اہم خبریں
20 دسمبر 2021Mian Ashfaq
زبان (Language):🇬🇧 Read in English (انگریزی ترجمہ)
ایک دن میں کتنے ڈالر خرید سکتے ہیں؟ پابندیاں لگ گئیں
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
اشتہار بک کروائیں
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (279 الفاظ)
ویب ڈیسک : کوئی فرد ایک روز میں 10 ہزار ڈالرز اور سال میں ایک لاکھ ڈالرز یا اس کے برابر دیگر کرنسی نہیں خریدے گا۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ’ترمیم کا مقصد غیر ملکی زرمبادلہ کے قواعد کو مزید مضبوط کرتے ہوئے اسے مرکزی دھارے اور چھوٹی (کیٹیگری بی) ایکسچینج کمپنیز کیلئے دستاویزی اور شفاف بنانا ہے‘۔
ترمیم مرکزی بینک کے قواعد میں موجود چیپٹر 3 کے پیراگراف 9 اور چیپٹر 8 کے پیراگراف 12 میں ایکسچنج کمپنیوں کے بزنس کے حوالے سے دی گئی ہدایات کے مطابق کی گئی ہیں۔ان ترامیم کے مطابق تمام ایکسچینج کمپنیاں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی شخص ایک روز میں 10 ہزار ڈالرز سے زیادہ اور ایک سال میں ایک لاکھ ڈالرز سے زیادہ غیر ملکی کرنسی نقد یا ترسیلات کی صورت میں نہیں خرید سکتا۔
تاہم نئے قواعد کے مطابق کوئی بھی شخص اب بھی تعلیمی اور طبی اخراجات کے طور پر سالانہ بالترتیب 70 ہزار اور 50 ہزار ڈالر بینک کی انوائس پر بھیج سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک ہزار ڈالرز سے زائد غیر ملکی کرنسی پر ایکسچینج کمپنیاں لین دین کا مقصد بیان کرنے والی معاون دستاویزات بھی حاصل کریں گی، اس کے علاوہ کمپنی، حکام کے لیٹر کے بغیر لین دین کی مجازی نہیں ہوں گی۔ ایس بی پی کا کہنا ہے کہ یہ حد غیر ملکی کرنسی کے حوالے سے ایک شخص کی انفرادی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے طے کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق’کمپنیاں صرف آؤٹ لیٹس سے ہی لین دین کی خدمات سرانجام دے سکتی ہیں، اس کے علاوہ انہیں صارفین کے گھر تک رقم کی ترسیل کی اجازت نہیں ہوگی۔
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اشتہار بک کروائیں



