بدھ، 21 اکتوبر 2026ء10 جمادی الاول، 1448 ہجریھ5 کاتک 2083 بکرمی
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
Pathfinders
3 ستمبر 2022Unknown

گولڈن ایج (20) ۔ البیرونی

گولڈن ایج (20) ۔ البیرونی
مطالعہ کا وقت: تقریباً 6 منٹ (937 الفاظ)


اگر نیچرل سائنس کی بات کی جائے تو اس میں البیرونی بہتر سائنسدان تھے۔ ان کا موقف تھا کہ محض سوچ اور منطق کے استعمال سے ارسطو کئی چیزوں میں غلط نتائج پر پہنچے تھے اور اس کا طریقہ تجربات اور مشاہدات ہونا چاہیے۔ اور اس طریقے سے انہوں نے فزکس اور آسٹرونومی میں اہم دریافتیں کیں۔ ان کی ریاضی کی مہارت بھی شاندار تھی۔
ان کی ریاضی کا ایک عملی استعمال “قبلے کے مسئلے” کے حل کیلئے نکلا تھا۔ جب بھی مسلمان دنیا میں نئی مسجد بنتی تھی تو اس کو سمت کے لئے قبلہ معلوم کرنا ہوتا تھا۔ یہ آسان کام نہیں تھا۔ کرہ زمین کی گولائی پر اس کی جیومیٹری پر البیرونی کے کام کا ثانی نہیں۔
انہوں نے 1031 میں جو ریاضی کی تکنیک اس کیلئے بنائی تھی، وہ پہلے موجود نہیں تھیں۔ پہلی بار ابتدائی کیلکولس استعمال کیا گیا تھا۔ اجرامِ فلکی کی حرکت اور اسراع کی مساوات تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
البیرونی کا ایک اور مشہور کام زمین کا سائز معلوم کرنے کا تھا۔ اور اس کیلئے انہوں نے پہاڑ کی اونچائی کو استعمال کیا تھا۔
یہ تجربہ انہوں نے موجودہ پاکستان میں سلسلہ کوہِ نمک کی پہاڑیوں میں نندنا قلعے کے مقام پر 1020 سے 1025 کے درمیان کیا۔
یہاں پر پنجاب کے چٹیل میدان کے درمیان اونچی پہاڑی ایسا تجربہ کرنے کی بہترین جگہ تھی۔ حدِ نگاہ تک میدان کا مطلب یہ تھا کہ پہاڑ کی چوٹی سے افق تک پیمائش آسانی سے کی جا سکتی تھی۔
اس کا پہلا قدم پہاڑ کے نیچے سے اونچائی کی ٹھیک پیمائش تھا۔ پھر پہاڑ کے اوپر سے آسٹرولوب کی مدد سے زاویوں کے معمولی فرق کی پیمائش اور سادہ ریاضی کی مدد سے زمین کا radius نکالا جا سکتا تھا۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔
البیرونی نے زمین کا محیط کتنا نکالا؟ کئی بار یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا فرق جدید ویلیو کے ایک فیصد سے بھی کم تھا لیکن یہاں پر اکائی کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے یہ ٹھیک نہیں بتایا جا سکتا۔ لیکن اہم اور اصل چیز یہ جواب نہیں بلکہ ان کے طریقے کا کمال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
البیرونی کے تمام کام کا ذکر تو نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک اور اہم شعبہ ان کا ارضیات کا کام تھا۔ انڈیا کے سفر میں انہوں نے صرف جغرافیہ، تاریخ اور کلچر کی ہی تفصیلی سٹڈی نہیں کی بلکہ جیولوجی کی بھی۔ انہوں نے معلوم کیا کہ برِصغیر کسی وقت میں سمندر تھا جو بعد میں خشکی بنا۔ اس کی وجہ وہ مٹی کا رفتہ رفتہ جمع ہونا لکھتے ہیں۔ وہ اس کا سمندر ہونے میں درست تھے۔ خشکی بننے کی اصل وجہ برِاعظموں کے سرکنا تھا لیکن اس تک پہنچنے میں ابھی نو صدیاں باقی تھیں۔     
اس کے زیرِ سمندر ہونے کا اندازہ انہوں نے پتھروں کی گولائی، کھدائی میں پتھروں کی خاصیت، تیز بہاؤ اور سست بہاؤ والے پتھروں کے مطالعے سے لگایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
دلچسپ چیز یہ کہ البیرونی کا کام قرونِ وسطیٰ میں یورپ تک نہیں پہنچا۔ (اور اس وجہ سے ان کے نام کو کبھی latinize نہیں کیا گیا)۔  یہ یورپ میں صدیوں بعد اس وقت پہنچا جب برٹش ہندوستان آئے۔ اور خاص طور پر انڈیا پر ان کی لکھی کتاب نے برٹش کی توجہ حاصل کی۔ ہندوستان پر لکھی ان کی تحریر کی خاص بات غیرجذباتی انداز میں حقائق لکھنا ہے۔ ایڈورڈ ساکو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، “تلواروں کی جھنکار، جلتے شہروں، لوٹ مار اور سیاست کے بیچ میں البیرونی کی غیرجانبداری اور سرد منطقی تحریریں خاموشی کا جادوئی جزیرہ ہیں”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
البیرونی کے بارے میں سوویت یونین میں 1974 میں ان پرفلم “ابو رے خان البیرونی” بنی۔ چاند پر ایک گھاٹی ان کے نام پر ہے۔ ایک شہابیہ (asteroid 9936) ان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اینٹارٹیکا براعظم میں البیرونی کے نام پر بیرونی آئی لینڈ پر رکھا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الرازی اور ابنِ سینا کے برعکس البیرونی ہمیں فکری طور پر قدامت پسند نظر آتے ہیں۔ کسی اچھے نیچرل سائنسدان کی طرح نظریاتی بحثوں سے دور رہتے تھے اور ان کی الرازی پر کی گئی تنقید ایسی بحث میں الجھنے پر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ابن الہیثم، ابنِ سینا اور البیرونی میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو یہ مشکل کام ہے۔ تاہم، مورخ جارج سارٹن اپنے کام “سائنس کی تاریخ کا تعارف” میں کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ تینوں ایک ہی دور میں تھے لیکن میں گیارہویں صدی کے پہلے نصف کو “البیرونی کا دور” کہوں گا۔
آخر میں البیرونی کا ایک منتخب قول، جو دنیا میں چند جگہوں پر آج بھی متعلقہ سمجھا جا سکتا ہے۔
“انتہاپسند کہتا ہے کہ سائنس مذہب سے دور لے جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ لوگوں کو گمراہ کرتی ہے۔ وہ سائنس سے نفرت کرتا ہے۔ وہ اسلئے صرف ایسا کہتا ہے کہ اپنی جہالت کو چھپا سکے۔ اس کی بات توجہ دینے کے قابل نہیں”۔
ایک اور جگہ پر کہتے ہیں۔
“ضدی نقاد کہتا ہیں کہ سائنس کا کیا فائدہ ہے؟ اس کو پتا نہیں کہ یہی تو ہمیں دوسرے جانوروں سے جدا کرتی ہے۔ اس کو حاصل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ خود میں ہی مزا ہے۔ ایسا مزا جو کسی اور کاوش میں نہیں۔ علم سے سچ کو آگے لایا جا سکتا ہے۔ برائی کو اور جھوٹ کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اور کیا فائدہ چاہیے؟ اس سے بڑا فائدہ بھی کچھ ہو سکتا ہے؟”  
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جذبات بڑے خوبصورت طریقے سے اسلامی گولڈن عہد کی سائنس کی روح کو الفاظ دیتے ہیں۔ اور البیرونی اس کے ایک بڑے وکیل تھے۔
(جاری ہے)

