منگل، 20 اکتوبر 2026ء9 جمادی الاول، 1448 ہجریھ4 کاتک 2083 بکرمی
پسرور

اپنا پسرور

pasrur.pk
شہرِ پسرور (Pasrur)ضلع سیالکوٹ
23°C صاف•لائیو اپڈیٹس
اہم خبریں
28 جولائی 2022Mian Ashfaq

من پسند ججز کے تقرر پر چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن میں ناکامی کا سامنا

من پسند ججز کے تقرر پر چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن میں ناکامی کا سامنا
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (220 الفاظ)
پاکستان کی اعلی عدلیہ میں ججز کے تقرر کے جوڈیشل کمیشن کے طویل اجلاس کے دوران من پسند ججز کے تقرر پر چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے.

جمعرات کو اس اجلاس میں عدالت عظمیٰ میں پانچ ججز لگانے پر بحث ہو ئی۔
جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پانچ ججز کو ہائیکورٹس سپریم کورٹ میں لانے کے لیے نامزد کیا جن پر وکلا تنظیموں اور کمیشن کے بعض ممبران کو اعتراض تھا۔
جوڈیشل کمیشن کے پانچ ارکان نے سپریم کورٹ میں جونیئر ججز کے تقرر کی مخالفت کی.
ان ممبران میں جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس جسٹس سردار طارق مسعود، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف، وزیر قانون اعظم نزید تارڑ اور نمائندہ پاکستان بار کونسل ایڈووکیٹ اختر حسین شامل ہیں.
گزشتہ اجلاس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال اپنی مرضی کے ججز کے ناموں پر جوڈیشل کمیشن میں اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔
چیف جسٹس نے پشاور اور لاہور ہائیکورٹ سے ایک، ایک جبکہ سندھ ہائیکورٹ سے تین ججز کو سپریم کورٹ لانے کے لیے نام تجویز کیے ۔
کمیشن کے کُل نو ارکان ہیں۔ چیف جسٹس چیئرمین جبکہ تین سینیئر ججز کے علاوہ ایک ریٹائرڈ جج، وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور بار کونسل کے نمائندے بھی جوڈیشل کمیشن میں تجویز کردہ ناموں پر بحث کرتے ہیں۔