتر کیا گیا ہے۔ کائنات میں ہر وقت کوانٹم فیصلے ہو رہے ہیں۔ دو ایٹم ٹکرانے پر بھی۔ اور یہ فیصلے کائنات میں ہر جگہ پر ہو رہے ہیں۔ اس لئے ہر لحظہ ان گنت کائناتوں کی شاخیں وجود میں آ رہی ہیں۔
اس کو یقین کرنا فزکس کی ریاضی پر یقین کرنے کا بہت بھاری تقاضا کرتا ہے۔ اور اس وجہ سے اس کی قبولیت میں وقت لگا۔
ایورٹین کوانٹم مکینکس کے ساتھ کئی مسائل تھے۔ ان میں سے ایک مثال: اس تشریح میں ایک چیز جو غائب ہو جاتی ہے، وہ امکانات ہیں۔ ہر واقعہ جو رونما ہو سکتا ہے، وہ یقینی طور پر رونما ہو گا۔ اور اس سے ہم کوانٹم مکینکس کا اہم حصہ کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کا حل ایوریٹ نہیں نکال سکے تھے۔ یہ بعد میں پیش کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایوریٹ تھیوری نیچر آف رئیلیٹی کے بارے میں ایک ہائیپوتھیسس ہے۔ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی متوازی زندگیاں بسر کر رہا ہے۔ اور یہ تمام شاخیں اصل ہیں۔
اس پر جو اہم بہتری لائی گئی ہے، وہ یہ کہ تقسیم ہونے والی یہ شاخیں ان گنت نہیں بلکہ لامتناہی ہیں۔ ہر وقت میں حقیقت کی جو شاخ تقسیم ہوتی ہے، وہ بھی لامتناہی ہیں۔ پرابیبیلیٹی لامتناہی کی ریاضی سے برآمد ہوتی ہے۔
اس پر کام کرنے اور بڑھنے کے لئے کئی دلچسپ تجاویز سامنے آئی ہیں اور آکسورڈ اپروچ سے آگے بڑھنے کی توقعات ہیں لیکن ابھی ہم اس میں مزید گہرائی میں نہیں جاتے۔ خلاصہ یہ کہ اس سمت میں ساٹھ سال کی سٹڈی کے بعد ابھی اتفاق نہیں پایا جاتا کہ ایوریٹ کے چونکا دینے والے خیال کے ساتھ کیا کیا جائے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایوریٹ کے ہائپوتھیسس پر کام ہو رہا ہے اور اس کو ڈویلپ کرنے پر بہت محنت ہوئی ہے۔ تاہم، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس پر کیا جانے والا زیادہ کام ہماری دنیا پر نہیں بلکہ ان دنیاوں پر ہے جن کا ہم تجربہ نہیں کر سکتے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کی لامتناہی کاپیاں موجود ہیں۔ اگرچہ یہ سائنس فکشن لگتی ہے لیکن ایوریٹ کے ہائپوتھیسس کا لازمی نتیجہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں پر اہم نکتہ (جسے کئی بار سائنسدان بھی فراموش کر جاتے ہیں) یہ کہ ایک کام جو ہم نہیں کر سکتے، وہ کسی تشریح میں سے مرضی کے حصے کو اختیار کر کے باقی کو نظرانداز کرنا ہے۔ اگر ویو فنکشن کولیپس حقیقت نہیں اور کوانٹم مکینکس مکمل ہے اور سائنس کا تعلق رئیلیٹی سے ہے تو پھر ایورٹین مکینکس حقیقی ہے۔
کیا مینی ورلڈ تشریح کوانٹم مکینکس کی تشریح کی درست سمت ہے؟ اس کے مطابق کئی کائناتوں میں آپ ایورٹین مکینکس سے اتفاق رکھتے ہیں، کئی میں اختلاف جبکہ شاید زیادہ تر کائناتوں میں آپ اس کو پڑھتے ہی نہیں۔
(جاری ہے)

 


 

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

27 جنوری 2026•Mian Ashfaq

شہریوں کا پسرور میں اندرونِ شہر ون وے ٹریفک نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف ب...

3 فروری 2025•Mian Ashfaq

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان پسرور: گورنمنٹ آف پنجاب کے محکمہ ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ سکیم کے تحت قائم کردہ پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی موجودہ حالت...

26 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پسرور: دہائیوں پرانی پینے کے پانی کی پائپ لائن ناکارہ، شہری مضر صحت پانی کے باعث بیماریوں کا شکار

پسرور (نمائندہ خصوصی) پسرور میں دہائیوں پہلے نصب کی گئی پینے کے صاف پانی کی پائپ لائن مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے اور مرمت کے قابل بھی نہیں رہی۔ خراب پائپ لائن کی وجہ سے شہریوں کو...

14 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں اربوں ڈالر کے سونے کے ذخائر ملنے کا دعویٰ

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں 28 لاکھ تولہ سونے کے ذخائر موجود ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، ان ذخائر کی مالیت 800 ارب روپے یا 2 ارب 87 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق ...

13 جنوری 2025•Mian Ashfaq

محسن نقوی کی خواجہ آصف سے ملاقات، سیالکوٹ کے کرکٹ مسائل پر گفتگو

سیالکوٹ: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی آج سیالکوٹ میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کی رہائش گاہ پہنچے۔ سابق نگراں وزیر اطلاعات عامر میر اور سابق وزیر کھیل وہا...