 


ساتھ لگی تصویر میں نندنا قلعہ کے کھنڈرات ہیں۔ پنڈ دادن خان میں یہ وہ جگہ تھی جہاں سے البیرونی نے دنیا کا سائز معلوم کیا تھا۔

 


 

 

متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

27 جنوری 2026•Mian Ashfaq

شہریوں کا پسرور میں اندرونِ شہر ون وے ٹریفک نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف ب...

3 فروری 2025•Mian Ashfaq

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان پسرور: گورنمنٹ آف پنجاب کے محکمہ ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ سکیم کے تحت قائم کردہ پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی موجودہ حالت...

26 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پسرور: دہائیوں پرانی پینے کے پانی کی پائپ لائن ناکارہ، شہری مضر صحت پانی کے باعث بیماریوں کا شکار

پسرور (نمائندہ خصوصی) پسرور میں دہائیوں پہلے نصب کی گئی پینے کے صاف پانی کی پائپ لائن مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے اور مرمت کے قابل بھی نہیں رہی۔ خراب پائپ لائن کی وجہ سے شہریوں کو...

14 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں اربوں ڈالر کے سونے کے ذخائر ملنے کا دعویٰ

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں 28 لاکھ تولہ سونے کے ذخائر موجود ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، ان ذخائر کی مالیت 800 ارب روپے یا 2 ارب 87 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق ...

13 جنوری 2025•Mian Ashfaq

محسن نقوی کی خواجہ آصف سے ملاقات، سیالکوٹ کے کرکٹ مسائل پر گفتگو

سیالکوٹ: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی آج سیالکوٹ میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کی رہائش گاہ پہنچے۔ سابق نگراں وزیر اطلاعات عامر میر اور سابق وزیر کھیل وہا...