الیکشن کمیشن
3 نومبر 2021Mian Ashfaq
زبان (Language):🇬🇧 Read in English (انگریزی ترجمہ)
جمشید اقبال چیمہ نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا فیصلہ چیلنج کردیا
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
اشتہار بک کروائیں
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (264 الفاظ)
(ویب ڈیسک) حلقہ این اے 133 کا ضمنی الیکشن کا معاملہ، ریٹرنگ آفیسر کے فیصلے کیخلاف ایپلٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا آج آخری روز، پی ٹی آئی کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ نے ریٹرنگ افسر کا کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا فیصلہ الیکشن اپلیٹ ٹربیونل میں چیلنج کردیا۔
تحریک انصاف کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف مبین الدین قاضی اور رانا عبدالشکور ایڈووکیٹ کی وساطت سے اپیل کی، جس میں ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر این اے 133، شائستہ پرویز ملک اور اعتراض کرنیوالے امیدواروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ کاغذات نامزدگی قانون کے مطابق درست ہیں، ریٹرنگ افسر نے تجویر کنندہ بلال حسین کا حلقہ این اے 133 نہ ہونے کی بناء پر کاغذات مسترد کیے، تجویز کنندہ اور اس کی فیملی کا تعلق حلقہ این اے 133 سے ہی ہے، تجویز کنندہ کا شناختی کارڈ، ڈومسائل کے مطابق اسی حلقہ کا ہے، یوسی چئیرمین کا سرٹیفکیٹ بھی موحود ہے، امیدوار کے تجویز کنندہ کیلئے اس حلقہ کی کسی وارڈ یا مردم شماری کے شماریاتی کوڈ نمبر کا ہونا لازم ہے۔
اپیل میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ووٹرز لسٹ میں تجویز کنندہ اسی حلقہ کا رہائشی ہے لیکن مردم شماری کے شماریاتی کوڈ میں نام نہیں،۔ ووٹرز لسٹ کے مطابق مردم شماری کے شماریاتی کوڈ میں نام نہ آنا الیکشن کمیشن کی تکنیکی غلطی ہے، الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت تجویز کنندہ کا امیدوار کے حلقے سے ہونا ضروری نہیں، سپریم کورٹ نے کئی فیصلے دیئے جس میں دوسرے حلقہ کے ووٹر کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی۔
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اشتہار بک کروائیں



