منگل، 20 اکتوبر 2026ء9 جمادی الاول، 1448 ہجریھ4 کاتک 2083 بکرمی
پسرور

اپنا پسرور

pasrur.pk
شہرِ پسرور (Pasrur)ضلع سیالکوٹ
23°C صاف•لائیو اپڈیٹس
اہم خبریں
29 دسمبر 2022Mian Ashfaq

سپریم کورٹ کا ڈیم فنڈ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیف جسٹس کو خط

سپریم کورٹ کا ڈیم فنڈ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیف جسٹس کو خط
مطالعہ کا وقت: تقریباً 2 منٹ (221 الفاظ)

پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ حکام اور اہلکار وزارتوں سے رشوت مانگتے ہیں۔

بدھ کو چیئرمین نور عالم خان کی زیرِصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

پی اے سی نے ملک کے پانچ بڑے آبی منصوبوں کے فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ڈیم فنڈز کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا جائے گا.

پی اے سی کے چیئرمین نے کہا کہ کچھ وزارتوں اور محکموں نے ان سے رابطہ کر کے شکایت کی ہے کہ آڈٹ اہلکار وصولیوں یا دستاویزات کی تصدیق کے مرحلے میں رشوت مانگتے ہیں۔

پی اے سی نے نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ تمام وزارتوں کو خط لکھے جائیں گے جن میں وزارتوں سے کہا جائے گا کہ آڈٹ حکام، کسی بھی وزارت یا محکمے کے افسر سے فیور مانگیں تو فوری پی اے سی کو اطلاع دی جائے۔

اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو ہدایت کی کہ آڈٹ کے لیے 20 یا 21 گریڈ کے افسر کو بھیجا جائے۔

پی اے سی اجلاس کے دوران وزارت آبی وسائل کی آڈٹ رپورٹ 2019-20 کا جائزہ لیا گیا۔ جس کے جائزے کے دوران پی اے سی نے ڈیمز کی تعمیر سمیت پانچ منصوبوں کے فرانزک آڈٹ کی ہدایت کر دی۔


متعلقہ ٹیگز اور موضوعات: