بدھ، 21 اکتوبر 2026ء10 جمادی الاول، 1448 ہجریھ5 کاتک 2083 بکرمی
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
Prisoners of Geography
9 نومبر 2023Unknown

جغرافیہ کی طاقت (17) ۔ ایران ۔ جغرافیہ

جغرافیہ کی طاقت (17) ۔ ایران ۔ جغرافیہ
مطالعہ کا وقت: تقریباً 4 منٹ (693 الفاظ)


ایران کے دو جغرافیائی فیچر نمایاں ہیں۔ اس کے پہاڑ جو کہ اس کی سرحد پر ہالہ بناتے ہیں اور نمکین صحرا جو کہ اس کے اندرون میں ہیں۔ پہاڑ ایران کو قلعہ بنا دیتے ہیں۔ ان سے گزرنا مشکل ہے اور یہ دو ویران بنجر زمینوں کو گھیرتے ہیں۔ یہ دشت کویر اور دشت لوط ہیں۔
دشت کویر ۸۰۰ کلومیٹر لمبا اور ۳۲۰ کلومیٹر چوڑا ہے۔اس کی کئی جگہوں پر نمک کی تہہ کے نیچے گہری دلدل ہے۔ اس صحرا میں دلدل میں پھنس کر مر جانا بے وقوفی کہلائے گا۔ اور دشت لوط کا مطلب ہی ویران صحرا ہے۔
اس وجہ سے اس علاقے پر حملہ کرنا بہت عقلمندی نہیں۔ یہ ملک ہمیشہ خبروں میں ہوتا ہے اور مشرق وسطی کی اہم طاقت ہے۔  ایرانی تاریخ ایسی حملہ آور طاقتوں سے بھری پڑی ہے جن کی لاشیں اس کے پہاڑوں پر بکھری پڑی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ میں اس کا نام فارس یا پرشیا رہا ہے۔ اسکو ایران کا نام 1935 میں دیا گیا۔ ملک کی نسلی اقلیتوں میں چالیس فیصد فارسی نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے جغرافیے کو ہم کوہِ زاگروس سے شروع کرتے ہیں اور کلاک وائز چلتے ہیں۔ یہ ڈیڑھ ہزار کلومیٹر لمبے پہاڑ ہیں جو کہ آبنائے ہرمز سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ پہاڑ شمال میں ایران سے گزرتے ہیں جہاں یہ خلیج کے پار قطر اور سعودی عرب کا سامنا کرتا ہے۔ اس سے شمال میں شط العرب کی آبی گزرگاہ ہے جو عراق اور ترکی کی سرحد ہے۔ اس سے آگے چلیں تو شمال مشرق میں آرمینیا کی سرحد ہے۔ یہ پہاڑ دیوار کا کام کرتے ہیں جو مغرب کی سرحد کو محفوظ رکھتے ہیں۔ درمیان میں صرف شط العرب کا “دروازہ” ہے، جہاں عراق کی سرحد ہے۔ یہاں دریائے دجلہ اور فرات ملتے ہیں۔ ایرانی لیڈروں کیلئے یہ اس کا مین گیٹ رہا ہے۔ یہاں پر ایران کی طرف کا علاقہ دلدلی زمین ہے اور دفاعی لحاظ سے فائدہ دیتی ہے۔
جہاں پر زاگروس ختم ہوتے ہیں، وہاں سے البرز پہاڑ شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک بار پھر اگر گھڑی وار چلا جائے تو البرز آرمینیا کی سرحد سے جنوب کو موڑ کاٹے ہیں۔ یہاں پر بحیرہ کیسپین کے ساتھ چلتے ہیں جس کے ساتھ 650 کلومیٹر ساحل ہے اور 3000 میٹر بلند یہ پہاڑ اس سے کسی بھی مقام سو کلومیٹر سے زیادہ دور نہیں رہتے۔ مغرب کی طرف ہی شمال کی طرف سے حملہ آور کو بھی پہاڑ کی اس دیوار کا سامنا ہے۔ یہ پہاڑ پھر خم کھاتے ہیں اور ترکمانستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ چلتے ہیں۔ ان کی بلندی بتدریج کم ہوتی جاتی ہے اور یہ وسطی مکران رینج کے ساتھ ملتے ہیں اور یہ ہمیں واپس آبنائے ہرمز کی طرف لے آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے ایران پر حملہ کر کے قبضہ کرنا ہے تو دلدل پار کر کے، پہاڑوں کے اوپر سے صحرا میں سے ہوتے ہوئے آئیں یا پھر سمندر کی طرف سے لینڈ کریں اور پھر آگے بڑھیں۔
مجموعی طور پر اس کی زمین کسی بھی جارح کے لئے رکاوٹ ہے۔ اور اسے توڑنے کے لئے بھاری قیمت دینا پڑتی ہے۔ لیکن اس نے جارح قوتوں کو یہاں حملہ آور ہونے سے نہیں روکا۔ سکندراعظم نے کچھ علاقہ فتح کیا تھا لیکن جلد ہی فارس نے قبضہ واپس لے لیا۔ تیرہویں صدی میں منگول اور تیمور لنگ وسطی ایشیائی میدانوں سے آئے تھے۔ اور لاکھوں لوگ موت کے گھاٹ اتارے تھے۔ لیکن یہاں اتنا وقت نہیں گزارا کہ فارسی کلچر پر اثر چھوڑ سکیں۔ سولہویں صدی میں عثمانی چند بار کوہ زاگروس پار کر کے آئے لیکن زیادہ آگے نہیں آ سکے۔ روسیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ جبکہ برٹش کی حکمت عملی یہ رہی کہ یہاں کے اقلیتی گروپ سے تعاون خریدا جائے۔
دوسری طرف، یہی جغرافیہ ایران کی اپنی طاقت پر بھی قدغن عائد کرتا ہے۔ فارس کی سلطنت ان پہاڑوں سے اتر کر کئی بار باہر کی طرف پھیلی ہے لیکن اپنی تاریخ کا بڑا حصہ اسی علاقے تک محدود رہی ہے۔ اس کے پڑوس میں یونان، رومی، بازنطینی، عثمانی اور امریکی سپرپاورز کی آمد ہوتی رہی ہے اور یہ سب اپنے طریقے سے اس علاقے میں اندرونی مداخلت کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

