اہم خبریں
4 دسمبر 2021Mian Ashfaq
زبان (Language):🇵🇰 اردو میں پڑھیں
سیالکوٹ واقعہ: مولانا طارق جمیل کے بعد مفتی تقی عثمانی کا اہم بیان سامنے آ گیا
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
اشتہار بک کروائیں
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (273 الفاظ)
نامور عالم دین مولانا طارق جمیل کے بعد شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی نے بھی سیالکوٹ میں غیر ملکی فیکٹری منیجر کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
صدر مملکت، وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزراء اور آرمی چیف سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے سیالکوٹ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
گزشتہ روز نامور مبلغ مولانا طارق جمیل نے بھی سیالکوٹ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ناموسِ رسالت ﷺ کی آڑ میں غیر ملکی کو زندہ جلا دینے کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔
مولانا طارق جمیل نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ محض الزام کی بنیاد پر قانون ہاتھ میں لینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
اب اس حوالے سے شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ توہين رسالت ﷺ سنگین جرم ہے لیکن اس کے ارتکاب کے ثبوت بھی اتنے ہی مضبوط ہونے ضروری ہیں۔
مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ کسی پر توہین رسالت ﷺ کا سنگین الزام لگاکر سزا دینے کا کوئی جواز نہیں ہے، سیالکوٹ واقعے نے مسلمانوں کی بھونڈی تصویر دکھا کر ملک و ملت کو بدنام کیا۔
توهين رسالت انتہائی سنگین جرم ہے لیکن ملزم سے اسکے ارتکاب کے ثبوت بھی اتنے ہی مضبوط ہونے ضروری ہیں کسی پر یہ سنگین الزام لگا کر خود ہی اسے وحشیانہ اور حرام طریقے سے سزا دینے کاکوئی جواز نہیں سیالکوٹ کے واقعے نےمسلمانوں کی بھونڈی تصویر دکھاکر ملک وملت کو بدنام کیا ہے اناللہ
— Muhammad Taqi Usmani (@muftitaqiusmani) December 4, 2021
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اشتہار بک کروائیں


