بدھ، 21 اکتوبر 2026ء10 جمادی الاول، 1448 ہجریھ5 کاتک 2083 بکرمی
اپنا پسرور
اپنا پسرور
pasrur.pk
Cancer
26 نومبر 2021Unknown

کینسر (37) ۔ ہارمون تھراپی

مطالعہ کا وقت: تقریباً 5 منٹ (832 الفاظ)


ہگنز نے سوال کیا تھا کہ “کیا ٹیسٹوسٹرن کی کمی کینسر پروسٹیٹ کینسر کو ختم کر سکتی ہے”۔  اس وقت کے عام خیال کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے لئے انہوں نے کینسر والے کتوں کو خصی کیا۔  اس کا مطلب یہ کہ ان کے کینسر کے خلیات تک ٹیسٹوسٹرن نہیں پہنچے گا۔ چند ہی دنوں میں ٹیومر چلا گیا!!
اگر پروسٹیٹ کے عام خلیات کا انحصار اس ہارمون پر تھا تو کینسر والے خلیات تو اس کے دیوانے تھے۔ اس ہارمون کا چلے جانا ایک بہت ہی طاقتور علاج ثابت ہوا تھا۔
“لازمی نہیں کہ کینسر بالکل بے قابو اور آزاد ہی ہو۔ اس کے بڑھنے میں ہارمون کے فنکشن کا کردار بھی ہو سکتا ہے”۔ ہگنز نے لکھا۔
عام خلیات کی بڑھوتری اور کینسر کے بڑھنے کا تعلق اس سے کہیں قریبی تھا جتنا پہلے تصور کیا جاتا تھا۔ کینسر کو ہمارا اپنا جسم کھلا پلا سکتا اور پال سکتا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوش قسمتی سے، پروسٹیٹ کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے کا واحد طریقہ خصیوں کو نکال دینا ہی نہیں تھا۔ ہگنز نے کہا کہ اگر مردانہ ہارمون کو ختم کرنے کے بجائے کینسر کو دھوکا دیا جائے کہ یہ مادہ جسم ہے؟
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈورڈ ڈوزی ایک بائیوکیمسٹ تھے جنہوں نے 1929 میں حاملہ خواتین کا سینکڑوں گیلن پیشاب اکٹھا کر کے اس میں سے چند ملی گرام ہارمون کشید کیا تھا۔ یہ ایسٹروجن تھا۔ اس کے بعد اس ہارمون کو حاصل کرنے کی بہت طریقوں سے کوشش کی گئی تھی جس میں سے دو زیادہ کامیاب رہی تھیں۔ ایک سنتھیٹک طریقے سے بنی ڈرگ ڈی ای ایس تھی جبکہ دوسرا پریمارین تھی جس کو حاملہ گھوڑی سے حاصل کیا جاتا تھا۔ ان کو نسوانی بیماریوں کے علاج کے لئے مارکیٹ کیا جاتا تھا۔
ہگنز کو جو خیال سوجھا تھا وہ یہ کہ اس کو انجیکٹ کر کے کینسر کے مریضوں میں ٹیسٹوسٹیرن کی پیداوار روکی جا سکے۔ اس تھراپی نے کام کیا اور اس کے سائیڈ ایفیکٹ بھی معمولی تھے۔ اس سے پروسٹیٹ کینسر ٹھیک نہیں ہوا۔ یہ چند ماہ میں واپس آ جاتا تھا۔ لیکن یہ ثابت ہو گیا کہ ہارمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کینسر پر فرق ڈال سکتی ہے۔ کینسر کے علاج کے لئے بلاتخصیص سسپلاٹن یا نائیٹروجن مسٹرڈ جیسے خلیاتی زہر انڈیلنے کے علاوہ بھی حکمتِ عملی اپنائی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہگنز نے مردانہ ہارمون اور پروسٹیٹ کینسر کا تعلق تلاش کیا تھا، اس سے ایک اور سوال پیدا ہوتا تھا۔ ایسٹروجن خواتین میں اووری سے پیدا ہوتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ہارمون چھاتی کے کینسر کا ایندھن ہو؟
ایک اور غیرحل شدہ مسئلہ “بیٹسن کا معمہ” تھا۔ کچھ خواتین میں اووری نکال دینے سے چھاتی کا کینسر سکڑ جاتا تھا جبکہ کچھ میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ایسا کیوں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہگنز کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان کیمسٹ ایلوڈ جینسن تھے جو ایسٹروجن کی فزیولوجی پر کام کر رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ ہارمون عام طور پر ٹارگٹ خلیے میں کسی ریسپٹر کے ساتھ چپک کر کام کرتے تھے لیکن ایسٹروجن کا ریسپٹر نہیں مل رہا تھا۔ 1968 میں تابکار ہارمون سے کئے گئے تجربے سے انہوں نے یہ ریسپٹر تلاش کر لیا۔ یہ مالیکول ایسٹروجن کے ساتھ چپکتا تھا اور خلیے کو اس کا سگنل بھیجتا تھا۔
جینسن کا سوال تھا کہ “کیا چھاتی کے کینسر کے خلیات میں بھی یہ ریسپٹر پایا جاتا ہے؟”۔ غیرمتوقع طور پر اس کا جواب یہ تھا کہ کچھ میں پایا جاتا ہے جبکہ کچھ میں نہیں۔
اور چھاتی کے کینسر میں یہ دونوں الگ قسم کے کیسز تھے۔ ایک وہ جن میں اس ریسپٹر کی سطح بلند تھی۔ یہ ای آر مثبت ٹیومر تھے۔ جبکہ دوسرے جن میں یہ سطح کم تھی اور یہ ای آر منفی ٹیومر تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جینسن کا مشاہدہ بیٹسن کے معمے کا ایک ممکنہ حل تجویز کرتا تھا۔ شاید ایسا تھا کہ ای آر مثبت ٹیومرز کے لئے ایسٹروجن کی بھوک برقرار تھی۔ جبکہ ای آر منفی ٹیومر ریسٹر سے اور ایسٹروجن پر انحصار سے نجات پا چکے تھے۔ اس وجہ سے انہیں بیٹسن کے اووری نکال دینے کے آپریشن سے فرق نہیں پڑتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تھیوری کو ثابت کرنے کا طریقہ تجربہ کرنا تھا۔ بیٹسن سرجری کو ای آر مثبت اور منفی ٹیومرز پر کیا جائے اور دیکھا جائے کہ آیا ریسپٹر موجود ہونے کا تعلق سرجری سے ریسپانس دینے سے ہے یا نہیں لیکن اس وقت سرجیکل پروسیجر کرنا ترک کیا جا چکا تھا۔
اس کا متبادل ایسی دوا دینا تھا جو ایسٹروجن بننے کو روک سکے لیکن ایسی کوئی دوا جینسن کے پاس نہیں تھی۔
اینٹی ایسٹروجن بنانے یا اس پر تحقیق کرنے میں دلچسپی نہیں تھی۔ اور کینسر پر تحقیق کا مطلب صرف نیا سائیکوٹوکسن بنانا سمجھا جاتا تھا۔ کینسر کے لئے ہارمونل تھراپی پر توجہ دینا؟ اس وقت میں رائج خیالات میں یہ وقت، پیسے اور محنت کا ضیاع تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اس میں کامیابی ایک غیرمتوقع راستے سے ہوئی۔ یہ ایک ناکام ہو جانے والی مانع حمل دوا سے ہوئی،
(جاری ہے)  