(جاری ہے)




متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

27 جنوری 2026•Mian Ashfaq

شہریوں کا پسرور میں اندرونِ شہر ون وے ٹریفک نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف ب...

3 فروری 2025•Mian Ashfaq

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان پسرور: گورنمنٹ آف پنجاب کے محکمہ ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ سکیم کے تحت قائم کردہ پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی موجودہ حالت...

26 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پسرور: دہائیوں پرانی پینے کے پانی کی پائپ لائن ناکارہ، شہری مضر صحت پانی کے باعث بیماریوں کا شکار

پسرور (نمائندہ خصوصی) پسرور میں دہائیوں پہلے نصب کی گئی پینے کے صاف پانی کی پائپ لائن مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے اور مرمت کے قابل بھی نہیں رہی۔ خراب پائپ لائن کی وجہ سے شہریوں کو...

14 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں اربوں ڈالر کے سونے کے ذخائر ملنے کا دعویٰ

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں 28 لاکھ تولہ سونے کے ذخائر موجود ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، ان ذخائر کی مالیت 800 ارب روپے یا 2 ارب 87 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق ...

13 جنوری 2025•Mian Ashfaq

محسن نقوی کی خواجہ آصف سے ملاقات، سیالکوٹ کے کرکٹ مسائل پر گفتگو

سیالکوٹ: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی آج سیالکوٹ میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کی رہائش گاہ پہنچے۔ سابق نگراں وزیر اطلاعات عامر میر اور سابق وزیر کھیل وہا...