اسلام آباد
14 فروری 2022Mian Ashfaq
زبان (Language):🇵🇰 اردو میں پڑھیں
پرویزمشرف کے اثاثوں کی انکوائری کاکیس نیب کیلئےایک ٹیسٹ کیس ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور کا نمبر 1 ڈیجیٹل پورٹل - اشتہار کی جگہ
یہاں اپنا اشتہار یا بینر لگانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں
اشتہار بک کروائیں
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (192 الفاظ)
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پرویز مشرف کے خلاف اثاثوں کی انکوائری کے معاملے پرچیئرمین نیب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پرسماعت ہوئی ۔
نیب کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عدالتی حکم پر 2018میں ہی انکوائری شروع کردی گئی تھی، بیرون ملک سےایم ایل اےکاجواب موصول ہونےکاانتظارہے،ایم ایل ایزکےجواب ملنےپرکارروائی کرنےیانہ کرنےکافیصلہ ہوگا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ پرویزمشرف کیخلاف کب تک انکوائری مکمل ہوسکتی ہے؟، نیب کی جانب سے جواب دیا گیا کہ پرویزمشرف کی 29جائیدادوں کی انکوائری کی جارہی ہے، ایک ماہ تک ہم رپورٹ عدالت کےسامنےپیش کردیں گے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پرویزمشرف پبلک آفس ہولڈرتھے، پرویزمشرف کاکیس نیب کیلئےایک ٹیسٹ کیس ہے، نیب عوام کوجوابدہ ہے، ان کااعتمادبحال کرے، نیب کی انکوائریاں اتنےسال کیوں زیرالتوارہتی ہیں، کیا ایم ایل اے کا جواب آنے میں اتنے سال لگتے ہیں ۔ نیب کی جانب سے بتایا گیا کہ کئی بارتوبیرون ملک سےہمیں جواب دیاہی نہیں جاتا۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت سے کہا کہ نیب کاجواب ان کی جانب سےتاخیرکااعتراف ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم نیب کی تفتیش میں مداخلت نہیں کریں گے۔
- اسپانسرڈ اشتہار / Advertisement -
پسرور اور سیالکوٹ کے لیے سپانسرڈ بینر اسپیس
سیالکوٹ اور پنجاب بھر میں اپنے برانڈ کو نمایاں کریں
اشتہار بک کروائیں



