منگل، 20 اکتوبر 2026ء9 جمادی الاول، 1448 ہجریھ4 کاتک 2083 بکرمی
پسرور

اپنا پسرور

pasrur.pk
شہرِ پسرور (Pasrur)ضلع سیالکوٹ
23°C صاف•لائیو اپڈیٹس
اہم خبریں
1 اگست 2022Mian Ashfaq

صرف11 ارکان کے استعفے کیوں منظور کیے؟ پی ٹی آئی ہائیکورٹ پہنچ گئی

صرف11 ارکان کے استعفے کیوں منظور کیے؟ پی ٹی آئی ہائیکورٹ پہنچ گئی
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (238 الفاظ)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے 11 ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی ہے۔

پیر کو سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کےرہنما اسد عمر نے اسلام آباد میں ہائیکورٹ میں استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کے پاس کون سا اختیار ہے کہ کچھ استعفے منظور کرے، پی ٹی آئی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہتی تھی، اس لیے استعفے دیے گئے تھے۔‘

الیکشن کمیشن پر الزام لگاتے ہوئےاسد عمر نے کہا کہ ’وہ ویسے بھی پی ڈی ایم کا حصہ بن چکا ہے اب اس کو باقاعدہ طور پر انتخابی نشان کا اعلان بھی کر دینا چاہیے۔‘

اسد عمر نے الیکشن کمیشن کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا ’یہ صرف ہماری رائے نہیں، دو اسمبلیوں میں قراردادیں آ چکی ہیں کہ یہ اب سیاسی فریق بن چکا ہے جو ناقابل قبول ہے۔‘

اسد عمر نے کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ’سازش کے ذریعے مرضی کے استعفے منظور کیے گئے۔‘

انہوں نے الیکشن کمشن کو تنقید کا نشانہ بناتے اور سیاسی فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو اب انتخابی نشان رجسٹر کروا لینا چاہیے۔

اسد عمر نے دعوٰی کہا کہ عدالت پہلے بھی الیکشن کمیشن کے کئی فیصلے مسترد کر چکی ہے۔