بدھ، 21 اکتوبر 2026ء10 جمادی الاول، 1448 ہجریھ5 کاتک 2083 بکرمی
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
Physics
29 ستمبر 2021Unknown

کوانٹم سے آگے (8) ۔ مکالمہ

کوانٹم سے آگے (8) ۔ مکالمہ
مطالعہ کا وقت: تقریباً 4 منٹ (616 الفاظ)


آئن سٹائن اور نیلز بوہر دوست تھے اور کوانٹم مکینکس کے بارے میں ان کی بحث چالیس سال سے زیادہ چلتی رہی۔ اور یہ بحث اب بھی ختم نہیں ہوئی۔ آئن سٹائن پہلے شخص تھے جنہوں نے ایٹم اور ریڈی ایشن کے بارے میں انقلابی نئی تھیوری کی ضرورت کا احساس کیا تھا لیکن ان کی نظر میں کوانٹم مکینکس اس کا جواب نہیں تھا۔ پہلے انہوں نے کہا کہ یہ بے ربط ہے۔ لیکن جب ان کا یہ آرگومنٹ ناکام ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ نیچر کی نامکمل تصویر پیش کرتی ہے اور اس تصویر کا اہم حصہ چھوڑ رہی ہے۔
غالباً، آئن سٹائن اس کو اس لئے قبول نہیں کر سکے کیونکہ انہیں سائنس سے بہت توقعات تھیں۔ انہیں یقین تھا کہ رئیلیٹی کی روح چند ریاضیاتی قوانین میں ہے جو وقت سے ماورا ہیں اور ان کی آرزو ان تک پہنچنے کی تھی۔ ان کی نظر میں سائنس اس کو پہچاننے کا طریقہ ہے اور حقیقت کی یہ روح ہم سے الگ آزادانہ طور پر وجود رکھتی ہے۔ اس کو ہمارے وجود، علم اور یقین سے فرق نہیں پڑتا۔
اور آئن سٹائن کو ایسا یقین رکھنے کا حق پہنچتا تھا۔ سپیشل تھیوری اور جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی جیسی شاندار دریافتوں کی کامیابی سمیٹنا اسی سمت کا سفر ہی تو تھا۔ اور اسی وجہ سے وہ ایٹم، الیکٹرون اور ریڈی ایشن کو بھی اسی طرز سے سمجھنا چاہتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوہر کا جواب تھا کہ ایٹامک فزکس کے لئے ہمیں سائنس کے اس تصور کو یکسر تبدیل کر دینے کی ضرورت ہے۔ رئیلیٹی اور رئیلیٹی کے بارے میں علم کے تصور کو بھی۔ ایسا کیوں؟ یہ اس لئے کہ ہم خود بھی دنیا کا جزو ہیں اور جس ایٹم کی وضاحت ہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمیں ان سے انٹرایکشن کرنا پڑتا ہے۔
بوہر کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ ہم فکر میں یہ انقلابی تبدیلی کو ذہن میں جذب کر لیں تو ہم سمجھ لیں گے کہ کوانٹم مکینکس اس پہلو سے بالکل مکمل ہے کہ اس سے زیادہ “مکمل تر” وضاحت نہیں کی جا سکتی، اور یہ ہمارے اس دنیا کا حصہ ہونے کی چکائی جانے والی قیمت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ہم بوہر کا یہ استدلال قبول کرنے سے انکار کریں اور رئیلیٹی کی کامن سینس والی پرانے فیشن کی فکر پر اور علم اور مشاہدے کے تعلق پر اصرار کریں اور خود سے الگ آزاد حقیقت پر تو پھر ہمیں ایک مختلف قسم کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
ہمیں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ہم نیچر کے بارے میں کس شے کے بارے میں غلط ہیں۔ آئن سٹائن کے 1935 میں لکھے ہوئے پیپر سے شروع ہونے والے تھیوریٹیکل اور پھر تجرباتی کام سے ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ یہ کیا ہے۔ ایسی کسی نئی وضاحت کو ایک عام مفروضے کو ترک کر دینا پڑے گا جس کے مطابق اشیا دوسری اشیا سے صرف اسی وقت تعامل کر سکتی ہیں جب وہ سپیس میں ان کے قریب ہوں۔
یہ locality کا مفروضہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا رئیلزم درست ہے یا اینٹی رئیلزم؟ ہمارے پاس اس کا فی الوقت جواب نہیں۔ لیکن سائنسی رئیلزم کو ترک کر دینا لازمی نہیں۔
حالیہ دہائیوں میں اس مسئلے کو سمجھنے کے بارے میں کچھ پیشرفت ہونا شروع ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ حل ہونے کے قریب تو بالکل نہیں لیکن کم از کم آغاز تو ہے۔ آج ہم آئن سٹائن کے وقت سے زیادہ فہم رکھتے ہیں اور اس بارے میں مسائل اور رکاوٹوں سے زیادہ بہتر آگاہ ہیں۔ اور بہت دلچسپ تجاویز اور ہائپوتھیسس سامنے رکھے گئے ہیں۔
اور ان کی وجہ سے یہ سوال ایک بار پھر سامنے آتا ہے کہ کیا آئن سٹائن کا رئیلزم کا ضدی یقین اور نامکمل انقلاب تکمیل تک پہنچ سکے گا؟
(جاری ہے)




متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

27 جنوری 2026•Mian Ashfaq

شہریوں کا پسرور میں اندرونِ شہر ون وے ٹریفک نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف ب...

3 فروری 2025•Mian Ashfaq

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان پسرور: گورنمنٹ آف پنجاب کے محکمہ ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ سکیم کے تحت قائم کردہ پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی موجودہ حالت...

26 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پسرور: دہائیوں پرانی پینے کے پانی کی پائپ لائن ناکارہ، شہری مضر صحت پانی کے باعث بیماریوں کا شکار

پسرور (نمائندہ خصوصی) پسرور میں دہائیوں پہلے نصب کی گئی پینے کے صاف پانی کی پائپ لائن مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے اور مرمت کے قابل بھی نہیں رہی۔ خراب پائپ لائن کی وجہ سے شہریوں کو...

14 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں اربوں ڈالر کے سونے کے ذخائر ملنے کا دعویٰ

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں 28 لاکھ تولہ سونے کے ذخائر موجود ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، ان ذخائر کی مالیت 800 ارب روپے یا 2 ارب 87 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق ...

13 جنوری 2025•Mian Ashfaq

محسن نقوی کی خواجہ آصف سے ملاقات، سیالکوٹ کے کرکٹ مسائل پر گفتگو

سیالکوٹ: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی آج سیالکوٹ میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کی رہائش گاہ پہنچے۔ سابق نگراں وزیر اطلاعات عامر میر اور سابق وزیر کھیل وہا...