منگل، 20 اکتوبر 2026ء9 جمادی الاول، 1448 ہجریھ4 کاتک 2083 بکرمی
پسرور

اپنا پسرور

pasrur.pk
شہرِ پسرور (Pasrur)ضلع سیالکوٹ
23°C صاف•لائیو اپڈیٹس
اہم خبریں
10 دسمبر 2022Mian Ashfaq

بلوچستان میں معدنیات نکالنے کے لیے ریکوڈک کا نیا معاہدہ درست: سپریم کورٹ

بلوچستان میں معدنیات نکالنے کے لیے ریکوڈک کا نیا معاہدہ درست: سپریم کورٹ
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (223 الفاظ)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بلوچستان میں معدنیات کی تلاش کے حوالے سے نئے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دے دیا۔

جمعے کو صدر مملکت کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی نے 13 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ سنایا۔

عدالت کے مطابق اس ریفرنس میں صدر مملکت نے دو سوالات پوچھے تھے۔ آئین پاکستان خلاف قانون قومی اثاثوں کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے مطابق بین الاقوامی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی۔

بلوچستان اسمبلی کو بھی معاہدے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نئے ریکوڈک معاہدے میں کوئی غیر قانونی بات نہیں اور ریکوڈک معاہدہ ماحولیاتی اعتبار سے بھی درست ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور بیرک گولڈ کمپنی کے صدر مسٹر مارک برسٹو نے ریکو ڈک کے حوالے سے نئے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

ریکوڈک کا نیا معاہدہ اس منصوبے پر ماضی میں کام کرنے والی ٹھیتیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے دو شراکت داروں میں سے ایک کے ساتھ کیا جارہا ہے اور اس میں پچاس فیصد حصہ کمپنی کا جبکہ باقی پچاس فیصد حصہ وفاقی اور بلوچستان حکومت کا ہوگا۔