منگل، 20 اکتوبر 2026ء9 جمادی الاول، 1448 ہجریھ4 کاتک 2083 بکرمی
پسرور

اپنا پسرور

pasrur.pk
شہرِ پسرور (Pasrur)ضلع سیالکوٹ
23°C صاف•لائیو اپڈیٹس
اسلام آباد
22 اگست 2022Mian Ashfaq

بھوک ہڑتال پر ہوں مگر زبردستی کھانا کھلایا گیا ، باندھ کر زبردستی میری شیو کی گئی ، شہباز گل کا عدالت میں بیان

بھوک ہڑتال پر ہوں مگر زبردستی کھانا کھلایا گیا ، باندھ کر زبردستی میری شیو کی گئی ، شہباز گل کا عدالت میں بیان
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (345 الفاظ)
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بغاوت پر اکسانے کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پہنچا دیا گیا ، شہباز گل نے کہا کہ میں بھوک ہڑتال پر ہوں مگر مجھے زبردستی کھانا کھلایا گیا ، باندھ کر زبردستی میری شیو کی گئی۔

بغاوت پر اکسانے کے کیس میں شہباز گل کو پولیس پمز ہسپتال سے لے کر اسلام آباد کچہری پہنچی جہاں شہباز گل کی جانب سے 5 وکلاء نے وکالت نامے پر دستخط کئے ۔ دوران سماعت جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو پیش کر دیا گیا مگر فائل نہیں ہے ، کون لیکر آیا ہے؟ ، شہباز گل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس کاریکارڈ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہے ، وہاں پر فیصلہ محفوظ ہوا ہے ، ہماری استدعا ہے کہ کیس کی سماعت میں وقفہ کیا جائیگا۔


شہباز گل نے عدالت میں کہا کہ ایس پی نوشیروان مجھے لیکر آئے ہیں،کہا کہ آپ کی ضمانت ہو گئی ہے ،مجھے سکرین شارٹ دکھایا گیا اور کہا گیا ضمانت ہو گئی مچلکے جمع کرانے ہیں ، نجی گاڑی میں مجھے بٹھایا گیا اور ادھر لے آئے، گزشتہ رات سے دیکھیں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے، گزشتہ رات سے میں بھوک ہڑتال پر ہوں ،مجھ سے کسی کو ملنے نہیں دیا جا رہا، گزشتہ رات 12 لوگ کمرے میں آئے مجھے پکڑا اور زبردستی کیلا دیا اور جوس پلایا، گزشتہ رات 3 بجے پھر 6 سے 7 لوگ آئے مجھے کھانا کھلانے کی کوشش کی گئی، 10سے 12لوگوں نے مجھے زبردستی باندھ کر میری شیو کی۔
جج نے شہباز گل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے ڈاکٹرز کو دکھایا ،ہم تو میڈیکل نہیں بتا سکتے،اس کا یہ مطلب تو نہیں آپ بھوک ہڑتال پر چلے جائیں۔ شہباز گل کے وکلاء نے کہا کہ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ وکلاسے ملنے کی اجازت دی جائے مگر ہم کو نہیں ملنے دیا جا رہا۔

جج نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ کدھر ہے اس کو دیکھ کر حکم دوں گا۔