زمرہ: Indian History
دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا
دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ
کشمیر ۔ مستقبل (۳۸)
تاریخ کبھی جامد نہیں رہی۔ حالات جب بدلتے ہیں تو اچانک ہی بہت کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ کیا اور کس وجہ سے ہو گا۔ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد طاقتور سکھ سلطنت ...
کشمیر ۔ مذاکرات کا آخری دور (۳۷)
کارگل جنگ کے بعد پاکستان بھارت مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا۔ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد 2002 میں پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر تھے۔ لیکن 2004 میں واپس مذاکرات کی میز پر واپس آ چکے تھے۔ ...
کشمیر ۔ جنگیں (۳۶)
کشمیر کے تنازعے پر دوسری پاک بھارت جنگ جولائی 1965 میں آپریشن جبرالٹر سے شروع ہوئی۔ پاکستان نے 1000 سے 1200 تک کے نیم فوجی دستے انڈین کشمیر میں بھیجے۔ اس آپریشن کی پلاننگ بہت اچھ...
کشمیر ۔ چینی سرحد (۳۵)
چین انڈیا تعلقات 1954سے مشکلات کا شکار ہو گئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اکسائی چن کا علاقہ تھا جس پر دونوں کا دعویٰ تھا۔ دوسرا مسئلہ دیگر جگہوں پر سرحدی مسائل تھے۔ انڈیا نے تبت کو چین کا ...
کشمیر ۔ اقوامِ متحدہ کشمیر میں (۳۴)
مارچ 1950 میں اقوامِ متحدہ سیکورٹی کونسل نے آسٹریلین ہائی کورٹ کے مشہور جج سر اوون ڈکسن کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھیجا۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ انڈیا اور پاکستان کے مختلف اعتر...
کشمیر ۔ گلگت بلتستان (۳۳)
یہ بڑا علاقہ ہے جس کا دارلحکومت گلگت کا شہر ہے۔ یہاں کے شہری 1947 میں پروپاکستانی تھے۔ مہاراجہ کے انڈیا کے ساتھ الحاق کے خلاف گلگت سکاوٗٹس نے یہاں پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ اس...
کشمیر ۔ آزاد کشمیر کا نظام (۳۲)
آزاد کشمیر کے عبوری آئین کے شیڈول تھری کے تحت پاکستان کے پاس اہم معاملات کے اختیارات ہیں جبکہ نچلی سطح کے اختیارات آزاد کشمیر کے پاس ہیں۔ آزاد کشمیر کونسل کے چئیرمین پاکستان کے...
کشمیر ۔ پاکستانی کشمیر (۳۱)
ریاست کے پاکستان کی طرف آنے والے دو حصے سیاسی طور پر الگ رہے ہیں۔ یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں۔ ان حصوں کے درمیان ڈائریکٹ ٹرانسپورٹ نہیں۔ سوشل، کلچرل یا معاشی تعلقات نہیں۔ ...
کشمیر ۔ انڈین کشمیر (۳۰)
انڈیا کے کشمیریوں کے بارے میں بھروسہ نہ ہونے کی وجہ یہ رہی ہے کہ واضح طور پر بہت سے کشمیری 1947 میں پاکستان سے الحاق کے حق میں تھے۔ وادی میں 1988 میں چھڑنے والی بغاوت بھی واضح کرتی...
کشمیر ۔ موجودہ صورتحال (۲۹)
یکم جنوری 1949 کی جنگ بندی کے بعد ریاست پانچ الگ حصوں میں بٹ گئی۔ آزاد جموں و کشمیر، جموں، وادی کشمیر، لداخ اور شمالی علاقہ جات (جو اب گلگت بلتستان کہلاتے ہیں)۔ لائن آف کنٹرول اس...
کشمیر ۔ استصوابِ رائے (۲۸)
جب ہری سنگھ نے الحاق کیا تو اس کو تسلیم کرتے ساتھ ساتھ ہی انڈیا کی لیڈرشپ نے استصوابِ رائے کی بات شروع کر دی۔ اس کا آئیڈیا یہ تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام ووٹ دے کر فیصلہ کریں کہ و...
.jpeg)










