بدھ، 21 اکتوبر 2026ء10 جمادی الاول، 1448 ہجریھ5 کاتک 2083 بکرمی
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
Hidden Life of Trees
4 مارچ 2024Unknown

درختوں کی زندگی (43) ۔ جنگل ۔ سبزہ اور احساس

مطالعہ کا وقت: تقریباً 5 منٹ (759 الفاظ)


جانوروں کے مقابلے میں ہمیں پودوں کو سمجھنے میں اتنی دشواری کیوں ہوتی ہے؟ اس کی وجہ ارتقا کی تاریخ ہے۔ نباتات کا راستہ جلد الگ ہو گیا تھا۔ ہماری حسیات الگ طرح سے ڈویلپ ہوئی ہیں اور یہ وجہ ہے کہ پودوں کے اندر کی دنیا کی کیفیت ہمارے لئے بالکل اجنبی ہے۔
صاف نیلے آسمان کے نیچے درخت کا چمکدار سبز تاج ۔۔۔ ہمارے لئے رنگوں کا یہ امتزاج خوبصورت فطری منظر ہے۔ کیا درخت بھی اس سے اتفاق کریں گے؟
درختوں کی بیشتر انواع بھی اس نیلے آسمان کی چاہت رکھتی ہیں۔ یہ ان کے لئے پیغام ہے کہ “کھانا کھل گیا ہے”۔ مطلع صاف ہو اور روشن دن میں دھوپ میں نہایا ہوا درخت خوب مزے سے فوٹوسنتھیسس کر سکتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ، روشنی اور پانی سے شوگر، سیلولوز اور دیگر کاربوہائیڈریٹ بن سکتے ہیں۔
اس میں سبز رنگ کی الگ اہمیت ہے۔ لیکن اس طرف جانے سے پہلے ایک اور سوال؟ ہماری دنیا رنگوں سے بھری ہوئی کیوں ہے؟ دھوپ سفید ہے اور جب یہ منعکس ہوتی ہے تو بھی سفید ہوتی ہے۔ لیکن ہر میٹیریل روشنی کو الگ طریقے سے جذب کرتا ہے یا کسی اور طرح کی ریڈی ایشن میں بدلتا ہے۔ ہماری آنکھ تک صرف وہی ویولینتھ پہنچتی ہے جو باقی رہ جائے۔ اشیا اور جانداروں کے رنگوں کا تعلق اس سے ہے کہ کونسی روشنی منعکس ہو رہی ہے۔ اور درختوں کے پتوں کے معاملے میں، یہ رنگ سبز ہے۔
لیکن پتے سیاہ کیوں نہیں؟ یہ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ تمام روشنی جذب کر لیں؟ کلوروفل پتوں کو روشنی پراسس کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اگر درخت روشنی کو انتہائی ایفی شنٹ طریقے سے پراسس کر لیتے تو تمام روشنی جذب کر لیتے۔ جنگل دن کو بھی رات ہی کی طرح سیاہ اور تاریک ہوتا۔
لیکن کلوروفل میں ایک کمزوری ہے۔ اس کو green gap کہا جاتا ہے۔ یہ رنگ کے سپیکٹرم کا وہ حصہ ہے جسے یہ استعمال نہیں کر سکتی اور یہ بغیر استعمال ہوئے واپس پلٹ جاتی ہے۔ اس کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ والی فاضل روشنی دیکھ رہے ہیں اور اس وجہ سے ہمیں تقریبا تمام پودے سبز نظر آتے ہیں۔ ہمارے لئے خوبصورت، لیکن درختوں کے لئے بے کار۔ یہ روشنی درختوں کا کچرا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم پودے دیکھتے ہیں جن کے پتے سبز نہیں ہوتے۔ پارکوں میں لگے سرخ پتوں والے پودے زیبائش کے لئے لگائے جاتے ہیں کہ یہ سبز کے سمندر میں نمایاں ہوں۔
عام درختوں پر نئے پھوٹتے ہوئے پتے نازک ٹشو کو دھوپ کی الٹراوائلٹ شعاعوں سے بچانے کے لئے اینتھوسائنن استعمال کرتے ہیں۔ یہ سن بلاک کا کام کرتا ہے۔ جب پتہ بڑا ہوتا ہے تو یہ کیمیکل انزائم کی مدد سے توڑ لیا جاتا ہے اور سبز پتا نکل آتا ہے۔ کچھ درختوں میں میٹابولزم کے سبب یہ انزائم پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ یہ اپنے سن بلاک سے جان نہ چھڑا پاتے۔ اور اس وجہ سے ان کے پتے سرخ روشنی کو بھی منعکس کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ روشنی کا کچھ حصہ ضائع کر دیتے ہیں۔ ایسے درخت قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں لیکن خود کو بڑے پیمانے پر قائم نہیں کر پاتے۔ لیکن انسان کو منفرد چیزیں پسند ہیں۔ اور ہم ایسی ورائٹی کو پسند کر کے پھیلاتے ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ ہمارے باغوں میں یہ پائے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنیادی وجہ جس کے سبب ہم درختوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، یہ رفتار ہے۔ ان کے بچپن اور جوانی ہم سے دس گنا زیادہ دورانیے پر ہے۔ ان کی زندگی ہم سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ پتے کھولنا، نئی شاخ اگانا جیسی حرکات ہفتوں لے جاتی ہیں۔ اور ہم انہیں جامد وجود سمجھتے ہیں جو بس پتھروں سے ذرا ہی مختلف ہیں۔
اور جنگل میں جو آوازیں غالب ہیں، وہ ہوا پر پتوں کا سرسرانا یا ٹہنیوں کا چرچرانا ہیں۔ یہ درخت کی اپنی نہیں۔ اور یہ وجہ ہے کہ ان کو بس ایک “شے” سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن جو پراسس تنے کے اندر ہو رہے ہیں، وہ اس سے زیادہ تیز ہیں۔ مثلا، پانی اور غذا کی ٹرانسپورٹ ایک تہائی انچ فی سیکنڈ پر ہو رہی ہو گی۔
درختوں کے زندگی کے بارے میں یہ بصری سراب ہے اور اس میں حیرت کی بات نہیں۔ ہم اپنی بصارت پر انحصار کرتے ہیں۔  اور بصارت تیز حرکت کو نمایاں کرتی ہے۔
جانداروں میں بھی پرندوں اور ممالیہ کی بڑی انواع ہماری توجہ لیتی ہیں۔ خاموش اور شرمیلے باسی اوجھل رہتے ہیں۔ مٹی میں بسنے والی چھوٹی مخلوقات نظرانداز کر دیتے ہیں۔
(جاری ہے)





متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

27 جنوری 2026•Mian Ashfaq

شہریوں کا پسرور میں اندرونِ شہر ون وے ٹریفک نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف ب...

3 فروری 2025•Mian Ashfaq

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان پسرور: گورنمنٹ آف پنجاب کے محکمہ ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ سکیم کے تحت قائم کردہ پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی موجودہ حالت...

26 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پسرور: دہائیوں پرانی پینے کے پانی کی پائپ لائن ناکارہ، شہری مضر صحت پانی کے باعث بیماریوں کا شکار

پسرور (نمائندہ خصوصی) پسرور میں دہائیوں پہلے نصب کی گئی پینے کے صاف پانی کی پائپ لائن مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے اور مرمت کے قابل بھی نہیں رہی۔ خراب پائپ لائن کی وجہ سے شہریوں کو...

14 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں اربوں ڈالر کے سونے کے ذخائر ملنے کا دعویٰ

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں 28 لاکھ تولہ سونے کے ذخائر موجود ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، ان ذخائر کی مالیت 800 ارب روپے یا 2 ارب 87 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق ...

13 جنوری 2025•Mian Ashfaq

محسن نقوی کی خواجہ آصف سے ملاقات، سیالکوٹ کے کرکٹ مسائل پر گفتگو

سیالکوٹ: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی آج سیالکوٹ میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کی رہائش گاہ پہنچے۔ سابق نگراں وزیر اطلاعات عامر میر اور سابق وزیر کھیل وہا...