متعلقہ ٹیگز اور موضوعات:

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں (آپ کی دلچسپی کی خاص خبریں)

پسرور، پاکستان اور گردونواح کی اہم اور مقبول خبریں جو قارئین کی توجہ کا مرکز ہیں

تمام خبریں دیکھیں
25 جولائی 2026•Mian Ashfaq

دیوان بہادر ایس۔ پی۔ سنگھا ایک ایسا رہنما جسے تاریخ نے کم یاد رکھا

دیوان بہادر ستیہ پرکاش سنگھا، معروف بہ نام ایس۔ پی۔ سنگھا، پسرور میں پیدا ہونے والے ماہرِ تعلیم، قانون دان، منتظم اور پارلیمانی رہنما تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی 1933ء کی سرکاری تاریخ

27 جنوری 2026•Mian Ashfaq

شہریوں کا پسرور میں اندرونِ شہر ون وے ٹریفک نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

پسرور شہر کی اندرونی سڑکوں پر روز بروز بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنگ سڑکوں پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے آئے روز لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے نہ صرف ب...

3 فروری 2025•Mian Ashfaq

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان

پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ابتر حالت، پلاٹ مالکان پریشان پسرور: گورنمنٹ آف پنجاب کے محکمہ ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ سکیم کے تحت قائم کردہ پسرور 3 مرلہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی موجودہ حالت...

26 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پسرور: دہائیوں پرانی پینے کے پانی کی پائپ لائن ناکارہ، شہری مضر صحت پانی کے باعث بیماریوں کا شکار

پسرور (نمائندہ خصوصی) پسرور میں دہائیوں پہلے نصب کی گئی پینے کے صاف پانی کی پائپ لائن مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے اور مرمت کے قابل بھی نہیں رہی۔ خراب پائپ لائن کی وجہ سے شہریوں کو...

14 جنوری 2025•Mian Ashfaq

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں اربوں ڈالر کے سونے کے ذخائر ملنے کا دعویٰ

پنجاب میں اٹک کے قریب دریائے سندھ میں 28 لاکھ تولہ سونے کے ذخائر موجود ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، ان ذخائر کی مالیت 800 ارب روپے یا 2 ارب 87 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق ...

13 جنوری 2025•Mian Ashfaq

محسن نقوی کی خواجہ آصف سے ملاقات، سیالکوٹ کے کرکٹ مسائل پر گفتگو

سیالکوٹ: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی آج سیالکوٹ میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کی رہائش گاہ پہنچے۔ سابق نگراں وزیر اطلاعات عامر میر اور سابق وزیر کھیل وہا...