اہم خبریں
25 نومبر 2021Mian Ashfaq
زبان (Language):🇵🇰 اردو میں پڑھیں
شادی میں بجنے والے میوزک سے 63 مرغیاں ہلاک، مالک کا الزام
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
اشتہار بک کروائیں
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (248 الفاظ)
ڈاکٹر نے رنجیت کمار کو بتایا کہ مرغیوں کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی (فائل فوٹو: پکسابے)
انڈیا میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایک روایتی شادی میں بجنے والے تیز میوزک، ڈھول باجے اور آتش بازی کی وجہ سے 63 مرغیاں مر گئیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رنجیت کمار نے بتایا کہ اتوار کی رات ان کے پولٹری فارم کے قریب سے گزرتے ہوئے بارات میں کانوں کو پھاڑ دینے والا میوزک بجایا جا رہا تھا۔
’میں نے بینڈ والوں سے کہا کہ میوزک کی آواز کم کریں کیونکہ مرغیاں ڈر رہی تھیں، لیکن انہوں نے میری ایک نہیں سنی، بلکہ دلہے کے دوست الٹا مجھ پر چلائے۔‘
جانوروں کے ڈاکٹر نے رنجیت کمار کو بتایا کہ مرغیوں کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی جس کے بعد انہوں نے شادی کے منتظمین سے ہرجانے کا مطالبہ کیا اور ایسا نہ کرنے پر پولیس کو درخواست دے دی۔
زولوجی کے پروفیسر سوریا کانتا مشرا نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ ’تیز میوزک سے پرندوں میں دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘
’مرغیوں کا نظام ایسا ہے کہ میوزک سے پیدا ہونے والے اچانک سٹریس سے ان کا بائیولوجیکل کلاک متاثر ہوتا ہے۔
اس کہانی کا انجام یہ ہوا کہ دونوں فریقین نے پولیس کے جھنجھٹ سے بچنے کے لیے مل بیٹھ کر معاملہ طے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
پولیس انچارج کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کارروائی شروع نہیں کی کیونکہ پولٹری فارم کے مالک نے درخواست واپس لے لی ہے۔‘
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اشتہار بک کروائیں



